رسولِ اسلامﷺ
حیات اور خدمات
[ڈاکٹر محمد حمید اللہ علیہ الرحمہ کی کتاب [Le prophete de l’Islam, Sa Vie, Son oeuvre]کا اردو ترجمہ، ایک تشنۂ تعبیر خواب]
ذکی الرحمن غازی مدنی
جامعۃ الفلاح، اعظم گڑھ
عاجز راقم کی زندگی کا آہو ادھر ادھر بھٹک رہا تھا۔ اللہ کو رحم فرمانا مقصود تھا، اس لیے اس ناہنجار کو اٹھا کر مدینہ منورہ کی شہرۂ آفاق تعلیم گاہ ’’الجامعۃ الاسلامیۃ‘‘ میں پہنچا دیا۔وہاں رہ کرکیا کھویا اور کیا پایا؟ جوارِ نبوی کی برکتوں سے کتنا مستفید ہوسکا؟ یا وہاں بھی بدنصیبی اور تیرہ بختی نے پیچھا نہیں چھوڑا؟یقینا یہ سوالات میرے اپنے لیے بہت اہم ہیں، مگر عام قارئین کے لیے بے مصرف ہیں۔ اتنا ضرور ہے کہ مدینے کے وقت میں بڑی برکت رکھی گئی ہے۔ اس کا تجربہ ہر شخص وہاںجاکر آج بھی کر سکتا ہے۔
علمی وتعمیری خطوط پر وقت سے فائدہ اٹھانے کی غرض سے ہم چند طلبہ ساتھیوں نے مل کر فرانسیسی زبان سیکھنے کا منصوبہ بنایا۔ افریقی ممالک کے بیشتر طلبہ، ماریشس والے اور خود فرانسیسی طلبہ وہاں زیرِ تعلیم تھے۔ ان سے استفادہ کرنا ممکن تھا اور بہ قدرِ امکان کیا بھی۔تاہم فرنچ بولنے کا انداز سب کا جداگانہ دیکھا۔ ساڑھے پانچ سالہ تعلیمی عرصے میں فرانسیسی زبان کی اس قدر استعداد بہم ہوگئی کہ بہ آسانی مطالعہ کرسکنے لگا۔ پھر مدینے سے فراغت کے بعد مادرِ علمی ’’جامعۃ الفلاح‘‘ آگیا اور تدریس سے جڑ گیا۔
ڈاکٹر محمد حمید اللہ کا نام بہت پہلے سنا تھا اور ’’خطبات بہاول پور‘‘وغیرہ کتابوں کے کے حوالے سے رسمی طالب علمی کے زمانے میں انھیں پڑھا بھی تھا۔ ان کی کتاب ’’پیغمبرِ اسلامﷺ‘‘ ایک روز دیکھی جس کے سرِ ورق پر لکھا تھا کہ یہ فرانسیسی زبان میں لکھی گئی سیرتِ نبوی کا ترجمہ ہے۔مترجم پاکستان سے تعلق رکھنے والے پروفیسر خالد پرویز صاحب ہیں۔کتاب پڑھی تو وہ نامکمل اور ایک حدتک الجھی ہوئی محسوس ہوئی۔مناسب لگا کہ اصل کتاب منگا کر اسی کو پڑھا جائے۔
یہ الگ داستاں ہے کہ وہ کتاب کیسے منگائی گئی۔ بہرحال فرانس سے وہ کتاب آگئی۔اصل کتاب دیکھی تو ضرورت محسوس ہوئی کہ اس کا ترجمہ پھر سے ہونا چاہیے۔ چنانچہ یہ کام بھی میرے ان منصوبوں اور خوابوں میں شامل ہوگیا جو تادمِ تحریر التواء میں پڑے ہیں۔
اصل فرانسیسی کتاب آٹھ سو تینتیس [۸۳۳] صفحات پر مشتمل ہے۔جوں توں کرکے ایک ڈیڑھ سال پہلے ایک سو تیرہ صفحات تک ترجمہ کر پایا تھا جو ’’اے فائیو سائز‘‘ میں ایک سو اٹھانوے صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔تب سے بار بار اس کام کے لیے بیٹھنا چاہتا ہوں،مگر یکسوئی اور فراغت میسر نہیں آتی۔کبھی سوچتا ہوں کہ تدریسی مصروفیات سے طویل چھٹی لے کر یہ کام نپٹائوں، مگر پھر آذوقۂ حیات کا مسئلہ حل طلب ہے۔
