You are currently viewing محمد قلی قطب شاہ

محمد قلی قطب شاہ

محمد قلی قطب شاہ

ایک تنقیدی جائزہ

تحریر: احمد

            دکن میں بہمنی سلطنت کے خاتمہ کے بعد پانچ سلطنتیں وجود میں آئیں، گولکنڈہ، بیجاپور، احمد نگر، برار اور بیدر۔ یہ سلطنتیں قطب شاہی، عادل شاہی، نظام شاہی، عماد شاہی اور برید شاہی کے نام سے موسوم ہوئیں۔ قطب شاہی سلطنت کی داغ بیل اور اسکی بنیاد ’’سلطان قلی قطب شاہ ‘‘نے ۹۲۴ھ مطابق ۱۵۱۸ء میں ڈالی اور گولکنڈہ کو پایۂ تخت قرار دیا۔ یہیں سے قطب شاہی سلسلے کا آغاز ہوتا ہے۔

محمد قلی قطب شاہ کی تخت نشینی

۹۸۸ھ مطابق۱۵۸۰ء  میں ابراہیم قطب شاہ کے وفات کے بعد اس کا بیٹا محمد قلی قطب شاہ(قطب شاہی سلطنت کا پانچواں فرماں روا) تخت پر بیٹھا۔ اس کے عہد حکومت میں قطب شاہی سلطنت نے خوب ترقی کی، ہر طرف امن وامان قائم ہوا۔ لڑائی، جھگڑا، چوری ڈکیتی سب بند ہو گئے۔

قلی قطب شاہ ؁ ۱۰۰۰ھ میں اس نے حیدرآباد  کو پایۂ تخت قرار دیا اور اسے خوبصورت عالیشان عمارتوں، وسیع و عریض بازاروں، تعلیم و تعلم کیلئے مدرسوں اور خانقاہوں کا سے مزیّن کر دیا ۔ محمد قلی قطب شاہ دوراندیش اور علمی ذوق رکھنے والا بادشاہ تھا۔ اس نے دکنی زبان کی ترقی اور اس کے وجود کی بقا کیلئے دکنی زبان میں شعر کہے۔ قطب شاہ شعراء و ادباء کی بڑی قدر کرتا تھا۔

محمد قلی قطب شاہ کو شاعری سے خاصی دلچسپی تھی۔ اس نے اپنے پیچھے ایک کلیات ’’کلیات محمد قلی ‘‘ چھوڑی جسے اس کے بھتیجے اور داماد  محمد قطب شاہ( قطب شاہی سلطنت کا چھٹا فرماں روا) نے ۱۰۱۵ھ میں مرتب کیا۔

’’کلیات محمد قلی‘‘ میں سارے اصناف سخن مثنویاں، قصیدے، مرثیے، غزل، رباعیات اور ترجیع بند سب کچھ موجود ہے۔ محمد قلی قطب شاہ کو شاعری کے ساتھ ساتھ موسیقی اور مصوّری میں دلچسپی تھی، اس نے اس کی ترقی کیلئے ممکن حد تک کوششیں کی۔

نصیر الدین ہاشمی لکھتے ہیں’’ سلطان کے کلام کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک فطری شاعر تھا اور ہر موضوع پر نہایت کامیاب طبع آزمائی کرتا تھا۔ آج کل کے عشقیہ کلام سے اس کا مقابلہ کیاجائے تو واضح ہوگا کہ اس کا دیوان بھی وہی گل و بلبل، شاہد و ساقی کی پرانی داستان کا دفتر ہے۔ البتہ اس زمانے کا لحاظ کرتے اس کی زبان وہ نہیں ہے جو داغ و ذوق کی ہے‘‘۔

سلطان نے مختلف عناوین پر مثنویاں لکھی ، کسی میں پھلوں کا تذکرہ ہے تو کسی میں سبز ترکاریوں کا، شکاری پرندے، رسم و رواج، تیوہاروں، موسمیات جیسے عناوین پر بہت ساری نظمیں تحریر کیں۔ اس کے کلام میں فارسی کے ساتھ ساتھ ہندی الفاظ کا استعمال بکثرت ملتاہے۔ بلکہ اس نے فارسی پر ہندی اسلوب بیان کو ترجیح دی۔

سلطان کے کلام میں ہر طرح کی چیزیں مل جاتی ہیں، ایک طرف اس کے کلام میں عشق و عاشقی کے مضامین نہایت عریاں طور پر نظر آتے ہیں، تو دوسری طرف حمد، نعت اور منقبت کی ترجمانی میں جو کمال دکھایا ہے اسے دیکھ کر یہ کہنا مشکل ہو جاتاہے کہ ایک شاعر کے قلم سے دو ایسے مضامین جو ایک دوسرے کی ضد ہیں اتنے عمدہ طریقہ پر وجود میں آسکتے ہیں۔

سلطان محمد قلی قطب شاہ کا ادبی سرمایہ ہمیں یہ ماننے پر مجبور کرتاہے کہ وہ ایک بلند پایہ شاعر تھا۔ اردو ادب کا یہ چراغ ۱۳ جمادی الثانی ۱۰۲۵ھ مطابق ۱۶۶۶ء میں ہمیشہ ہمیش کیلئے بجھ گیا۔

نوٹ:۔ یہ مضمون نیٹ جے آر ایف،سیٹ،ٹیٹ وغیرہ امتحان میں پوچھے جانے والے سوالوں کے پیش نظر تیار کیا گیا ہے۔ اس طرح کے مزید مضامیں حاصل کرنے کیلئے لال رنگ کے گھنٹی والے نشان کو دبا کر ہماری ویب سائٹ ’’علم کی دنیا ‘‘  ilmkidunya.in کو سبسکرائب کر لیں تاکہ ہماری ہر اپڈیٹ آپ تک بذریعہ   Notification پہنچ جائے۔ والسلام

جواب دیں