علمائے دین اور مفکرین
ذکی الرحمٰن غازی مدنی جامعۃ الفلاح، اعظم گڑھ
ادھر کچھ عرصے سے ایک بڑا مسئلہ پیدا ہوا ہے جس کی وجہ سے خاصہ کنفیوزن پایا جاتا ہے۔ علمِ دین کی گہری کتابوں سے بے اعتنائی اور بے توجہی توپہلے ہی عام تھی، مگر اب فکری کتابوں اور مضامین کے سیلاب نے معاملہ بالکل تلپٹ کر دیا ہے۔ اچھے خاصے لوگ علمائے دین اور مفکرین کے درمیان خلطِ مبحث کر دیتے ہیں۔علمِ شریعت اور دیگر علوم کے درمیان فرق اور امتیاز کی بات ذہنوں سے فراموش ہوگئی ہے۔ اس صورتِ حال کو پیدا کرنے میں بڑا ہاتھ دنیاوی علوم کو اسلامیانے (Islamisation)کی تحریک ودعوت کا ہے۔ مینیج منٹ، نفسیات، سماجیات،پرسنالٹی ڈیویلپمنٹ وغیرہ مختلف علوم وفنون کو دینی ملفوف (ریپر) میں لپیٹنے اور سجانے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس سلسلے میں -غلط یا صحیح- کتاب وسنت اور سیرت وتاریخ سے استدلال کیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ان علوم کے ماہرین اور شریعت کے ماہرین کو پہچاننے میں خاصا التباس پیدا ہوگیا ہے اور عام قارئین وطلبہ کے لیے صورتِ حال ایک طرح سے گڈمڈ ہوگئی ہے۔
جدید مفہوم میں فکرِ اسلامی کی پیدائش وافزائش کا سرا بعض محققین نے عالمِ اسلام پر مغرب کی سامراجی یلغار سے جوڑا ہے۔سامراجی طاقتوں نے مسلم ممالک کو فکری وذہنی غلامی کے پھندے میں پھانسنے کے لیے استشراق (Orientalism)کا سہارا لیاتھا۔ مستشرقین یعنی مشرقیات میں دادِ تحقیق دینے والے مغربی اسکالروں نے یہ مفوضہ ذمے داری بہ خوبی نبھائی۔ چنانچہ بحث وتحقیق کے نام پر اسلام اور اسلامی تعلیمات کے بارے میں شکوک وشبہات پھیلائے گئے اور مسلم سماج کی پس ماندگی کی بنیادی وجہ دین پسندی اور اسلام سے ربط وتعلق کو قرار دیاگیا۔
اس سازشی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے بہت سے غیرت مند مسلمان اٹھے۔ مگریہ لوگ بس اس قدر دینی معلومات رکھتے تھے کہ کائنات، انسان اور دنیاوی زندگی کے بارے میں انھیں اسلامی نقطۂ نظر یا دینی تصورات معلوم تھے۔ اس کے علاوہ انھیں مغربی دنیا کے حالات، بالخصوص دین اور سماجی زندگی میں تفریق پر مبنی نظریۂ زندگی یعنی لادینیت (سیکولرزم)کے بارے خاصی میں معلومات حاصل تھیں۔ ان لوگوں نے اپنے کاندھوں پر یہ ذمے داری اٹھائی کہ دین کا دفاع کریں گے،اسلام کی نشر واشاعت میں حصہ لیں گے اور عام مسلمانوں کو لادینیت کے خطروں سے ہوشیار کریں گے۔ان کے ارادے نیک تھے،مگر یہ لوگ علمائے دین نہیں تھے۔ جدید تعلیم یافتہ طبقے سے ان کا تعلق تھا۔
