قیادت نامہ۔ ایک تبصرہ
مولانا وحید الدین خاں کی کتاب "قیادت نامہ” میرے لیے ان چند کتابوں میں سے ایک ہے جس نے میرے سوچنے، سمجھنے اور چیزوں کو دیکھنے کا زاویہ بدل دیا، یہ کتاب قیادت کے موضوع پر بالکل منفرد اور حقیقت پسندانہ زاویے سے لکھی گئی کتاب ہے جہاں ایک طرف اس کے ہر سطر میں حقیقت پسندی نظر آتی ہے وہیں دوسری جانب مسلمانوں کی ناکام اور بے فائدہ سیاست و قیادت کی قلعی بھی بے باکی سے کھلتی ہے، مولانا وحید الدین خان مسلمانوں کے مسائل کی صرف صحیح تشخیص ہی نہیں کرتے بلکہ غلط تشخیص کے ذریعے جو غلط تدابیر لیڈروں اور قائدوں کے ذریعے اپنائی گئی ہے یا اپنائی جا رہی ہے اس کی حقیقت بھی بڑے دلسوز انداز میں بیان کرتے ہیں۔ تعمیر و ترقی کے نام پر جو تخریب کاریاں قائدین ملت کے ہاتھوں پورے ایک صدی سے ظہور ہو رہی ہے ان تمام کی کھلے اور بے لاگ انداز میں نشان دہی کی ہے۔
جیسے کہ کتاب کے نام "قیادت نامہ” سے ہی ظاہر ہے کہ زیرِ نظر کتاب کن مباحث و موضوعات پر مشتمل ہے اور یہ خصوصاً کن حضرات کے لیے لکھی گئی ہے، یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی قوم کے ارتقاء و تنزلی میں دو قیادتیں ہمیشہ بنیادی کردار ادا کرتی ہیں، ایک مذہبی قیادت اور دوسرا سیاسی قیادت، مگر افسوس کہ مسلمانوں کی مذہبی اور سیاسی دونوں قیادتیں اپنی ذمّہ داری میں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ اور دونوں ایک ہی روگ میں مبتلا ہیں — وہ روگ ہے جذباتی رد عمل کا۔ دونوں قیادتیں جس طرح کے رد عمل میں مبتلا ہیں اس کے ہولناک نتائج ہم اپنی آنکھوں سے روز بروز دیکھ رہے ہیں۔ ہمارا مذہبی قیادت جہاں مغرب اور مغربی فکر کے مقابلے میں جذباتی رد عمل کا شکار ہو کر بہت سی مفید اور ضروری چیزوں کو ترک کیے ہوئے ہیں جس کی بنا پر ہم مزید پستی کی طرف گرتے جا رہے ہیں وہیں ہماری سیاسی قیادت بھی بعض شر پسند عناصر کی طرف سے پیش آنے والے خونی واقعات کی وجہ سے پورے ہندو سماج اور سیکولر پارٹیوں سے دل برداشتہ ہو جاتے ہیں۔ اور پھر رد عمل میں مبتلا ہو کر جو وہ کرتے ہیں اس کے متعلق مولانا وحید الدین خان نے اپنی ڈائری میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ "ایک صاحب نے کہا کہ آپ موجودہ مسلم لیڈروں کے خلاف
لکھتے رہتے ہیں۔ حالاں کہ انھوں نے بھی ایک کام کیا ہے۔ انھوں نے مسلمانوں کو جگایا ہے۔ میں نے کہا کہ میں آپ کی بات میں ایک لفظ کی ترمیم کروں گا۔ ان مسلم لیڈروں نے مسلمانوں کو جگا یا نہیں ہے، انھوں نے مسلمانوں کو بھڑکایا ہے۔
عجیب معاملہ ہے کہ یہی بات ہندو حلقہ میں بھی کہی جاتی ہے۔ ہندو دانشور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہند و سویا ہوا تھا ، آڈوانی اور جوشی جیسے لیڈروں کا یہ کارنامہ ہے کہ انھوں نے ہندوؤں کو جگا دیا۔ مگر یہاں بھی وہی بات ہے ان انتہا پسند لیڈروں نے ہندو قوم کو جگایا نہیں ہے ، انھوں نے ہندو قوم کو بھڑکا دیا ہے۔
