معتزلہ کے اصول خمسہ

(دوسری قسط)

معتزلہ کے اصولِ خمسہ

( Five Basic Principles of Motazala Sect)

ذکی الرحمٰن غازی مدنی
جامعۃ الفلاح، اعظم گڑھ

مرورِ ایام کے ساتھ معتزلہ کے اندر کئی ذیلی فرقے اور جماعتیں بنتی گئیں جن کی تعداد مورخین نے بائیس تک پہنچائی ہے۔ اصولی اور فروعی مسائل میں بھی ان کے درمیان شدید اختلاف برپا ہوا اور ہر ایک نے دوسرے کی تکفیر وتحمیق کی۔ تاہم ایک عقیدہ نما تصور سب کے یہاں قدرِ مشترک کا درجہ رکھتا ہے اور وہ ہے پانچ اصولوں کی حقانیت کا اعتراف۔

یہ پانچ اصول کیا ہیں؟پہلااصول توحید کا تصور ہے۔ یعنی اسی انداز اور طریقے پر وحدانیت کا اقرار کرنا جو جہمیہ فرقے نے متعارف کرایا ہے، بہ الفاظِ دیگر اسماء وصفات کی مطلق نفی کرکے۔

دوسرا عدلِ الٰہی کا وہی تصور جو قدریہ فرقے نے اختیار کیا تھا، یعنی اللہ کی لاعلمی کی وکالت کرنااور تقدیرِ الٰہی کا انکار کرنا۔

تیسر ا اصول وعد ووعید ہے۔چوتھا منزلہ بین المنزلتین کا اعتراف ہے، اور پانچواں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ اُسی انتہاپسندانہ طریقے پر انجام دینا جو خوارج کی نسبت سے مشہور ہے۔(الفرق بین الفرق:ص۱۱۲-۱۱۵۔ فرق معاصرۃ:۲/۸۲۲)

ان پانچ اصولوں کی یہ صورت گری ابو الحسن خیاط معتزلی نے کی تھی۔انھوں نے اپنی کتاب ’’الانتصار‘‘ میں لکھا ہے:’’لوگوں میں سے کوئی شخص بھی لقبِ اعتزال کا مستحق اسی وقت ہو سکتا ہے جب کہ وہ پانچ اصولوں کا اقرار کرے؛توحید، عدل، وعد ووعید، منزلہ بین منزلتین اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر۔اگر کسی آدمی کے اندر ان پانچ اصولوں کی پاسداری کا جذبہ پایا جاتا ہے تو وہ معتزلی ہے، ورنہ وہ معتزلی نہیں ہے۔‘‘(الانتصار:ص۱۸۸-۱۸۹)

ڈاکٹر محمد عمارہؒ لکھتے ہیں:’’اگرچہ اصولِ خمسہ کے نام سے ان پانچ باتوں کی شہرت بہت پھیل گئی ہے اور معتزلہ نے اپنے آپ کو اہلِ عدل اور اہلِ توحید کہنا شروع بھی کر دیا تھا اور یہی بات ان کی کتابوں میں بھی بہ کثرت ملتی ہے۔ لیکن امام قاسم بن ابراہیم بن اسماعیل الرسی (م: ۲۴۶ھ) جو ابو الہذیل علاف معتزلی کے معاصر ہیں، انھوں نے اصولِ خمسہ کچھ اور گنائے ہیں۔ ان کے مطابق معتزلہ کے امتیازی اصول چھے ہیں: توحید، عدل، وعد ووعید، منزلہ بین منزلتین، قرآن اور اس کی تائید کرنے والی سنت،اور چھٹے اصول کو ہم عدلِ اجتماعی کا نام دے سکتے ہیں، یعنی سماجی مقام اور معاشی مواقع کی فراہمی کے لحاظ سے سب کو یکساں حق دیا جائے۔”

“اسی طرح ایک دوسرے معتزلی مفکر احمد بن یحییٰ بن مرتضیٰ (م:۸۴۰ھ) نے ان اصولوں میں سے وعد ووعید ہٹا کر اس کی جگہ یہ اصول پیش کیا ہے کہ صحابۂ کرامؓ کے ساتھ ولایت کا تعلق رکھا جائے گا۔ حضرت عثمانؓ کے بارے میں رائے البتہ مختلف رہی ہے،بالخصوص ان کی خلافت کے آخری سالوں میں رونما ہونے والے واقعات کے تناظر میں۔ اسی طرح معاویہؓ اور عمروؓ بن العاص سے علانیہ برأت ظاہر کی جائے گی۔‘‘

ڈاکٹر محمد عمارہ آگے فرماتے ہیں:’’ہم معتزلہ کو اس نام سے پکارنے کے بجائے اہلِ عدل اور اہلِ توحید کہنا زیادہ پسند کریں گے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان اصولوں کے بارے میں خود معتزلہ کے اندر اختلاف رہا ہے اور یہ غیر مستبعد بات نہیں ہے۔ اگرچہ یہ بھی اپنی جگہ سچ ہے کہ خود معتزلہ کی اکثریت نے اپنے متفق علیہ اصولوں کو پانچ ہی بتایا ہے۔بہرحال اس سے یہ طے ہوجاتا ہے کہ معتزلہ کے درمیان صرف فروعی مسائل میں ہی اختلاف نہیں ہواہے، بلکہ ان اصولوں میں بھی اختلاف ہوا ہے جنھیں یہ متفق علیہ سمجھتے تھے۔‘‘(رسائل العدل والتوحید: ۱/۷۶- ۷۷۔ الخلافۃ ونشأۃ الأحزاب الإسلامیۃ:ص۱۸۶-۱۸۷،۱۹۶)

اب ذیل میں معتزلہ کے اصولِ خمسہ کا اعتزالی مفہوم اچھی طرح سمجھ لیجئے:

۱-توحید سے معتزلہ کی مراد صفاتِ باری تعالیٰ کی بحث ہے۔ یعنی یہ طے کرنا کہ کونسی صفت حق سبحانہ وتعالیٰ کے لیے ماننا ضروری ہے اور کونسی صفت اس کے لیے ممکن ہے اور کونسی محال ہے۔یہ گویا اللہ تعالیٰ سے بڑا بن کر یہ طے کرنا ہوا کہ وہ کیا ہو سکتا ہے اور اسے کیا نہیں ہونا چاہیے۔

اس اصول کی بنیاد پر معتزلہ نے اللہ تعالیٰ کی صفاتِ ازلیہ -علم، قدرت، حیاۃ، سمع وبصر وغیرہ- کا انکار کیا ہے۔ان کی دانست میں اللہ تعالیٰ اپنی ذات سے عالم،قادر، زندہ، سمیع اور بصیرنہیں ہے۔ ان کے نزدیک اللہ کی ذات بے صفات ہے۔ جو کچھ ہے بس اس کی ذاتِ محض ہے۔قرآن کی جن سیکڑوں، بلکہ ہزاروں آیات سے ان صفات کا اثبات ہوتا ہے، ان کی معتزلہ نے تاویل کر دی یہ کہہ کر کہ ان سے مخلوق کی مانند خالق کی صفات ثابت ہوتی ہیں، اس لیے ان کا اصل معنی مراد نہیں ہے۔جن صحیح احادیث سے اللہ جل شانہ کی صفات ثابت ہوتی ہیں، معتزلہ نے ان کا بھی انکارکر دیا۔

ان کی موہومہ دلیل بس یہ تھی کہ باری تعالیٰ کی کوئی بھی صفت ماننے سے تعددِ قدماء لازم آئے گا، یعنی ایک سے زیادہ وجودوں کو ازلی وابدی ماننا پڑے گا۔ ان عقل کے اندھوں کا فلسفہ یہ تھا کہ صفات ذات سے الگ وجود رکھتی ہیں،یعنی سورج الگ چیز ہے اور اس کی روشنی الگ چیز ہے۔ ایسا ممکن ہے کہ سورج نہ ہو،مگر اس کی روشنی رہے۔ یہ ان لوگوں کی عقلیت تھی۔ان کے نزدیک اللہ کی صفت مان لی جائے تو ہر صفت کو معبود بھی ماننا پڑے گا اور یہ شرک ہوگا۔ اپنے بنائے اس مخمصے سے نکلنے کے لیے انھوں نے صفات کی نفی کا راستہ اختیار کیا اور ہر صفت کو اس کی ذات ہی مانا۔چنانچہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ عالم بذاتہ ہے، قادر بذاتہ ہے وغیرہ وغیرہ۔اس انداز میں اللہ کی ذات کو ماننے سے معتزلہ کے نزدیک توحید مکمل ہوتی ہے۔