ان کے پاس قرآن وسنت کی نصوص کو کما حقہ سمجھنے اور نئے مسائل کے سلسلے میں ان سے استنباط واجتہاد کرنے کی پوری صلاحیت نہیں تھی۔ یہ لوگ نہیں جانتے تھے کہ نصِ شرعی کی کتنی حیثیتیں ہوسکتی ہیں اور کس انداز میں کسی نصِ شرعی کو دلیل بنایاجانا چاہیے۔ان حضرات کا میدانِ اختصاص تجرباتی علوم (مثلاً میڈیکل سائنس، انجینئرنگ وغیرہ) یا علومِ انسانیہ(مثلاً سائیکلوجی، ایجوکیشن وغیرہ) تھے۔یہ لوگ اسلام کے دفاع میں آگے آئے اور دینِ حق کے فضائل ومحاسن کو عصری زبان واسلوب میں بیان کرنا شروع کیا۔یہاں تک بات ٹھیک تھی، مگر پھر ان پر اپنے کاز کے تئیں جذباتیت اور انانیت غالب آگئی اور انھوں نے جدید مغربی ذہن کو مطمئن کرنے کے لیے دین میں پیوند کاری شروع کر دی اور ایسے افکار ونظریات پیش کرنا شروع کر دیے جو شرعِ محمدی سے کوئی میل نہیں کھاتے ہیں۔ چنانچہ ان کی مساعی سے فائدے کے بجائے الٹانقصان پہنچنے لگا۔
مولانا صدر الدین اصلاحی فرماتے ہیں: "جس طرح مسلمان ہونے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اسلام کیا ہے،اسی طرح یہ معلوم کرنااور پھر معلوم رکھنا بھی بہت ضروری ہے کہ اسلام کیا نہیں ہے۔ ورنہ صحیح اسلام کی صحیح اور بے آمیز حقیقت کی نہ حفاظت ممکن ہے اور نہ پیروی۔آج اسلام کی چند اچھی اور سچی باتیں معلوم کی جائیں گی،کل ان میں کچھ غیر اسلام کی باتیں آن شامل ہوں گی اور محسوس نہ ہوگا کہ زرِ خالص میں کھوٹ داخل ہوگیا ہے، کیونکہ جو غیرِ اسلام بھی مسلمانوں کے پاس آتا ہے وہ اپنی ننگی صورت میں نہیں آتا،بلکہ یا تو اسلامیت کا سوانگ بھر کر آتا ہے،یا رخصتوں کا لباس پہن کرآتا ہے۔
پچھلی امتیں اپنے اپنے انبیاء سے حقِ خالص پانے کے باوجود چند ہی پشتوں بعد گمراہ ہوگئیں، اس کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی۔ ان کے عوام دین کے علم سے قریب قریب بالکل کورے ہورہتے،اور اگر ان کو اس کا کچھ علم ہوتا بھی کہ حق کیا ہے تو اس سے تقریباً نابلد ہی ہوجاتے کہ حق کیا نہیں ہے۔نتیجہ یہ ہوتا کہ غیرِ حق یعنی غیرِ اسلام ان کے افکار،عقائد، شرائع اور اعمال میں بہ تدریج گھستا رہتا اور وہ ان سب کو عین دین سمجھ کر، یا کم از کم دین کے لیے قابلِ برداشت تصور کرکے اپنے سینے سے لگاتے رہتے تاآنکہ ایک صبح وہ آجاتی جس میں وہ اٹھتے تو اسلام کی طرف رخ کے بجائے ان کی پشت ہوتی۔اگرچہ وہ ابھی بھی یہی سمجھتے رہتے کہ ہم ٹھیک منزلِ حق کی طرف بڑھ رہے ہیں۔اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ غیر اسلامی افکار ونظریات سے واقف ہونا اور واقف ہوتے رہنا اور ان کی روک تھام کرنا کتنا ضروری ہے۔” (معرکہ اسلام وجاہلیت) پھر یہ ضرورت اس وقت بڑی شدید ہوجاتی ہے جب کہ اسلام کا لیبل لگا کر بہت سارے غیر اسلامی افکار کو سندِ قبول بخشا جارہا ہو۔
مولانا ابو الحسن علی الحسنی فرماتے ہیں:”انیسویں صدی کی ابتداء سے مغرب کے بڑھتے ہوئے سیاسی اقتدار،اس کے نمایاں مادی تفوق اور سائنس وتجربی علوم کے میدان میں اس کی پے درپے فتوحات کے اثر سے عالمِ اسلام میں اسلام کی عصری تشریح وترجمانی کا کام اگر پہلے مستحب تھا تو اب فرضِ کفایہ بن گیا۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں،بالخصوص جنہوں نے اس صدی کے آخر یا بیسویں صدی کے اوائل میں یورپ کا سفر کیا یا ان کو انگریز حکام یا مغربی دانشوروں سے واسطہ پڑا،ان میں کچھ لوگ اسلامی عقائد کے بارے میں متزلزل ہوگئے،بلکہ اسلام سے برگشتہ اور بیزار ہوگئے اور بڑی تعداد ذہنی وتہذیبی ارتداد کا شکار ہوگئی۔