آپ خوانندگانِ محترم اس حقیر کے حق میں دعا فرمائیں کہ اگر اس کے اس ارادے میں خود اس کے لیے اور عام مسلمانوں کے لیے کوئی خیر اور برکت پنہاں ہے تو ربِ کریم اسے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے اسباب غیب سے مہیا کرے۔ آمین، یا رب العالمین۔
یہاں ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب آل ریڈی ایک ترجمہ موجود ہے تو دوسرا کیوں کیا جائے؟ اس کی وجوہات اختصار سے بیان کرنا چاہوں گا:
۱-پہلی وجہ یہ ہے کہ پیغمبرِ اسلامﷺ کے نام سے جو ترجمہ متداول اور مطبوع ہے وہ نامکمل ہے۔ صرف آدھی کتاب پر رک جاتا ہے۔فاضل مترجم ڈاکٹر خالد پرویز صاحب نے نہ جانے کیوں کھل کر نہیں بتایا کہ ان کا ترجمہ نامکمل ہے۔ وہ اپنے دیباچے میں لکھتے ہیں:’’ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے اسے دو جلدوں میں تحریر کیا۔
اب آپ سوال کریں گے کہ یہ پہلی جلد ہے یا دونوں جلدیں اکٹھی ہیں، تو میں اتنا عرض کرنے کی جسارت کروں گا کہ نبیِ آخر الزماں حضرت محمد مصطفی ﷺ پر لکھی گئی کتاب کی کوئی جلد دوسری یا آخری قطعاً نہیں ہو سکتی۔
ایسے خوش قسمت افراد بھی ہیں جنہوں نے سیرتِ رسولﷺ کئی جلدوں میں لکھی، مگر کیا سیرتِ محمدﷺ کی کسی کتاب کو مکمل یا حرفِ آخر کہا جاسکتا ہے؟آپﷺ کی ذاتِ پاک پر لکھا جاتا رہا ہے اور قیامت تک لکھا جاتا رہے گا،بلکہ اس کے بعد بھی کیونکہ ربِ تعالیٰ جل شانہ نے اپنے محبوبﷺ کے ذکر کو بلند کر دیا ہے۔ جب یہ صورتِ حال ہو تو دوسری یا آخری یا مکمل جلد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آپﷺ پر لکھی گئی ہر کتاب کی ہر جلد پہلی ہی رہے گی۔‘‘(ص۱۲-۱۳)
بس اتنا عرض کرنا ہے کہ چونکہ ترجمہ نامکمل، بلکہ تقریباً آدھا ہے، اس لیے ضرورت ہے کہ اس کتاب کا مکمل ترجمے کیا جائے۔
۲-فاضل مترجم نے جتنا کچھ ترجمہ کیا ہے اس میں بالالتزام انہوں نے اصل کتاب کے توضیحی حاشیوں کو چھوڑا ہے۔ حالانکہ یہ حاشیے سیکڑوں کی تعداد میں شاملِ کتاب ہیں،بہت قیمتی ہیں اور بسااوقات کئی کئی صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں۔ مثلاً حضرت ہاجرہ کا کنیز یا باندی ہونے کے بجائے، مصر کے بادشاہ کی بیٹی ہونا ڈاکٹر صاحب نے ایک حاشیے میں ذکر کیا ہے اور دلیل کے طور پر بائیبل کے قدیم نسخوں کا حوالہ دیا ہے۔ مگر فاضل مترجم نے یہ سب نظر انداز کر دیا۔
۳-ڈاکٹر صاحب کی اصل شناخت اسلامیات کے محقق کی ہے۔ وہ ہر بات حوالے سے کہنا پسند کرتے تھے۔ مگر فاضل مترجم نے اپنے ترجمے میں شاذ ونادر ہی کہیں مکمل حوالے دیے ہیں۔ بیشتر جگہوں پر ایک یا دو مصادر کے حوالوں سے کام چلایا ہے،حالانکہ وہاں زائد کتبِ تاریخ کا حوالہ درج تھا۔
نیز کتبِ حوالہ کے نام بھی نامکمل اور کئی جگہ غلط لکھ گئے ہیں۔مناسب ہے کہ مکمل اور صحیح نام درج کیے جائیں۔کتاب کے بعض مجمل حوالوں کو کھولنا بھی ضروری ہے۔