جس دیش کا یہ حال ہو کہ وہاں کے لوگ جگانے اور بھڑکانے کا فرق نہ سمجھتے ہوں وہ دیش ترقی کس طرح کرے گا، اس سوال کا جواب مجھے نہیں معلوم”۔
یہ چند جملے گویا پوری کتاب کی روح کا خلاصہ ہیں۔ قیادت کے لیے جو بنیادی اوصاف ضروری ہوتے ہیں
قیادت کے لیے جو ضروری اوصاف ہوتے ہیں— دور اندیشی، تحمل، حقیقت پسندی، اور قوم کو جگانے اور بھڑکانے کے فرق کی سمجھ — ہمارے قائدین بالعموم انھی سے خالی ہوتے ہیں۔
اس کتاب میں مولانا نے ایک ایسا واقعہ بھی نقل کیا ہے جس سے اندازہ ہوگا کہ مسلمانوں کو ہندوستان میں پرسکون اور آرام دہ زندگی گزارنے کے لیے کس طرح کے رویے کی ضرورت ہے، یہ واقعہ گر چہ عرب جیسے ممالک کی صورت حال سے متعلق ہے مگر یہ بعید نہیں کہ ہندوستان میں بھی مسلمان اسی خاموش رویے اور ایڈجسٹمنٹ کے طریقے کو اپنا کر بہت حد تک اپنے اور اپنے معاشرے کے لیے ایک پرسکون ماحول تخلیق کر سکتا ہے۔ ہاں مگر اس بات کا امکان ہے کہ اس رویے کو اپنانے کی صورت میں بالکل اسی جیسی پر امن زندگی حاصل نہ ہو جس طرح عرب ممالک میں حاصل ہے لیکن ہاں یہ ممکن ہے کہ بہت حد تک اپنے گردوپیش کو پر امن بنایا جا سکتا ہے اور وقتاً فوقتاً اگر کبھی تشدد پسند گروہ کی جانب سے کچھ شکایتیں ملیں تو فطری اسباب کے تحت ہونا والا ایک واقعہ ہوگا جو کہ تکثیری سماج میں وقتاً فوقتاً ہو جاتی ہے۔
مولانا لکھتے ہیں کہ عرب کے ایک سفر میں میری ملاقات ایک ہندوستانی مسلمان سے ہوئی، پہلے وہ ہندوستان میں مسلمانوں کے درمیان لیڈری کرتے تھے اس کے بعد انہیں عرب میں ایک اچھا کام مل گیا اور وہ وہاں منتقل ہو گئے۔ آج کل وہ عرب میں خوشحال زندگی گزار رہے ہیں، گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ ہندوستان کیسا وحشی ملک ہے وہاں آئے دن فسادات ہوتے رہتے ہیں جس سے مسلمانوں کی جان و مال محفوظ نہیں، آپ دیکھیے ہم لوگ یہاں کتنے سکون کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ ادھوری بات ہے، یہاں کا نظام آپ کو جو کچھ دے رہا ہے اس کا آپ نے ذکر کیا مگر آپ خود یہاں کے نظام کو جو کچھ دے رہے ہیں اس کا ذکر کرنا آپ بھول گئے۔ میں نے کہا کہ آپ جس ڈھنگ سے عرب میں رہتے ہیں اگر ہندوستان کے مسلمان ایسے ڈھنگ سے ہندوستان میں رہیں تو وہ ہندوستان میں بھی اسی طرح باعزت طور پر رہ سکتے ہیں جس طرح آپ عرب میں رہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کیسے؟ میں نے کہا کہ عرب میں آپ کے پرسکون طور پر رہنے کا راز صرف ایک ہے اور وہ یہاں کے نظام کے ساتھ کامل توافق (ایڈجسٹمنٹ) ہے۔ اگر ہندوستان کے مسلمان اپنے ملک کے نظام سے اسی طرح توافق اور ہم آہنگی کے ساتھ رہیں تو ایک دن میں سارا جھگڑا ختم ہو جائے۔ میں نے کہا کہ ساری عرب دنیا میں وطنی کے مقابلے میں خارجی کو نمبر دو کا شہری سمجھا جاتا ہے مگر آپ اس کو برداشت کرتے ہیں، یہاں ایک ہندوستانی کے مقابلے میں ایک امریکی کو کئی گنا زیادہ تنخواہ ملتی ہے مگر آپ اس امتیاز کو گوارا کیے ہوئے ہیں،