اس وقت عالمِ اسلام کے مختلف گوشوں سے ایسے اہلِ قلم مفکرین میدان میں آئے جنہوں نے اس صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔یقینا یہ کام فائدے سے خالی نہیں ہے، مگر یہ کوششیں عام طور پر دفاعی اور معذرتی انداز کی ہیں۔ ان میں اسلام اور مغربی تہذیب اور اس کے مسلّمہ اقدار کے درمیان خلیج کو پاٹنے، یا کم کرنے کی کوشش نمایاں ہے۔مغرب کی سیاسی واقتصادی اصطلاحات کو بلا کسی تحفظ کے قبول کرنے اور ان کو اسلامی تعلیمات اور اسلامی تاریخ پر منطبق کرنے کا رجحان غالب ہے اور کہیں بعید از کار تاویلات،بلکہ اسلام اور اسلامی تعلیمات کی ایسی تشریح کے نمونے بھی نظر آتے ہیں جو ان کو مغرب کے مسلمہ حقائق سے زیادہ سے زیادہ مطابق ثابت کرتے ہیں۔”(عصرِ حاضر میں دین کی تفہیم وتشریح)
دین کو مغربی ذوق ونظر کے مطابق ڈھالنے کا یہ رجحان رفتہ رفتہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ اسلام کے بارے میں ایک عالم گیر علمی تحریف کا اندیشہ پیدا ہونے لگاہے۔مغربی حکومتیں ایسے لوگوں کی پشت پناہی کر رہی ہیں اور اونچے عہدے اور مناصب کے دروازے اُن کے لیے کھول دیے ہیں۔ اس گروہ کے افکار ونظریات کو جدید اسلامی فکر کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ آج ضرورت ہے کہ ان فکری مساعی کا صحیح اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جائزہ لیا جائے اور کھرے کو کھوٹے سے الگ کیا جائے۔چنانچہ اصلاح وتصحیح کے لیے حاملینِ کتاب وسنت علمائے کرام کھڑے ہوئے اور غلط افکار ونظریات پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے مسلم سماج کو شریعت سے جوڑنے اور ملت کو اس کے سرچشمۂ قوت یعنی قرآن وسنت سے مربوط کرنے کی کوشش کی۔
مگر مسلمانوں میں وہ مغرب نواز طبقہ جو دین کی بندشوں سے دوربھاگتا ہے اور نیکی اور خداترسی کی ظاہری علامتوں سے متنفر ہے ، انھیں علمائے دین کی یہ تنقید پسند نہیں آئی۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ مفکرین کا دیا ہوا نسخۂ اسلام ان کے لیے زیادہ سازگار اور قابلِ قبول ہے اور اس کے مقابلے میں تنگ ذہن اور کوتاہ نظر مولویوں کا دیا ہوا شریعت کا ورژن ناقابلِ برداشت ہے۔ان کے مطابق یہ جامد علماء جدید دور کے ہر مسئلے کو چودہ صدیوں پہلے نازل شدہ شرائع واحکام کی روشنی میں حل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بات ان کی نظر میں انہونی اور محال ہے۔
چونکہ ان مفکرین کا وجود عالمِ اسلام میں مغربی اثر ونفوذ کی دلیل ہے، اس لیے مغربی طاقتیں نیمے دروں نیمے بروں ان کی تائید بھی کرتی رہتی ہیں اور مقامی حکمرانوں سے ان کی امداد کراتی ہیں۔ ملکی اورعالمی ذرائعِ ابلاغ اور یہودی میڈیا ان مفکرین کے ناموں اور کارناموں کو حقیقی حیثیت سے زیادہ چمکاتا ہے اور ان کے مقابلے میں علمائے دین کی توہین وتذلیل کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ اربابِ فکر کو روشن خیال طبقہ اور علمائے دین کو بنیاد پرست طبقے کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ دین اللہ کا نازل کردہ دین ہے۔ اس کے اصول وکلیات حق تعالیٰ نے قرآن میں بیان کیے ہیں اور ان اصول وکلیات کی تشریح وتبیین اور پھر ان کی عملی تشکیل جناب نبیِ کریمﷺ نے اور آپؐ کی بخشی ہوئی تعلیمات کی روشنی میں خلفائے راشدینؓ اور حضراتِ صحابۂ کرامؓ نے کی ہے۔ دینِ اسلام اپنی علمی وعملی شکل میں اسی دائرے میں مکمل ہوگیا ہے۔ اس میں کمی اور زیادتی کی گنجائش اب نہیں ہے۔ اگر اس میں کمی کی گئی تو دین کو ناقص مانا گیا، اور اگر اس میں کچھ اضافہ کیا گیا تو وہ بدعت ہے اور ہر بدعت اللہ کے رسولﷺ کے فرمان کی رو سے ضلالت اور گمراہی ہے۔
یہ ایسی بات ہے کہ ہر مسلمان اسے جانتا ہے۔ اس کے لیے دلائل اتنے واضح اور متواتر ہیں کہ انھیں ذکر کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ اس سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ دین نقل وروایت پر مبنی ہے، یعنی جو کچھ رسول اللہﷺ ،خلفائے راشدینؓ اور حضراتِ صحابہؓ سے صحیح طور پر منقول ہے وہی دین ہے۔ اس کے علاوہ دین نے نام پر کچھ کیا جائے تو وہ محلِ تامل ہے اور اسے اتباعِ ہوائے نفس کہنا چاہیے۔ آج ہم جو دور اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور جن حالات سے گزر رہے ہیں اس میں ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اتباعِ ہویٰ یعنی اپنے ذاتی خیالات ونظریات کو دین کے رنگ میں پیش کرنے کی بلا عام ہوگئی ہے۔ وہ دین جو قرآن اور احادیث وآثار اور رسول اللہﷺ اور صحابۂ کرامؓ کی سیرتوں میں نظر آتا ہے اب اس پر اکتفا کرنا نفس پرستوں اور دنیا پسندوں کے لیے مشکل ہوگیا ہے۔ جو چیزیں اُن کی سیرتوں میں عام تھیں وہ اب کم ہوتی جارہی ہیں اور جن چیزوں کا ان کے حالات میں دوردور تک پتہ نہیں تھا ان کی بہتات دکھائی دے رہی ہے۔اور ایسا انفرادی طور پر نہیں ہورہا ہے، بلکہ جماعتیں اور تنظیمیں بنی ہوئی ہیں، مختلف تعلیمی ادارے موجود ہیں اور ہمہ وقتی تنخواہ دار افراد ہیں جو دین کے نام پر دین سے انحراف کا سبق پڑھارہے ہیں۔
اس تفصیلی گفتگو کا مقصد یہ ہے کہ طلبۂ علمِ دین بہ خوبی سمجھ لیں کہ عالمِ دین اور مفکر میں بڑا فرق ہ ہوتا ہے۔ کتاب وسنت کا علم ایک چیز ہے اور بدلتے افکار ونظریات کا علم دوسری چیز ہے۔ یہ باتیں بیان کرنا اس لیے ضروری ہے کہ آج کل مسلم نوجوانوں میں فکری کتابیں پڑھنے کا شوق عام ہے،بلکہ شاید ایک فیشن بن گیا ہے۔ بڑھ چڑھ کر نئی نئی باتیں پیش کرنے والے نام نہاد مجتہدوں اور مفکروں کی مسالے دارنگارشات پڑھی اور خریدی جاتی ہیں۔ مغربی مصنّفین کی کتابوں کے تراجم کے مطالعے پر بیش از بیش زور دیا جاتا ہے۔اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ بعض فکری وتحریکی حلقوں میں دین کی دعوت کا اسلوب وانداز بدل گیا ہے۔ قرآنی آیات اور احادیثِ نبویہ کے دلائل اب ان کے نزدیک -اگرمہمل نہیں تو- ثانوی اور غیر اہم ہوگئے ہیں۔مرجعیت کی حامل شخصیات کے اسماء وصفات بدل گئے ہیں۔ اب امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام سفیانؒ بن عیینہ، امام عبداللہ بن المبارکؒ وغیرہ کا زمانہ ختم ہوا۔اب فلاں مفکر اور فلاں دانشور اور فلاں اسکالر کا قول دلیل وبرہان ہے۔ حد یہ ہے کہ اسلام پسندی کا دعویٰ کرنے والے متعدد اربابِ قلم خود کو مولانا یا شیخ یا مفتی ومحدث کہلانے میں سبکی اور بے عزتی محسوس کرتے ہیں۔ انھیں مفکر، ڈاکٹر، انجینئر یا ایڈوکیٹ جیسے القاب وخطابات پسند آتے ہیں اور انھیں ہی وہ اپنے تعارف میں استعمال کرتے ہیں۔
اس رجحان کا سلبی اثر ہمارے نوجوانوں پر یہ پڑ رہا ہےکہ وہ علمائے دین اور فقہائے شرعِ متین کو اپنا آئیڈیل نہیں سمجھتے اور نہ آنے والی زندگی میں ان جیسا بننے اور دکھنے کی چاہ رکھتے ہیں۔ یہ طلبہ جب علومِ شرعیہ کی کتابیں دیکھتے ہیں تو محسوس کرتے ہیں کہ ان میں ان کے مطلب کی باتیں نہیں ہیں۔ انھیں جدید مفکرین ودانشوران کی کتابوں میں علمی غذا نظر آتی ہے۔رفتہ رفتہ ان مادہ پرست اور مغرب نواز مفکرین کے جراثیم ان میں بھی سرایت کر جاتے ہیں۔علمِ دین کی تعلیم وتحصیل کو معاشی نقطۂ نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اگر اس میں مادی منفعت دکھائی نہیں دیتی توحوصلہ اور شوق بھی بیدار نہیں ہوتا۔جدید مادی افکار ونظریات سے تاثر کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ہر کام دنیاوی سود وزیاں کی ترازو میں تولا جانے لگا ہے۔دینی علوم کا سیکھنا ایک عظیم عبادت تھا، مگر اب یہ ایک تجارتی مشغلہ بنادیا گیا ہے۔ظاہر سی بات ہے کہ عبادت کے تقاضے اور اس کے آثار کچھ اور ہوتے ہیں اور ذریعۂ معاش اور تجارت کے تقاضے اور اثرات دوسرے ہوتے ہیں۔اس رجحان کا لازمی اثر یہ ہے کہ علمِ دین کی حرمت وعظمت اور شوق ومحبت طلبہ کے دلوں سے نکل گئی۔ خالص عبادت کے نقطۂ نظر اور خدمتِ دین کے جذبے سے پڑھنے والے خال خال رہ گئے۔بس مادی فائدوں کے بیش وکم پر اور معاشی حسابات وامتحانات میں برومندی پر نگاہ آکر ٹک گئی ہے۔
میں طلبۂ عزیز اور نوجوان ساتھیوں سے بس یہ کہنا ہے کہ آپ میں سے جو بھی امت کی نصرت وحمایت کے لیے اٹھنا چاہتا ہے تو اسے لازماً اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبیﷺ کی سنت کی طرف لوٹنا ہوگا کیونکہ یہی دونوں عزت وشوکت کا اصل سرچشمہ ہیں۔ انہی کے زیرِ سایہ نوعِ انساں راحت وطمانیت پاسکتی ہے۔ ہماری ملت وہ ہے جسے اللہ نے اسلام کی دولت دے کر سربلندکیا، جسے قرآن کی نعمت دے کر معزز بنایا، جسے خاتم الانبیائﷺ کی امت بناکر عزت ورفعت بخشی۔ اگر ہم اللہ، اس کی کتاب اور اس کے رسولﷺ کی سنت سے منھ پھیر کر کسی دوسری جگہ سے شوکت وسطوت کے طلبگار ہوں گے تو اللہ کا حتمی وعدہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو دنیا میں بھی ذلیل وخوار کرے گا اور آخرت میں بھی سخت محاسبہ فرمائے گا۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین
