You are currently viewing مسافر کے ہاتھ نئے گیرج کا افتتاح

مسافر کے ہاتھ نئے گیرج کا افتتاح

*قبولیت دعا کے حیرت انگیز واقعات*
واقعہ نمبر/۹
📚 *مسافر کے ہاتھ نئے گیرج کا افتتاح*📚

تحریر: مسلم عبد العزیز الزامل
ترجمہ: مفتی ولی اللہ مجید قاسمی
(ناظم تعلیمات جامعہ انوار العلوم فتح پور تال نرجا، مئو، یوپی)

_________________________________________
ہم نے اِس کتاب میں قبولیتِ دعا کے جو واقعات بیان کیے ہیں وہ زیادہ تر سفر سے متعلق ہیں ،کیونکہ سفر بھی ان جگہوں میں سے ہے جہاں دعا قبول ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿قُلْ مَنْ يُّنَجِّيْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُوْنَہٗ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَۃً۝۰ۚ لَىِٕنْ اَنْجٰىنَا مِنْ ہٰذِہٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ۝۶۳ ﴾ [سورۃ الأنعام:۶۳]
”تم کہہ دو: تمہیں خشکی اور تری کی تاریکیوں سے کون نجات دیتا ہے؟ جب تم گریہ وزاری کے ساتھ چپکے چپکے اسے پکارتے ہو کہ اگر اس نے ہمیں اس سے نجات دی تو ہم ضرور اس کے شکر گزاروں میں شامل ہوجائیں گے۔“

اس لیے سفر سے متعلق ایک اور واقعہ بیان کیا جارہا ہے جو اَسّی (۸۰)کی دہائی میں پیش آیا، جس کے راوی ابو خالد کہتے ہیں کہ دوستوں کے ایک گروپ کے ساتھ عمرہ کرنے کے ارادے سے مکہ مکرمہ روانہ ہوئے۔ کویت واپسی میں ہماری ایک گاڑی خراب ہوگئی جس کی وجہ سے دمام کے قریب ایک پٹرول پمپ پر رکنا پڑا، اور میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا کہ کسی قریب ترین گیرج سے اسے ٹھیک کرا لاؤ، میں اور میرا ایک ساتھی اس کے لیے روانہ ہوئے،لیکن گاڑی اسٹارٹ ہوتے ہی ایکسلیٹر پر دباؤ کے بغیر خود بخود چلنے اور رفتار پکڑنے لگی، اور پریشانی کی بات یہ تھی کہ میں ایک ایسی سڑک پہ تھا جس پر دونوں طرف سے گاڑیاں آجارہی تھیں اور گاڑی کی رفتار کم کرنے کے لیے ہر بار گیر کاسہارا لینا پڑتا، میرا ساتھی سانس روکے ہوئے یہ منظر دیکھ رہا تھا، اسے نظر آرہا تھا کہ میں اپنے ارادہ واختیار کے بغیر گاڑیوں کو اُورٹیک کررہا ہوں اور گاڑی کی رفتار کبھی ۱۵۰کلو میٹر فی گھنٹہ سے آگے بڑھ جاتی، اسی کیفیت کے ساتھ ہم لوگ دمام پہنچ گئے۔ ایک جگہ گاڑی روکی اور گیرج کی تلاش میں پیدل نکل کھڑے ہوئے، لیکن وہ جمعہ کا دن تھا اور ہم لوگ دوپہر کے وقت پہنچے تھے اس لیے کوئی گیرج کھلا ہوا نہیں ملا، اور کوئی گاڑی بھی نظر نہیں آرہی تھی جو ہمیں شہر کے اندر لے جائے، اس لیے پیدل چلنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا، حالانکہ موسم بہت گرم تھا۔
ہم نے اللہ تعالیٰ کے آگے دستِ طلب کو پھیلا دیا، اس سے دعا مانگی کہ ہمیں اس مصیبت سے نجات دلا۔ اور اس کے بعد ہم نے طے کیا کہ ہم دونوں الگ الگ جگہوں پر تلاش کرتے ہوئے فلاں جگہ کے چوراہے پر ملیں گے۔ ایک طویل مسافت طے کرنے کے بعد ایک بڑے گیٹ کے پاس ہم دونوں کا آمنا سامنا ہوا جو کھلاہوا تھا لیکن اس پر کوئی بینر یا سائن بورڈ نہیں لگا تھا جس سے کہ اندازہ ہو کہ یہ کس چیز کی دوکان ہے، لیکن جب اندر داخل ہوکر دیکھا تو وہ ایک بالکل نیا گیرج تھا، ہم نے پہرے دار سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ جواب ملا: گیرج ہے، جس کا کل یعنی سنیچر کو افتتاح ہونے والا ہے، اور اسی تقریب کی تیاری کے سلسلے میں تمام کاریگر آج یہاں آئے ہوئے ہیں۔ وہ سب عمدہ یونیفارم پہنے ہوئے تھے، اور ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ ہم نے صورتحال بتلائی، پھر ہماری گاڑی وہاں لائی گئی، ان لوگوں نے پُرجوش انداز میں اور نہایت توجہ سے ہماری گاڑی کی مرمت کی، کیونکہ یہ ان کے لیے خوش فالی تھی کہ ان کے گیرج میں مرمت کے لیے پہلی گاڑی آگئی ہے، اور ہماری خوشی بھی قابلِ دید تھی کہ اچانک تیز دھوپ میں دوپہر کے وقت اور چھٹی کے دن اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس عزت کے ساتھ ہماری ضرورت پوری کردی۔ ہم کو تو صرف ایک گیرج کی تلاش تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک نئے گیرج میں پہنچا دیا جہاں کے کاریگر اس وقت ہماری آمد کی وجہ سے سب خوش تھے کہ جمعہ کے مبارک دن میں ہماری گاڑی وہ پہلی گاڑی تھی جو اس گیرج میں داخل ہوئی۔ یقینی طور پر دعا میں ایسی قوت ہے جو اسباب اور قوانین کے پردے کو چاک کردیتی ہے۔

جواب دیں