یہاں آپ کو یہ اجازت نہیں کہ مسجد میں یا مسجد کے باہر لاڈ اسپیکر لگا کر تقریر کریں، یہاں آپ نہ کوئی آزاد اخبار نکال سکتے ہیں اور نہ کوئی آزاد رسالہ چھاپ سکتے ہیں مگر اس کے خلاف آپ جیل بھرنے کی مہم نہیں چلاتے، یہاں واضح طور پر بہت سے غیر شرعی امور پر عمل ہو رہا ہے مگر ان کے بارے میں آپ بالکل خاموش ہیں، آپ حضرات اس قسم کی چیزوں کے خلاف کوئی احتجاج نہیں کرتے اور نہ مسائل پر کوئی جلوس نکالتے ہیں۔ میں نے کہا کہ عرب میں آپ کو جو پرسکون زندگی حاصل ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہاں کے نظام سے ہم آہنگی اختیار کر کے آپ نے اس کی ضروری قیمت ادا کر دی ہے اگر ہندوستان کے مسلمان یہ قیمت ادا کرنے پر راضی ہو جائے تو وہاں بھی وہ عزت اور کامیابی کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔ مسلمانوں میں سے جو لوگ عرب ملکوں میں جاتے ہیں حتٰی کہ ان کے اکابر جو کانفرنسوں میں شرکت کرنے کے لیے عرب کا سفر کرتے رہتے ہیں ان کی زندگیوں میں عام ہندوستانی مسلمانوں کے لیے زبردست سبق ہے کہ مسلمان یا کافر عرب میں جا کر جس طرح وہاں کے نظام سے موافقت کر کے رہتے ہیں اسی طرح ہندوستانی مسلمان بھی ہندوستان کو اپنا ملک سمجھے اور یہاں کے حالات سے موافقت کر کے زندگی گزارے اس کے بعد انشاءاللہ ان کے لیے یہاں کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہ ہوگا۔
یہ صورت حال صرف عرب ممالک ہی کا نہیں ہے بلکہ یورپ و امریکہ اور دیگر ممالک کا بھی ہے جہاں ہر جگہ مسلمان کامل توافق کے ساتھ رہتے ہیں کہیں بھی کوئی قائد ملت حکومت کے خلاف شور و ہنگامہ نہیں کرتا اگر چہ وہاں بھی دسیوں مقامات پر شریعت کے علاوہ دوسرے قوانین نافذ العمل ہیں مگر وہاں کوئی نفاذ شریعت یا تحفظ شریعت کا جلسے جلوس نہیں ہوتا اور یہی اس بات کی قیمت ہے جو وہاں پر سارے لوگ امن و سکون کے ساتھ رہتے ہیں۔
اسی لیے”قیادت نامہ” محض ایک کتاب نہیں، یہ ایک آئینہ ہے جس میں مولانا وحید الدین خاں نے مسلمانوں کی قیادت کا وہ چہرہ دکھایا ہے جسے دیکھنا تکلیف دہ تو ہے مگر جس سے آنکھیں چرانا مزید تباہ کن ہے۔ جو قوم اپنی کمزوریوں کا سامنا کرنے کی بجائے ان پر پردہ ڈالتی رہے، جو قیادت اپنی قوم کو جگانے کی بجائے بھڑکاتی رہے، اور جو سماج ردِ عمل کو حکمتِ عملی سمجھتا رہے اس کا انجام تاریخ کے ہر دور میں یکساں رہا ہے۔
مولانا کا پیغام نہ مایوسی کا ہے نہ مصلحت کوشی کا — بلکہ یہ ایک باشعور، پر حکمت، حقیقت پسند اور دور اندیش قوم کی طرف دعوت ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان اپنے آپ کو شکایتوں کی زنجیروں سے آزاد کریں، اپنی صلاحیتوں پر بھروسا کریں، اور اپنے ماحول سے ٹکراؤ کی بجائے تعمیری توافق کا راستہ اختیار کریں۔ یہ راستہ آسان نہیں، مگر یہی وہ راستہ ہے جو تاریخ میں کامیاب اقوام نے اختیار کیا ہے۔
یہ کتاب ہر اس شخص کو ضرور پڑھنی چاہیے جو مسلمانوں کی موجودہ صورتِ حال پر سنجیدگی سے سوچتا ہو، خواہ وہ قائد ہو یا عام فرد — یہ کتاب بتاتی ہے تبدیلی ہمیشہ اوپر یا باہر سے نہیں، بلکہ اندر سے آتی ہے۔