۴-عربی الفاظ کے تلفظ میں جگہ جگہ فاضل مترجم نے ٹھوکر کھائی ہے۔ چنانچہ مثال کے طور پر ’’قبیلۂ ضبّہ‘‘ کو ’’قبیلۂ دبّائ‘‘ کر دیاہے۔’’اخنس بن شریق‘‘ کو ’’الخنس ابن شارق‘‘ اورعلامہ ابن کثیر کی ’’البدایۃ‘‘ کو ’’الہدایۃ‘‘بنا دیاہے۔
۵-جہاں تک میں ترجمہ کر سکا ہوں، اس حصۂ کتاب میں متعدد جگہوں پر فاضل مترجم نے اصل عبارت نہیں سمجھی ہے اور نتیجے میں غلط ترجمہ کر گئے ہیں۔بے جا طوالت پر قارئین سے معذرت کے ساتھ ایک مثال دینا چاہوں گا۔
مکہ میں مسلمانوں پر مظالم کا سیاق چل رہا ہے۔اصل کتاب کے صفحہ نمبر ۸۲ پر پہلے پیراگراف کے اخیر میں یہ عبارت ہے:
(Parmi les persecuteurs nous trouvons meme des etrangers a la Meque comme Abul asda al Hudhali et Adi ibn al Hamra al Khuzai)
عبارت کا ترجمہ فاضل مترجم نے یوں کیا ہے:’’ایذاء رسانی کا شکار ہونے والوں میں حتی کہ مکہ کے اجنبی اور غیر ملکی بھی شامل تھے مثلاً حضرت ابو الاصداء الہثالی اور حضرت علی بن الحمراء الخزاعی۔‘‘
اس ترجمے میں پہلی غلطی تو وہی ہے جس کا تذکرہ نمبر چار میں ہم نے اوپرکیا ہے کہ عربی الفاظ کا صحیح تلفظ نہیں ہوا۔اصل نام ابو الاصدع الہذلی اور عدی بن الحمراء ہے۔
دوسری غلطی یہ ہے کہ عبارت میں ڈاکٹر صاحب نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ مکہ میں مسلمانوں پر ظلم ڈھانے والوں میں غیر قریشی موالی بھی پیش پیش تھے۔فاضل مترجم نے ایذاء پہنچانے والوں کو ایذاء پانے والے بنا دیا اور اسی مناسبت سے ان بدبختوں کے نام کے ساتھ ’’حضرت‘‘ کا احترام بھرا سابقہ بھی جوڑ دیا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ عدی بن الحمراء کا تذکرہ اسی کتاب میں پیچھے گزر چکا ہے اور فاضل مترجم لکھ چکے ہیں کہ حضورﷺ کے مکان کے ایک طرف ابولہب کا گھر تھا اور دوسری طرف علی بن الحمراء کا، اور یہ اپنے گھر سے حضورﷺ کے راستے میں غلاظتیں پھینکا کرتا تھا۔ اصل عبارت میں صاف صاف عدی بن الحمراء ہے،فاضل مترجم نے اسے ’’عدی‘‘ کے بجائے ’’حضرت علی بن الحمرائ‘‘ کر دیاہے۔
اس طرح کی متعدد مثالیں ان کے ترجمے سے پیش کی جاسکتی ہیں۔ویسے متذکرہ بالا عبارت کا صحیح ترجمہ یہ ہوگا: ’’مسلمانوں کو اس طرح تکلیف اور ایذاء پہنچانے والوں میں ہم ایسے لوگوں کو بھی پاتے ہیں جو مکہ کے اصلی باشندے نہیں تھے،مثلاً ابو الاصدع الہذلی اور عدی بن الحمراء الخزاعی۔‘‘
۶-فاضل مترجم نے اسلافِ امت اور بزرگانِ دین کے نام روکھے انداز میں لکھے ہیں۔ مثلاً ابن حجر بتاتا ہے،ابن الجوزی لکھتا ہے،قاضی عیاض کہتا ہے،عمر جاتا ہے وغیرہ۔ یہ اگرچہ ذوق ذوق کی بات ہے، تاہم سیرت پڑھتے ہوئے اس طرح کے جملے عام طور سے بارِ خاطر ہوتے ہیں۔علاوہ ازیں ترجمے کی زبان، جملوں کی ساخت، معطوف ومعطوف علیہ کا ربط اور سابق ولاحق میں منطقی وابستگی کا فقدان کئی جگہ واضح طور پر محسوس ہوتا ہے۔