سچی بات یہ ہے کہ معتزلہ نے قرآن وسنت میں مذکور باری تعالیٰ کی صفات کی نفی کرکے، انھیں معطل قرار دے کر اور ان کی منچاہی تاویل کرکے وہی روش اپنائی ہے جو جہمیہ فرقے نے اپنائی تھی۔ انھوں نے اپنی توحید کے ذریعے سے دراصل جہمیہ کی تعطیل پسندی کا احیاء کیا ہے۔ اس لیے علمائے اہلِ سنت نے بجاطور پر ان لوگوں کو نئے جہمیہ یا جدید اہلِ تعطیل کا نام دیا تھا۔(فرق معاصرۃ:۲/۸۳۲-۸۳۳۔ فتح الباری:۱۳/۳۵۷۔ شرح الاصول:ص۱۹۷۔ ادب المعتزلۃ:ص۱۳۶۔ مقالات الإسلامیین:۱/ ۲۳۵۔ الملل والنحل:۱/۴۰۔موقف المعتزلۃ من السنۃ ومواطن انحرافھم عنھا:ص۳۳)

مگر معتزلہ کی یہ جرأت قابلِ داد یا شاید مضحکہ خیز ہے کہ شرمسار اور متاسف ہونے کے بجائے الٹا انھوں نے اپنے مخالفین، بالخصوص علمائے اہلِ سنت والجماعت کو تشبیہ کا قائل قرار دیا اور انھیں حشویہ (فضولیت پسند اور ظاہر پرست) کے لقب سے یاد کیا۔ حشویہ سے ان کی مراد یہ تھی کہ اہلِ سنت اللہ تعالیٰ کی ذات سے زائد صفات کو بھی مانتے ہیں، تو یہ گویا ان کا گناہ ہے۔اپنے آپ کو یہ لوگ فخر ومسرت سے اہلِ توحید اور اصحابِ تنزیہ کہتے تھے کیونکہ اپنی دانست میں انھوں نے اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کا انکار کرکے بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔ (فرق معاصرۃ:۲/۸۲۵)

۲-عدل سے ان کا مقصود باری تعالیٰ کے افعال وتصورات کی بحث ہے۔ یہ جملہ افعالِ کونیہ کو باری تعالیٰ سے منسوب کرتے ہیں اور انھیں ضد اور اصرار ہے کہ یہ سب حَسَن ہوتے ہیں۔ اللہ کا کوئی فعل قبیح نہیں ہوسکتا۔ یہ بات بہ ظاہر تو بہت اچھی لگتی ہے، مگر مسئلہ اس وقت پیداہوتا ہے جب اپنی پسند اورناپسند کو خالقِ کائنات پر لازم اور مسلط کیا جائے۔جو کام معتزلہ کی نگاہ میں حسن ہے اسے وہ لازماً ہستیِ باری سے منسوب کرتے ہیں اور جو ان کی نگاہ میں برا ہے اس کی لازماً نفی کر دیتے ہیں، چاہے وہ قرآن وسنت میں مذکور کیوں نہ ہو۔

اس عدل کے پردے میں انھوں نے بندوں کے افعالِ قبیحہ کے حدوث میں باری تعالیٰ کے کسی بھی قسم کے تصرف یا مداخلت کا انکار کر دیا۔ تقدیر کا عقیدہ اس کے خلاف جاتا ہے تو اس کا بھی انکار کر دیا۔ وہ مانتے تھے کہ بندہ ہر کام اپنی قدرت وطاقت سے کرتا ہے اور وہی اپنے فعل کا خالق ومالک ہے۔ بندہ کچھ کام کرنا چاہے تو اللہ روک نہیں سکتا اور نہ کرنا چاہے تو اللہ کرا نہیں سکتا۔اس لیے توفیقِ الٰہی کی بات کرنا حماقت ہے۔ بندہ جب تک کوئی کام نہیں انجام دے لیتا تب تک اس کا علم اللہ کو نہیں ہوتا ہے۔

ایک طرف وہ تقدیر اور ازلی علمِ الٰہی کی نفی کرتے تھے اور دوسری طرف یہ ایمان رکھنے کا دعویٰ بھی کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کی جملہ حرکات وسکنات سے واقف ہے اور اسی نے انھیں کوئی کام کرنے یا نہ کرنے کی طاقت دی ہے۔(فرق معاصرۃ:۲/۸۳۴۔ شرح الاصول:ص۳۰۱۔ الملل والنحل:۱/ ۴۱۔ الفصل فی الملل والنحل:۳/۱۶۴۔ المغنی فی ابواب التوحید والعدل:۳/۸)

معتزلہ نے عدلِ الٰہی کے اپنے خود ساختہ فہم کی بنیاد پر عقیدۂ تقدیر کا انکار کیا ہے۔اس انکار کی وجہ سے وہ قدریہ فرقے کے ہم نوا ہوگئے اور اسی نام سے موسوم بھی کیے جانے لگے۔ ان کے علاوہ انھیں قائلینِ ثنویت اور حاملینِ مجوسیت بھی کہا گیا ہے کیونکہ عدل کے اپنے اصول کی روشنی میں انھوں نے کہنا شروع کر دیا تھا کہ خیر اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور شر بندوں کی جانب سے۔ یہی بات دو خدائوں کے قائل مشرکین اور آتش پرست بھی کہا کرتے ہیں۔ معتزلہ نے پوری ڈھٹائی سے اپنے لیے اہلِ عدل کا لقب اختیار کیا کیونکہ وہ تقدیر کا انکار کرتے ہیں اور ان کے مخالفین اہلِ سنت والجماعت تقدیر پر ایمان رکھتے ہیں۔ معتزلہ کی طرف سے اہلِ سنت کے لیے “قدریہ” اور “مجبرہ” کے القاب استعمال ہوئے ہیں، یعنی وہ لوگ جو تقدیر کے قائل اور انسان کو مجبورِ محض مانتے ہیں۔(فرق معاصرۃ:۲/۸۲۴-۸۲۵۔ موقف المعتزلۃ من السنۃ:ص۳۱)

عدل کے اعتزالی تصور کی وجہ سے انھوں نے تقدیرِ خداوندی کا انکار کیااور ان قرآنی آیات کی تاویل کرنے لگے جن سے تقدیر کا اثبات ہوتا ہے۔ مثلاً یہ آیات:{اللّہُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ کُلُّ أُنثَی وَمَا تَغِیْضُ الأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَکُلُّ شَیْْء ٍ عِندَہُ بِمِقْدَار}(رعد، ۸) ’’اللہ ایک ایک حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے، جو کچھ اس میں بنتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اس میں کمی یا بیشی ہوتی ہے اس سے بھی وہ باخبر رہتا ہے۔ہر چیز کے لیے اس کے یہاں ایک تقدیر مقرر ہے۔‘‘

{وَإِن مِّن شَیْْء ٍ إِلاَّ عِندَنَا خَزَائِنُہُ وَمَا نُنَزِّلُہُ إِلاَّ بِقَدَرٍ مَّعْلُوم} (حجر،۲۱)’’کوئی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں اور جس چیز کو بھی ہم نازل کرتے ہیں تو ایک طے شدہ تقدیر کے تحت ہی نازل کرتے ہیں۔‘‘

{إِنَّا کُلَّ شَیْْء ٍ خَلَقْنَاہُ بِقَدَرٍ}(قمر،۴۹)’’ہم نے ہر چیز کو ایک تقدیر کے ساتھ پیدا کیا ہے۔‘‘

معتزلہ نے ایسی قرآنی آیات کی الٹی سیدھی تاویلیں کیں اور جن صحیح احادیث سے عقیدۂ تقدیر کا اثبات ہوتا ہے ان کا انکار کر دیا۔اس پر مزید گفتگو آگے آئے گی۔

۳-وعد ووعید سے معتزلہ کی مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اطاعت گزاروں کو اجر وثواب دینے کا وعدہ کیا ہے اور گناہ گاروں کو سزا دینے کی دھمکی سنائی ہے اور اللہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا وعدہ بھی پورا کرے اور اپنی دھمکی بھی سچ کر دکھائے۔ چنانچہ بندہ اس کی اطاعت کرتا ہے تو اس پر وہ بر بنائے استحقاق اجر پائے گا کیونکہ اللہ کا یہی وعدہ ہے اور اسی کا اس نے اپنے بندوں کو پابند بنایا ہے۔ اسی طرح اللہ نے سزا کے جو وعدے گناہ گاروں سے کیے ہیں وہ بھی پورے ہوں گے۔ ان میں کوئی تخلف یا الغاء نہیں ہوگا۔

