قصیدے کا فن اور ارتقاء
تحریر: احمد
قصیدے کی لغوی تعریف
لفظ قصیدہ عربی زبان کے لفظ ’’قصد‘‘ سے نکلا ہے،جس کے لغوی معنیٰ ہے ارادہ کرنا ہے۔اور چونکہ قصیدہ بالقصد کہا جاتا ہے بایں معنی قصیدہ کو اس سے مناسبت ہے۔ قصیدے کا ایک دوسرا معنیٰ ’’مغز‘‘ کے ہیں۔ یعنی قصیدہ اپنے موضوعات و مفاہیم کے اعتبار سے دیگر اصناف سخن کے مقابلے میں وہی مقام و مرتبہ رکھتاہے جو انسانی جسم و اعضاء میں سر یا مغز کو حاصل ہے۔
قصیدے کی اصطلاحی تعریف
اصطلاح میں قصیدہ ایسے صنف سخن کو کہتے ہیں جس میں کسی کی مدح یا ہجو کے علاوہ مختلف موضوعات پر منظوم کلام پیش کیا جائے۔ابن خلدون قصیدے کی تعریف میں لکھتاہے’’ قصیدہ ایک مفصل کلام ہے مختلف حصوں میں مساوی وزن میں ہوتا ہے۔ ہر جزو کے اخیر میں حروف متحد (ہم قافیہ) ہوتے ہیں، ان میں سے ہر قطعہ بیت (شعر) کہا جاتاہے ۔اور آخری حروف کو ردیف اور قافیہ کا نام دیا جاتا ہے۔ مکمل کلام کو شروع سے اخیر تک قصیدہ کہا جاتا ہے‘‘۔
ہیئتی اعتبار سے قصیدہ نظم کے مانند ہوتا ہے۔ جس طرح نظم میں خیالات و مضامین مربوط اور مسلسل ہوتے ہیں اسی طرح قصیدے میں بھی، مگر معانی و مفاہیم کے اعتبار سے قصیدہ عموماً چار اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے۔جو حسب ذیل ہیں:
(۱)تشبیب (۲) گریز (۳) مدح (۴) دعاء یا حسن طلب۔
مطلع: تشبیب سے پہلے مطلع کو سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ قصیدہ کا پہلا شعر مطلع کہلاتاہے۔ عام طور پر تشبیب کی ابتداء مطلع سے ہوتی ہے۔ مطلع کیلئے ضروری ہے کہ دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں۔ مطلع کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، مطلع کے حسن و قبح سے قصیدے کی خوبی یا خامی کا پتہ چلتاہے اس لئے قصیدہ نگار یہ کوشش کرتاہے کہ مطلع کے اشعار ایسے ہوں کہ سنتے ہی ممدوح ہمہ تن اس کی طرف متوجہ ہو جائے تاکہ بعد میں آنے والے اشعار پر اس کا خوشگوار اثر مرتب ہو۔ قصیدے میں ایک سے زائد مطلعے بھی ہو سکتے ہیں ایسے قصیدے کو جس میں ایک سے زائد مطلعے ہوں ذوالمطالع کہتے ہیں۔ قصیدے کے درمیان میں بھی مطلعے آسکتے ہیں۔ قصیدے کیلئے ردیف کی پابندی ضروری نہیں ہے۔
تشبیب
قصیدے کے وہ اشعار جو قصیدے کے ابتداء میں تمہید کے طور پر کہے جاتے ہیں تشبیب کہلاتے ہیں۔ اس کا دوسرا نام’’ نسیب‘‘ ہے۔ تشبیب کے اندر شاعر اپنے ممدوح کی توجہ اپنی طرف مبذول کرنے کیلئے اور اپنی علمی لیاقت و قابلیت کا اظہار کرنے کیلئے دلچسپ اور قابل توجہ مضامین کا انتخاب کرتا ہے، تاکہ اسے سن کر ممدوح پوری طرح شاعر کی طرف متوجہ ہو جائے اور شاعر اپنے مقصد کو رکھنے میں کامیاب ہو جائے۔ تشبیب کے اندر ہر طرح کے مضامین کی گنجائش رہتی ہے۔ تشبیب کی خوبی یہ ہے کہ اس میں بیان کردہ مضامین ممدوح کے شایان شان ہونے کے ساتھ ساتھ بعد میں آنے والے مدحیہ اشعار سے مناسبت بھی رکھتے ہوں۔ تشبیب کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
صبح دم دروازۂ خاور کھلا
مہر عالم تاب کا منظر کھلا
خسر و انجم کے آیا صرف میں
شب کو تھا گنجینۂ گوہر کھلا (غالب)
گریز
اس کے نام سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ شاعر تشبیب سے ہٹ کر اصل موضوع یعنی مدح کی طرف آنے کیلئے چند اشعار پڑھتا ہے جو گریز کہلاتے ہیں۔ گریز کی خوبی یہ ہے کہ شاعر ایسے شعر کا انتخاب کرے کہ یہ محسوس نہ ہو کہ شاعر زبردستی ممدوح کی تعریف کر رہا ہے،کیونکہ تشبیب اور گریز الگ الگ چیزیں ہیں، اس لئے اشعار ایسے ہوں کہ معلوم ہوکہ باتوں باتوں میں ممدوح کا ذکر آگیا ہے۔ گریز میں ایک سے دو اشعار ہوتے ہیں۔ مثلاً غالب اپنے ایک مدحیہ قطعہ میں اپنی تعریف کرنے کے بعد بہادر شاہ ظفر کی تعریف کیلئے اس طرح گریز کرتے ہیں:
کیا کم ہے یہ شرف کہ ظفر کا غلام ہوں
مانا کہ جاہ و منصب و ثروت نہیں مجھے
مدح
قصیدے کا تیسرا اور سب سے اہم رکن مدح ہے۔ قصیدے کا اصل مقصد ممدوح کی مدح کرنا ہوتاہے، گویا کہ تشبیب اور گریز مدح کیلئے مقدمہ کی کام کرتے ہیں۔ اس میں ممدوح کی ذات کے جملہ اوصاف کے ساتھ ساتھ اس کے جملہ متعلقات یعنی ساز وسامان، لاؤ لشکر وغیرہ کی تعریف بھر پور مبالغے کے ساتھ کی جاتی ہے، لیکن مدح میں چند چیزوں کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے مثلاً:
مدح میں حفظ مراتب کا خیال رکھنا یعنی جس کی مدح کی جائے وہ در حقیقت مدح کے قابل بھی ہو۔
مدح میں صرف سچ کہا جائے جھوٹ سے بالکلیہ اجتناب ہو۔
مدحیہ اوصاف بیان کرنے کا نداز ایسا ہو کہ ممدوح کےجذبات برانگیختہ ہوں۔
مرزا غالب کے وہ اشعار جو بہادر شاہ ظفر کی شان میں کہے گئے ہیں دیکھئے:
قبلۂ چشم و دل بہادر شاہ
مظہر ذوالجلال والاکرام
شہسوار طریقۂ انصاف
نو بہار حدیقۂ اسلام
جس کا ہر فعل صورت اعجاز
جس کا ہر قول معنی الہام
بزم میں میزبان قیصر و جم
رزم میں اوستاد رستم و سام
دعا یا حسن طلب
یہ قصیدے کا آخری اور اختتامیہ حصہ ہوتا ہے۔ اس میں شاعر اپنے ذاتی حالات اور اغراض و مقاصد کو بیان کرتا ہے۔ اس میں ممدوح کی صحت و تندرستی، درازیٔ عمر، شان و شوکت، مال و زر کی بڑھوتری اور ترقی وغیرہ کیلئے بزرگان دین کے وصیلے سے خدا تعالیٰ سے دعاء کرتاہے، اور انہیں دعائیہ اشعار پر قصیدے کا اختتام ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔
اگلی قسط میں قصیدے کا آغاز و ارتقاء اور ہندوستان میں قصیدے کی تاریخ پر روشنی ڈالی جائے گی ان شاء اللہ۔
نوٹ:۔ یہ مضمون نیٹ جے آر ایف،سیٹ،ٹیٹ وغیرہ امتحان میں پوچھے جانے والے سوالوں کے پیش نظر تیار کیا گیا ہے۔ اس طرح کے مزید مضامیں حاصل کرنے کیلئے لال رنگ کے گھنٹی والے نشان کو دبا کر ہماری ویب سائٹ ’’علم کی دنیا ‘‘ ilmkidunya.in کو سبسکرائب کر لیں تاکہ ہماری ہر اپڈیٹ آپ تک بذریعہ Notification پہنچ جائے۔ والسلام