نیز کئی جگہوں پر محسوس ہوتا ہے کہ فاضل مترجم کی نظروں سے کچھ لائنیں چھوٹ گئی ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ ایڈیشن کا اختلاف ہو۔ میرے پاس کتاب کا ساتواں ایڈیشن ہے۔ سابقہ طبعات کے دیباچے بھی شروع میں ہیں۔ڈاکٹر صاحب مرحوم نے آخری نظرِ ثانی پانچویں اڈیشن پر کی تھی اور بہت کچھ اضافے کیے تھے اور کئی باتوں سے رجوع فرمایا تھا۔
بہرحال ان امور کے پیشِ نظر میں نے ترجمہ شدہ حصے کا دوبارہ ترجمہ کرنے کی بھی ٹھانی۔ یہاں میں کھل کر اعتراف کروں گا کہ میں نے فاضل مترجم کے ترجمے کو سامنے رکھا ہے اور جہاں ضرورت پڑتی ہے اس سے فائدہ اٹھاتا رہا ہوں۔ اللہ پروفیسر صاحب کو اس خدمت پر دارین میں جزائے خیر عطا فرمائے۔
۷-علاوہ ازیں میں نے اپنے ترجمے میں بالالتزام آیاتِ قرآنیہ کے متن کو درج کیا ہے۔ اردو کتابوں میں قرآنی آیات اور نبوی احادیث کے ترجمے سے کام چلانا ذاتی طور پر میں پسند نہیں کرتا ہوں۔
۸-ڈاکٹر محمد حمید اللہ مرحوم ماہرِ سیرت کی حیثیت سے معروف ہیں۔ سیرتِ پاک اور اس کے متعلقات پر ان کی متعدد کتابیں ہیں۔ اگر میں کتاب کا ترجمہ کبھی مکمل کر پایا تو ترجمے کے بعد ان کی دیگر کتابوں کو سامنے رکھ کر نظرِ ثانی کرنے کا ارادہ بھی ہے۔
اگر کوئی اہم بات ڈاکٹر صاحب کی کسی دوسری کتاب میں ملتی ہے اور اس کتاب میں آنے سے رہ گئی ہے تو اسے حاشیے میں درج کیا جانا چاہیے۔ اگر کہیں اختلاف نظر آئے تو اس کی نشاندہی بھی کی جائے۔
۹-ڈاکٹر صاحب نے اپنی کتابوں میں سیرتِ نبوی کے قدیم مآخذ سے براہِ راست استفادہ کیا ہے، مگر اپنی علمی اوقات اور بساط کو جاننے کے باوجود ڈرتے ڈرتے عرض کر رہا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب روایات کی تنقیح وتصحیح پر خاطر خواہ توجہ نہیں دے پائے ہیں۔ اس لیے بہت سی باتیں ایسی آگئی ہیں جو بہ آسانی قبول نہیں کی جاسکتی ہیں۔
مثلاً یہ کہ حضرت خدیجہ کا اپنے چچا کو شراب پلاکر مدہوش کردینا اور اسی حالت میں محمدﷺ سے اپنے نکاح کی منظوری لینا[دیکھیں ص۷۷، اردومتداول ترجمہ]۔ یا عہدِمکی میں حضرت علی کا حضورﷺ کی اجازت سے کپڑوں میں پاخانہ بھر کر لے جانا اور بتوں پر ڈال آنا اور علی الصبح مشرکین کا ناراض ہونا اور دودھ پانی سے بتوں کی دھلائی کرنا[دیکھیں ص۱۲۹، اردو ترجمہ متداول]
اگر یہ روایتیں درست ہوتیں تو ایک بات تھی، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ روایتیں بے سند ہیں یا مجہول الحال راویوں سے منقول ہیں، ایسے میں انھیں سیرت کے حوالے سے پیش نہیں کرنا چاہیے تھا۔