اس اصول کو بنیاد بناکر معتزلہ مانتے ہیں کہ اللہ اپنی مرضی سے کسی کو معاف کرنے اور کسی کی مغفرت فرمانے کا حق نہیں رکھتا کیونکہ اگر ایسا ہوا تو یہ اس کے وعد ووعید کے خلاف ہوگا اور اللہ جھوٹ نہیں بولتا ہے۔کذب بیانی کی نسبت اللہ کی طرف محال ہے۔ اس اصول کی وجہ سے معتزلہ کے نزدیک وہ تمام گناہ گار مسلمان جو کبیرہ گناہوں سے توبہ کیے بغیر مرگئے ہوں،وہ اللہ کی وعید کے مطابق ہمیشہ ہمیش کے لیے جہنم میں -مثل کفار ومنافقین- ڈالے جائیں گے، البتہ ان کا عذاب کفار ومنافقین کے عذاب سے ہلکا ہوگا۔(شرح الاصول:ص۱۳۴۔ الملل والنحل:۱/۴۲۔ المعزلۃ، زہدی جار اللہ:ص۵۱-۵۲۔ فضل الاعتزال: ص۱۵۴)

اس اصول کے خلاف پڑنے والی آیات جن سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ اپنی مشیت اور ارادے سے جسے چاہے معاف کرنے اور جسے چاہے عذاب دینے کی قدرت رکھتا ہے، ایسی آیات کی معتزلہ نے تاویلیں کیں۔ مثلاً یہ آیات دیکھیں:{إِنَّ اللّہَ لاَ یَغْفِرُ أَن یُشْرَکَ بِہِ وَیَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِکَ لِمَن یَشَائ}(نسائ،۴۸) ’’اللہ بس شرک ہی کو معاف نہیں کرتا، اس کے ماسوا دوسرے جس قدر گناہ ہیں وہ جس کے لیے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے۔‘‘

{قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ أَسْرَفُوا عَلَی أَنفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَۃِ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیْعاً إِنَّہُ ہُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیْمُ }(زمر،۵۳)’’اے نبی، کہہ دو کہ اے میرے بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجائو، یقینا اللہ سارے گناہ معاف کر دیتا ہے۔ وہ تو غفور اور رحیم ہے۔‘‘

اپنے مسلک کی تائید میں انھوں نے قرآن کی ان آیات سے استدلال کیا جن میں باطل سفارشوں کی تردید کی گئی ہے، حالانکہ یہ مجمل آیات ہیں اور دیگر قرآنی آیات کی روشنی میں ان کی وضاحت ہوجاتی ہے۔ مگر انھوں نے اپنے مطلب کی آیات کو چن لیا اور ان سے استدلال کیا۔ مثلاً یہ آیات دیکھیں:{وَاتَّقُواْ یَوْماً لاَّ تَجْزِیْ نَفْسٌ عَن نَّفْسٍ شَیْْئاً وَلاَ یُقْبَلُ مِنْہَا شَفَاعَۃٌ وَلاَ یُؤْخَذُ مِنْہَا عَدْلٌ وَلاَ ہُمْ یُنصَرُونَ} (بقرہ،۴۸)’’اور ڈرو اس دن سے جب کوئی کسی کے کام نہ آئے گا، نہ کسی کی طرف سے سفارش قبول ہوگی، نہ کسی کو فدیہ لے کر چھوڑا جائے گا اور نہ مجرموں کو مدد مل سکے گی۔‘‘

{مَا لِلظَّالِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَلَا شَفِیْعٍ یُطَاعُ} (غافر، ۱۸)’’ظالموں کا نہ کوئی مشفق دوست ہوگا اور نہ کوئی شفیع جس کی بات مانی جائے۔‘‘

وعد ووعید سے متعلق اپنے خود ساختہ نظریات کی وجہ سے معتزلہ نے اُن تمام صحیح وثابت شدہ حدیثوں کا انکار کردیا جن سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ کے نبیﷺ اور دیگر صلحائے امت محشر کے روز کچھ گناہ گار مومنوں کے حق میں سفارش کریں گے اور اس طرح ان کی بخشش ہوجائے گی۔یا جن حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نافرمان مسلمانوں کا انجام اللہ کی مشیت اور فیصلے پر منحصر ہے، وہ چاہے گا تو انھیں ان کی بداعمالیوں پر عذاب دے گا اور چاہے گا تو ان کی مغفرت فرمادے گا۔

۴-منزلہ بین منزلتین کا مطلب ہے دو مرتبوں کے درمیان کا مرتبہ۔ معتزلہ کی اس سے مراد یہ تھی کہ دنیا میں کوئی مسلمان اگر کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ دائرۂ ایمان سے نکل جاتا ہے،مگر دائرۂ کفر میں داخل نہیں ہوتا،وہ نہ مومن رہتا ہے اور نہ کافر ہوجاتا ہے، بلکہ ان دونوں کے درمیان فسق کے مرحلے میں رہتا ہے، تاہم آخرت میں وہ بھی خلود فی النار کا مستحق ہے، اگرچہ اس کی سزا اور خالص کافر کی سزا میں بہت کچھ فرق رکھا جائے گا۔

مرتکبِ کبیرہ کے خلود فی النار کے سلسلے میں معتزلہ کا وہی مسلک ہے جو خوارج کا مسلک ہے۔تاہم خوارج نے اعتزالی تکلفات کی کوشش نہیں کی۔ انھوں نے مرتکبینِ کبائر کو صاف صاف کفار اور خلود فی النار کے مستحق مانا ہے۔معتزلہ بھی ان کے خلود فی النار کے قائل ہیں، تاہم وہ دنیا میں ایسے مسلمانوں کو کافر نہیں کہتے اور نہ انھیں کافر مان کر ان سے جہاد کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔اسی لیے معتزلہ کے بارے میں کسی نے کہا ہے کہ وہ مخنث خارجی ہیں، یعنی جو بات جرأت کے ساتھ خوارج کہتے ہیں، وہی بات معتزلہ نے اشارے کنایے میں کہی ہے۔(الفرق بین الفرق:ص۱۱۶۔ الملل والنحل:۱/۴۲۔ شرح الاصول:ص۱۳۷۔ فضل الاعتزال:ص۱۷،۶۴)

معتزلہ کے اس چوتھے اصول کو ان کی سیاسی تاریخ کا نقطۂ آغاز بھی کہہ سکتے ہیں۔اس اصول کا منفی اثر صحابۂ کرامؓ کے بارے میں ان کے رویے پر بھی پڑا۔ان لوگوں نے خاص طور سے جنگِ جمل و جنگِ صفین کے شرکائ، حضرت علیؓ، حضرت معاویہؓ وغیرہ کو مرتکبینِ کبائر مان کر ان بزرگانِ دین کے بارے میں وہی ہرزہ سرائی کی ہے جس کا یہ اصول ان کی دانست میں تقاضا کر رہا تھا۔

۵-امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ان کا پانچواں اصول ہے جو دیکھا جائے تو اہلِ سنت اور معتزلہ دونوں میں ایک قدرِ مشترک ہے۔دونوں گروہ مانتے ہیں کہ یہ فریضہ علیٰ وجہ الکفایہ پوری امتِ مسلمہ پر لازم ہے۔ قرآن میں باری تعالیٰ نے اس کی یہی حیثیت متعین فرمائی ہے: {وَلْتَکُن مِّنکُمْ أُمَّۃٌ یَدْعُونَ إِلَی الْخَیْْرِ وَیَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُون}(آلِ عمران،۱۰۴)’’تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہی رہنے چاہئیں جو نیکی کی طرف بلائیں، بھلائی کا حکم دیں اور برائیوں سے روکتے رہیں۔ جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پانے والے ہیں۔‘‘(شرح الاصول:ص۱۴۱،۷۴۴)

تاہم اربابِ اعتزال اور اہلِ سنت کی راہ اس کے بعد جدا ہوجاتی ہے۔ معتزلہ اس کے قائل ہیں کہ بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں طاقت استعمال کی جائے گی اور مختلف فیہ مسائل میں بھی لوگوں کو کسی ایک مسلک کا بالجبر پابند بنایا جاسکتا ہے۔فتنۂ خلقِ قرآن کے موقعے پر ان کے اس عملی رویے کا اظہار بدترین شکل میں ہوا۔معتزلہ نے برائی پر نکیر کرنے کا جو طریقہ اپنایا وہ بالکل اس تعلیم کے برعکس تھا جو اللہ کے نبیﷺ نے اپنی امت کو دی ہے۔ آپﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ ’’تم میں سے جو شخص کسی منکر کو دیکھے تو اسے ہاتھ سے بدل دے، اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو زبان سے،اور اس کی استطاعت نہ ہو تو دل سے، اور یہ کمزور ترین درجۂ ایمان ہے۔‘‘[من رأی منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ وفإن لم یستطع فبلسانہ فإن لم یستطع فبقلبہ وذلک أضعف الإیمان](صحیح مسلمؒ، باب بیان کون النھی عن المنکر من الإیمان: ۴۹، عن ابی سعیدؓ الخدری) اس کے برخلاف معتزلہ کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے برائی کے مقابلے میں اچھائی بیان کی جائے گی، پھر زبان سے برائی پر ٹوکا جائے گا، پھر طاقت کا استعمال ہوگا اور اس میں ضرورت پڑے تو تلوار بھی نکالی جائے گی۔

بتانے کی ضرورت نہیں کہ یہ طرزِ عمل حدیثِ نبوی کی عین ضد ہے اور اہلِ سنت کا یہ مسلک ہرگز نہیں ہے۔ انکارِ منکر کے اپنے خود ساختہ تصور کی وجہ سے معتزلہ جس عقلیت اور علمیت کا ڈھول پیٹ رہے تھے، جیسے ہی انھیں تھوڑی قوت یا اقتدار نصیب ہوا، انھوں نے اپنے مخالفین پر عرصۂ حیات تنگ کردیا۔کفار ومشرکین کے خلاف بھی ناروا جارحیت کا مظاہرہ کیا اور اہلِ سنت والجماعت علماء وعوام کے خلاف بھی ہتھیار اٹھائے۔خوارج کی شدت پسندی سے متاثر ہوکر معتزلہ نے بھی یہ موقف اختیار کیا کہ فاسق مسلم حکمرانوں کے خلاف بغاوت کرنا ضروری ہے۔ (فرق معاصرۃ:۲/۸۴۹-۸۵۱۔ الخلافۃ ونشأۃ الأحزاب الإسلامیۃ: ص۲۵۶- ۲۶۱۔ المعتزلۃ واصولھم الخمسۃ وموقف اہل السنۃ منھا:عواد عبداللہ: ص۲۷۳ -۲۷۶)

انکارِ منکر کے سلسلے میں ان کا مشہور جملہ ہے کہ ہمیں جن کاموں کا حکم ہوا ہے ان کا حکم دوسروں کو دینا لازم ہے اور جو پابندیاں ہم پر عائد ہوتی ہیں ان کامکلف دوسروں کو بنانا بھی ضروری ہے۔[علینا أن نأمر غیرنا بما أمرنا بہ وأن نلزمہ بما یلزمنا](شرح العقیدۃ الطحاویۃ: ۲/۲۸۶)

انہی اصولوں کا شاخسانہ ہے کہ ان کے امام قاسم الریسی نے کہہ دیا ہے کہ ’’قرآنِ کریم فیصلہ کن اور محکم کتاب ہے، وہی صراطِ مستقیم ہے، اس میں کوئی تضاد یا اختلاف نہیں ہے،مگر اللہ کے رسولﷺ کی سنت کا معاملہ یہ ہے کہ قرآن میں نہ لفظوں میں اس کا کہیں ذکر ہوا ہے اور نہ معنی میں۔‘‘(رسائل العدل والتوحید:۱/۷۶۔ رسائل الجاحظ:۱/۲۸۷۔ فضل الاعتزال وطبقات المعتزلۃ:ص۱۸۱-۱۸۲)

اسی پانچوے اصول نے سنتِ نبوی کے ساتھ ان کے تعلق پر منفی اور سلبی اثر ڈالا ہے۔ یہ لوگ سنتِ نبوی کا وہ حصہ قبول کرتے ہیں جو ان کے فہم کے مطابق قرآن سے ہم آہنگ ہو۔ ورنہ سنت میں جو تعلیمات واحکامات مستقل بالذات ہیں، یعنی ان کا ذکر قرآن میں نہیں ہوا ہے، انھیں یہ لوگ دین کا حصہ نہیں مانتے تھے۔ اس رویے کا بدترین اظہار یوں ہوا کہ انھوں نے اسے اپنے منہج کی بنیاد بنالیا اور اس کی روشنی میں احادیثِ نبویہ پر صحیح اور غلط کا حکم لگانے لگے۔ چنانچہ ہر حدیثِ صحیح کو اپنے فہمِ قرآن کی روشنی میں جانچتے اور پرکھتے تھے اور جسے بھی ذرا مختلف پاتے تھے، چاہے اس کے اور قرآن کے درمیان جمع وتطبیق کی ہزار صورتیں ممکن ہوں، وہ اسے ردّ کر دیتے تھے،قطعِ نظر اس سے کہ وہ حدیث لفظاً یا معناً متواتر کیوں نہ ہو۔

اسی اصول کی روشنی میں معتزلہ نے صحابۂ کرامؓ کی جماعت کے بارے میں وہ موقف اختیار کیا جو احمد بن یحییٰ المرتضیٰ معتزلی کے الفاظ میں یہ ہے کہ ’’صحابہؓ سے ولایت کا تعلق تورکھا جائے گا، تاہم سیدنا عثمانؓ بن عفان کی تجریح وتعدیل کے سلسلے میں اختلاف ہواہے،بالخصوص ان کے دورِ خلافت کے آخری سالوں میں ہوئے واقعات کے حوالے سے، اور حضرت معاویہؓ اور حضرت عمروؓ بن العاص سے بہ بانگِ دہل اعلانِ بیزاری ہوگا۔ گویا معتزلہ خلافتِ صدیقی کی صحت پر متفق اللسان ہیں، بلکہ ان میں کچھ لوگ افضلیتِ صدیقؓ کے قائل بھی ہیں کیونکہ ان کے مطابق حضرت علیؓ نے حضرت ابوبکرؓ سے بیعت کر لی تھی اور ان پر اس سلسلے میں کوئی جبر واکراہ نہیں ہوا تھا، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی بیعت درست تھی۔”

“اسی طرح یہ لوگ خلافتِ فاروقی کو بھی درست مانتے ہیں، مگر خلیفۂ راشد ثالت امیر المومنین حضرت عثمانؓ بن عفان پر گفتگو ہوتی ہے تو خیاط معتزلی کہتے ہیں کہ واصل بن عطاء (بانیِ اعتزال) نے حضرت عثمانؓ کے بارے میں اور ان کا ساتھ چھوڑنے والوں اور انھیں قتل کرنے والوں کے بارے میں توقف کی راہ اپنائی تھی۔ وہ ان میں کسی سے اعلانِ برأت نہیں کرتے تھے۔ ان کی نگاہ میں حضرت عثمانؓ کے ذاتی حالات قابلِ تعریف تھے، مگر خلافت کے آخری چھے سالوں میں جو واقعات رونما ہوئے انھیں دیکھتے ہوئے حضرت عثمانؓ کی سیرت وکردار کے بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کہی جاسکتی ہے۔گویا واصل بن عطاء کے نزدیک ان کی تجریح وتعدیل کے دلائل نافراہم تھے، اس لیے واصل نے ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا۔‘‘ (الانتصار:ص۱۵۱)

یہی بات ابو الہذیل علاف معتزلی امام نے یوں کہی ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ عثمانؓ ظالم کی حیثیت سے مارے گئے یا مظلوم کی حیثیت سے۔[لاندری أقتل عثمان ظالما أو مظلوما](مقالات الإسلامیین:۲/۱۴۵)

خلافتِ عثمانؓ کے بعد جب بات امیر المومنین حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کی جنگوں کی آتی ہے تو واصل بن عطائ، عمرو بن عبید اور جعفر بن بشر جیسے ائمۂ اعتزال کھل کر حضرت علیؓ کے نقطۂ نظر کی تصویب کرتے ہیں اور اس سلسلے میں اس حد تک آگے بڑھ جاتے ہیں کہ حضرت معاویہؓ اور حضرت عمروؓ بن العاص اوردیگر مخالفین صحابہؓ سے اپنی بیزاری اور برأت کا اعلان کردیتے ہیں۔(الانتصار، خیاط:ص۱۵۲)

بلکہ بعض معتزلہ نے کھلم کھلا حضرت معاویہؓ اور حضرت عمروؓ بن العاص کو ملحد اور کافر قرار دیا ہے۔(دیکھیں شرح نہج البلاغۃ:۱/۱۳۷۔ ضحی الإسلام:۳/۱۷۷-۱۸۰)

بہرحال اس شدیدلہجے میں معتزلہ نے اہلِ سنت والجماعت جمہور المسلمین سے الگ راہ اپنائی اور اس ناروا طریقے سے اپنے چند اصول گھڑ کر ان کی روشنی میں عقیدے وعمل کی پوری عمارت تعمیر کر ڈالی۔معتزلہ کے فکری اثرات ان کے زوال وانحطاط کے بعد بھی آج تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ ہر دور میں جس منافق، ابن الوقت یا خودنمائی کے جنون (Magnomania ) میں مبتلا شخص کے دل میں بھی شہرت طلبی اور دنیا پرستی کا خیال پیدا ہوا تو اس نے اعتزالی فکر وفلسفے کے زہریلے جراثیم دوبارہ نئے قالب اور اسلوب میں پروسنا شروع کر دیے اور ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

(جاری)

اپنی راۓ یہاں لکھیں