اللہ کا شکر ہے کہ آج صحیح احادیث وآثار کی روشنی میں سیرتِ پاک لکھنے کا رجحان پھیل رہا ہے۔ ڈاکٹر اکرم ضیاء العمری[السیرۃ النبویۃ الصحیحۃ] اور ڈاکٹر مہدی خلف اللہ [السیرۃ النبویۃ فی ضوء المصادر الأصلیۃ]کی کتابیں یہاں بہ طورِ مثال پیش کی جاسکتی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈاکٹر صاحب مرحوم کی اس کتاب کا ترجمہ کرتے ہوئے اس کے مندرجات کا تقابلی مطالعہ صحیح روایات وآثار سے بھی کیا جائے اور جہاں نتائجِ تحقیق کسی بات کی صحت یا ضعف تک پہنچائیں اس کو فٹ نوٹ میں ظاہر کیا جائے۔میرے لیے تو یہ چھوٹا منھ بڑی بات ہے، مگر کام بہرحال یہ ہونا چاہیے، چاہے اسے جو کرے۔
۱۰-بعض جگہ ڈاکٹر صاحب کی رائے سے اختلاف بھی لازماً ہونا چاہیے۔بالخصوص واقعۂ اسراء ومعراج کی جیسی تشریح انھوں نے کئی صفحاتی حاشیے میں کی ہے اور جسے پروفیسر خالد پرویز صاحب نے چھوڑ دیا ہے،اسے کسی بھی لحاظ سے اہلِ سنت والجماعت کا موقف نہیں کہا جاسکتا ہے۔ایسے میں ضروری ہے کہ اصل کتاب سے چھیڑ چھاڑ کیے بنا ایسے مواقع پر جمہور علمائے اہلِ سنت کے موقف کو ان کے دلائل کے ساتھ مختصراً حاشیے میں درج کر دیا جائے۔
۱۱-نہ اصل کتاب میں اور نہ پروفیسر خالد پرویز صاحب کے ترجمے میں، ڈاکٹر حمید اللہ کے حالاتِ زندگی کا تذکرہ نہیں ملتاہے۔ اگرچہ اہلِ علم کے یہاں ڈاکٹر صاحب کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں،مگر بہ وجوہ ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ مصنف کے حالاتِ زندگی بھی آغازِ کتاب میں مختصراً درج کر دیے جائیں۔
کتاب کا ترجمہ ابھی ’’نا‘‘کے برابر ہی ہوپایا ہے، پھر اتنی جلدی یہ سب باتیں شیئر کرنے کی کیا ضرورت پڑی؟ اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو آپ تمام بھائیوں سے التماس کرنا ہے کہ اس بندۂ عاجز کے لیے دعا فرمائیں کہ اللہ اس حقیر، پرتقصیر، اسیرِ نفسِ شریر سے ایک یہ کام بھی لے لے اور اسے اس کے لیے وسیلۂ مغفرت اور سببِ نجات بنا دے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ ادھر چند روز سے سوشل میڈیا پر اس کتاب اور اس کے ترجمے کا کافی چرچہ ہورہا ہے اور مختلف لوگ اس میں درج ضعیف روایات کو بنیاد بناکر گمراہ کن افکار ونظریات کا شیش محل کھڑا کر رہے ہیں، اور چونکہ ڈاکٹر حمید اللہ مرحوم کا نام پورے عالمِ اسلام میں علمیت ومعروضیت کے حوالے سے ایک جانا پہچانا نام ہے، اس لیے بہت سے سادہ لوح نوجوان ان بدعتی افکار وخرافات کو بے چوں چرا تسلیم کرتے جا رہے ہیں۔ اس لیے ضرورت محسوس ہوئی کہ اس کتاب کے بارے میں یہ چند معروضات پیش کر دی جائیں تاکہ بات واضح رہے۔
اللھم من أحییتہ منا فأحیہ علی الإسلام ومن توفیتہ منا فتوفہ علی الإیمان۔
اے اللہ تو جب تک ہمیں زندگی دے تو اسلام پر زندہ رکھ اور جب تو موت دے تو ایمان کی حالت میں موت دے۔ آمین یا رب العالمین۔
وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔
