شہادت حسینؓ کاتاریخی پس منظر

شہادت حسینؓ۔۔۔۔کاتاریخی پس منظر

محمدمحفوظ قادری

9759824259

نواسئہ رسول،حضرت علی و فاطمہ رضی اللہ عنہماکے لخت جگرحضر امام حسین رضی اللہ عنہ اورآپ کے جاں نثار ساتھیوں کی 10محر م الحرام کو (کربلا کے میدان میں)شہادت واقع ہو ئی ہے۔یہ واقعہ تاریخ اسلام میں قیامت صغریٰ سے کم نہیں ہے کیونکہ آپ کی یہ جنگ حق اورباطل کے درمیان رسول اللہ کے لائے ہوئے دین مبین کی بقاء کی خاطرتھی۔اللہ نے آپ کے ذریعہ اس دین مبین کو ایسی بقاء عطافرمائی کہ آج تک نہ کوئی اس دین حق کو مٹا سکا ہے اور نہ کوئی صبح قیامت تک اس دین کو مٹانے کی جرأت کر سکتا ہے کونکہ اس دین حق کا حامی و ناصر اللہ رب العزت خود ہے۔

مناقب حسین رضی اللہ عنہ:

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی پیدائش مبارک 5 شعبان المعظم 4ھ کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا اسم مبارک حسین اورشبیر رکھا، آپ کی کنیت ابوعبداللہ،اورلقب سبط رسول،ریحانتہ الرسول ہے۔
آپ کو بڑے بھائی (حسن رضی اللہ عنہ )کی طرح جنتی جوانوں کا سرداراور فرزند بنایا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی چچی حضرت ام الفضل بنت الحارث،حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کی زوجہ ایک دن رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں،اورعرض کی یارسول اللہ!آج میں نے ایک پریشان کرنے والاخواب دیکھا ہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے معلوم کیا،وہ کیاہے ۔۔؟عرض کی وہ بہت ہی شدید ہے۔ان کو اس خواب کے بیان کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی مرتبہ معلوم کرنے پر عرض کیا کہ میں نے دیکھا جسم اطہر کا ایک ٹکڑاکاٹا گیا اورمیری گود میں رکھا گیا۔(حضورعلیہ السلام نے)ارشاد فرمایا تم نے بہت اچھا خواب دیکھا ہے،انشاء اللہ فاطمتہ الزہرا(رضی اللہ عنہا)کے بیٹا ہوگااوروہ تمہاری گود میں دیا جائے گا۔ایسا ہی ہوا،حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے اورحضرت ام الفضل کی گود میں دیئے گئے۔ام الفضل فرماتی ہیں کہ میں نے ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکرحضرت امام حسین کورسول اللہ کی گود میں دیا،کیا دیکھتی ہوں کہ (آپ)کی چشم مبارک سے آنسئوں کی لڑیاجاری ہیں،میں نے عرض کی یارسول اللہ!میرے ماں باپ آپ پر قربان!یہ کیا حال ہے۔فرمایا (پیارے رسول نے)جبریل علیہ السلام میرے پاس آئےاورانہوں نے یہ خبردی کہ میری امت اس فرزند کوقتل کرے گی،میں نے کہا:کیااس کو۔۔؟فرمایا ہاں!اور میرے پاس اس کے مقتل کی سرخ مٹی بھی لائے۔(رواہ البیہقی فی الدلائل)
احادیث میں شہادت حسین رضی اللہ عنہ کی خبریں کثرت سے آئیں ہیں۔ابن سعد وطبرانی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،مجھے جبریل نے خبر دی کہ میرے بعد میرافرزندحسین (رضی اللہ عنہ) زمین ’’طَف‘‘میں قتل کیا جائے گا،جبریل امین میرے پاس یہ مٹی لائے،انہوں نے عرض کی یہ حسین کی خواب گاہ (مقتل)کی خاک ہے۔
طَف قریبِ کوفہ اس مقام کا نام ہے جس کو کربلا کہتے ہیں۔(المعجم الکبیرللطبرانی)
حضرت فاطمہ اورحضرت انس رضی اللہ عنہما کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ (حسین)سینے سے قدم تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ تھے،اور شواہدالنبوہ میں آپ کے حسن وجمال کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ جب آپ اندھیرے میں بیٹھتے تو آپ کی مبارک پیشانی اوررخساروں سے روشنی نکل کر قرب وجوار کو روشن کر دیتی تھی۔
اپنے دونوں نواسوں حسنین کریمین کی فضیلت کو بیان کرتے ہوئے تاجدا کائنات حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ حسن اورحسین دونوں جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔

یزیدبن معاویہ:

ابوخالد اموی وہ بدنصیب شخص ہے کہ جس کی پیشانی پر پیارےرسول کے اہل بیت کو بے گناہ قتل کرنے کا سیاہ داغ ہے۔ہرزمانے میں دنیائے اسلام ’’یزید‘‘پرملامت کرتی رہی ہے اور تاقیامت کرتی رہے گی۔یہ بدبخت،سیاہ دل،ننگ خاندان25ھ میں امیرمعاویہ کے گھرمَیسون بنت بَحدل کلبیہ کے پیٹ سے پیدا ہوا،بہت ہی موٹا،بدنما،کثیرالشعر،بدخُلق،تُندخُو،فاسق،فاجر،شرابی،بدکار،ظالم،بے ادب اورگستاخ تھا۔
عبداللہ بن حنظلہ ابن الغسیل رضی اللہ عنہمانے فرمایا:خداکی قسم!ہم نے یزیدپر اس وقت خروج کیاجب ہمیں اندیشہ ہوگیاکہ اس کی بدکاریوں کے سبب آسمان سے پتھرنہ برسنے لگیں۔محرمات کے ساتھ نکاح،سوداورمنہیات کواس نے اعلانیہ طورپررائج کیا۔مدینہ طیبہ ومکہ مکرمہ کی اس نے بے حرمتی کرائی۔اصحاب اسراروفراست اس وقت سے ڈرتے تھے کہ سلطنت اس شقی و بدبخت کے ہاتھ میں نہ آجائے۔
59ھ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے دعا کی اللہم انی اعوذبک من رألستین وامارۃ الصبیان’’اے پروردگار!میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں60ھ کے آغازاورلڑکوں کی حکومت سے‘‘اس دعاسے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جوحامل اسرارتھے وہ سمجھتے تھے کہ60ھ کاآغاز لڑکوں کی حکومت اورفتنوں کا وقت ہے اسی وجہ سے انہوں نے59ھ میں مدینہ منورہ کو ہجرت فرمائی۔
رویانی نے اپنی مسند میں حضرت ابودردأرضی اللہ عنہ سے ایک حدیث روایت کی ہے جس کاخلاصہ اس طرح ہے کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سناکہ آپ نے فرمایا ’’میری سنت کوسب سے پہلےبدلنے والابنی امیہ کاایک شخص ہوگاجس کانام یزیدہوگا“۔ابویعلی نے اپنی مسندمیں حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’میری امت میں عدل وانصاف قائم رہے گا،یہاں تک کہ پہلارَخنہ اندازوبانئی ستم بنی اُمَیّہ کاایک شخص ہوگاجس کانام یزید ہوگا‘‘(سوانح کربلا،مصنف صدرالافاضلؒ،مرادآبادی)
بہرحال حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد رجب 60ھ۔680ء میں یزید بن معاویہ خلیفہ مقرر ہوااس کی عمر 24 سال تھی۔حضرت امیر معاویہ یزید کی خلافت کیلئے اپنی حیات میں ہی سب سے بیعت لے چکے تھے سوائے مکہ اورمدینے کے مقتدر حضرات کہ جن میں حضرت امام حسین، عبد اللہ بن زبیر،عبد اللہ بن عمر ،عبد اللہ بن عباس،اورعبد الرحمان بن ابی بکر نے یزید کی بیعت سے انکار کر دیا تھا۔باپ کے بعدجب یزید تخت نشین ہواتو یزید کو تخت نشین ہوتے ہی سب سے پہلےان حضرات سے بیعت لینے کی فکر ہوئی۔یزید نے مدینہ کے حاکم ولید بن عقبہ کو خط لکھاکہ امیر معاویہ کی موت اورمیرے تخت نشیں ہونے کا کسی کو علم ہو اس سے پہلے تم حسین بن علی اورعبد اللہ بن زبیر سے جس طرح بھی ممکن ہو میری بیعت حاصل کر لو،اس فرمان کے حاصل ہوتے ہی ولید بن عقبہ نے حضرت امام حسین اورعبد اللہ بن زبیر کو اپنے پاس بلایا۔یہ دونوں حضرات اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ ولید کے پاس پہنچے،ولیدنے امیرمعاویہ کی وفات کی ان حضرات کو خبردی اور یزید کے حق میں بیعت کی خواہش ظاہر کی۔
یہ سن کر حضرت امام حسین نے فرمایا مجھ جیسے لوگ چھپ کربیعت نہیں کیاکرتے سب کو جمع کرواورمجمع عام میں بیعت لوولید امن پسند حاکم تھا یہ جواب سن کر خاموش ہوگیا اورحضرت امام حسین وہاں سے رخصت ہونے لگے تو مروان نے ولید سے کہا کہ اگر تم نے ان سے آج بیعت نہیں لی توپھر کبھی موقع نہیں مل سکے گایاتو ان سے زبر دستی بیعت لو یا پھر بیعت نہ کرنے کا ان سے انتقام لو،مروان کے یہ جملے سن کر حضرت امام حسین نے پیچھے کو پلٹ کر کہا دوسروں کو بزدلانہ مشورہ کیوں دیتے ہو اگر ہمت ہے تو خود ہی مقابلہ پر آجاؤیہ حسینی جذبات سن کر مروان گھبرا گیا اورحضرت امام حسین کی خوشامد کر نے لگا بہرحال حضرت امام حسین اور عبد اللہ بن زبیروہاں سے واپس آگئے اورحالات کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے آپ نے مع متعلقین مکہ کوجانے کی تیاری شروع کردی،حضرت عبد اللہ بن زبیر اسی رات ہی مدینہ سے مکہ کو روانہ ہوگئے مگرحضرت امام حسین ایک یا دودن کے بعد روانہ ہوئے،روانگی سے قبل حضرت امام حسین مع اہل وعیال اپنے نانا جان تاجدار کائنا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے روضئہ مبارک پرحاضر ہوئے اورسلام عرض کیا اورمدینہ سے جدائی کا غم لیکر اہل بیت کا یہ چھوٹا سا مقدس قافلہ مدینہ سے مکہ کیلئے روانہ ہو گیا۔

کوفیوں کی طرف سے خطوط کا ملنا:

عراقیوں کی حالت بہت عجیب تھی یہ ایک طرف امیر معاویہ کے بہت بڑے مخالف اوردوسری طرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کا سچا عاشق بن کر دکھا تے تھے لیکن جب امیر معاویہ سے مقابلہ کا وقت آتا تو یہ میدان سے بھاگتے ہوئے نظر آتے،لیکن جب بھی ان کو موقع ملتا تو یہ عاشقان اہل بیت بن کر میدان میں ضرورآجایا کرتے تھے خواہ ان کو میدان چھوڑنا ہی کیوں نہ پڑے۔یزید کی تخت نشینی کے بعد یہ عاشقان علی ایک بارپھر میدان میں آگئے اورانہوں نے حضرت امام حسین کے مکہ پہنچنے کے بعد سینکڑوں خطوط بھیج کرحضرت امام حسین سے درخواست کی سارا عراق آپ کے ساتھ ہے کوفہ آکر ہم سب مسلمانوں کو یزید کی ناپاک حکومت سے بچا لیجئے،اور کوفیوں کا ایک وفد بھی اپنا معروضہ لیکر امام حسین کی خدمت میں حاضر ہوااور عرض کی کہ اہل کوفہ اورپورا عراق آپ کے ساتھ ہے آپ ہمارے ساتھ چل کر حکومت سنبھال لیجئے۔حضرت امام حسین نے ان کا یہ جوش وجذبہ دیکھ کر خود جانے کے بجائے اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل کو کوفہ روانہ کیا تاکہ مسلم بن عقیل وہاں کا معائنہ کرکے صحیح حالات سے مطلع کریں۔

ہزارہا کوفیوں کابیعت کرنا:

مسلم بن عقیل نے کوفہ پہنچ کر مختار بن عبیدثقفی کے یہاں قیام کیا اور کوفی گروہ درگروہ مسلم بن عقیل کی خدمت میں حاضر ہونے لگے اورمسلم بن عقیل کو یقین دلایا کہ ہم حضرت امام حسین پر اپنا جان و مال سب کچھ قربان کرنے کی قسمیں کھاتے ہیں اُس وقت کوفہ کے حاکم نعمان بن بشیر تھے ان کو معلوم ہوا کہ یزید کی حکومت کا تختہ پلٹنے کیلئے مختار بن عبید کے گھر پر مسلم بن عقیل کے ذریعہ سازشیں ہورہی ہیں،تو نعمان حاکم نے مختار اوردوسرے لوگوں کو آگاہ کیا کہ وہ اس فتنہ پردازی سے باز آجائیں لیکن انہوں نے کوئی سخت قدم نہیں اُٹھا یا۔نعمان کی اس تنبیہ کے بعد مسلم بن عقیل ہانی بن عروہ کے مکان پر منتقل ہو گئے اور یہاں اٹھارہ ہزار کوفیوں نے مسلم بن عقیل کے ہاتھ پر حضرت امام حسین کی خلافت کیلئے بیعت کر لی،یہ عقیدت و محبت دیکھ کر مسلم بن عقیل نے امام حسین کوخط لکھاکہ یہاں ہر طرح سے حالات ساز گار ہیں اٹھارہ ہزارکوفیوں نے میرے ہاتھ پر آپ کے حق میں بیعت کرلی ہے آپ تشریف لے آیئے۔

مسلم بن عقیل اور کوفہ کے حاکم کا مقابلہ:

ہزار ہا کوفیوں کا امام حسین کے حق میں بیعت کر نا بہت نازک مسئلہ تھا کوفہ کے جاسوسوں نے ایک دم یہ خبر یزید کو دے دی یہ خبر ملتے ہی یزید گھبرا گیا اور یزید نے بصرہ کے حاکم عبید اللہ بن زیاد کو حکم دیا کہ فوراً کوفہ پہنچ کراس فتنہ کو ختم کرنے کی کوشش کریں اور مسلم بن عقیل کو یا تو کوفہ سے نکال دو یا قتل کرو!عبیداللہ بن زیاد بہت ہی ظالم و جابرشخص تھا اس نے کوفہ آکراعلان کر دیا کہ جو بھی مسلم بن عقیل کو اور اس کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں کو پناہ دیگا اس کو سولی پرلٹکا دیا جائے گااور اس نے مسلم بن عقیل کو تلاش کرنا شروع کردیا یہ خبر ملتے ہی ہانی بن عروہ نے مسلم بن عقیل کو دوسری جگہ منتقل کر دیاابن زیاد کو معلوم ہوا کہ مسلم کو پناہ دینے میں ہانی کا ہاتھ ہے تو ابن زیاد نے ہانی بن عروہ کو گرفتار کرالیا اور کہا کہ مسلم کو ہمارے حوالہ کرو،ہانی نے ابن زیاد سے منع کردیا کہ وہ کسی بھی حالت میں اپنے مہمان کو آپ کے حوالہ نہیں کریں گے یہ الفاظ سن تے ہی ابن زیاد نےغصہ میں آکر ہانی کو بری طرح مار پیٹ کر زخمی کیا اوران کو قید کردیا۔ہانی بری طرح پٹائی سے زخمی ہو چکے تھے یہ خبر کوفہ میں چاروں طرف پھیل گئی کہ ہانی کو مار مار کر ابن زیاد نے ہلاک کر دیا ہے جب یہ خبر مسلم بن عقیل کو ملی کہ ان کے میزبان کو ان کی وجہ سے ابن زیاد نےقتل کرادیا ہے اوران کا جرم یہ ہے کہ انہوں نے خاندان اہل بیت کے ایک فرد کو پناہ دی ہے یہ سن تے ہی مسلم بن عقیل کی غیرت ایمانی جوش میں آگئی اوراپنے ساتھ اٹھارہ ہزار کوفیوں کو لیکر میدا ن میں آگئے اورعبیداللہ بن زیاد کو قصرِ امارت میں گھیر لیا۔

مسلم بن عقیل کی شہادت اور کوفیوں کی غداری:

عبیداللہ بن زیاد کیلئے یہ بہت ہی دشوار وقت تھا اس کے پاس صرف پچاس آدمی تھے اورحفاظتی انتظامات بھی مکمل نہیں تھے ابن زیاد نے کوفہ کے سرکردہ حضرات پر زور دیا کہ وہ اپنے اپنے قبیلہ کے لوگوں کو واپس بلائیں اور اعلان کریں کہ جوشخص امیر کی اطاعت کرےگااسے انعام سے نوازہ جائے گا اورجومخالفت کرے گا اس کو سخت سزادی جا ئیگی،اس اعلان کو سن تے ہی تمام عاشقان اہل بیت جو امام حسین کے حق میں مسلم بن عقیل کے ہاتھ پر بیعت کر چکے تھے ان کا جوش و جذبہ ٹھنڈا ہو گیا اورمسلم بن عقیل کے ساتھیوں کی ایک بڑی تعداد ابن زیاد کی دھمکی سے ڈر کر مسلم بن عقیل سے الگ ہوگئی،اور کچھ لوگوں نے سرکردہ حضرات کے کہنے پر انعام کے لالچ میں آکر مسلم بن عقیل کا ساتھ چھوڑ دیا غرض کہ اٹھارہ ہزارکے مجمع میں سے صرف تیس آدمی اُن کے ساتھ باقی بچے،اس طرح کوفیوں نے غداری کر کے اپنی قدیم روایت کو زندہ کیا،مسلم بن عقیل نے جب کوفیوں کی غداری دیکھی تو پہلے آپ نے ایک مکان میں پناہ لی لیکن غداروں نے اس مکان کابھی پتہ بتا دیا اورابن زیاد کی فوج نے اس مکان کوچاروں طرف سے گھیر لیا آپ نے اپنے آپ کو گھرا ہوا دیکھ کرجان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے فوج سے مقابلہ شروع کردیا تیس آدمی جو آپ کے ساتھ باقی رہ گئے تھے وہ بھی فرار ہوگئے اور آپ اکیلے لڑتے رہے یہاں تک آپ زخموں سے چور ہوکر گر پڑے اورآپ کو گرفتارکر کے ابن زیاد کے سامنے لایا گیا توابن زیاد نے آپ کوقتل کرا دیا۔آپ نے شہادت سے قبل عمربن سعدجو ان کا قریبی عزیز اور اموی حکام میں سے تھا اس کو یہ وصیت کی امام حسین کویہاں کے تمام حالات وواقعات سے آگاہ کردیں اوران کو راستہ سے ہی واپس کر دینا۔

امام حسین رضی اللہ عنہ کی کوفہ کو روانگی:

کوفہ میں قیامت برپا ہوچکی تھی اور حضرت امام حسین مکہ سے کوفہ کی طرف سفر کی تیاری میں مصروف تھے مسلم بن عقیل کا وہ خط کہ جس میں اٹھارہ ہزار کوفیوں کی بیعت کی خبر تھی اس نے امام حسین کو شک میں ڈال دیا تھا حضرت امام حسین سے محبت کرنے والے لوگ جن میں خاص طور سے عمربن عبد الرحمان،عبد اللہ بن عباس،عبد اللہ بن زبیر ان سب ہی لوگوں نے آپ کے اس فیصلہ کی مخالفت کی اورآپ کو گذشتہ غداریوں اور دھوکہ دہی کے واقعات یاد دلائے لیکن آپ اپنے ارادے پر قائم رہے۔عبداللہ بن عباس نے دیکھا کہ آپ ماننے کو تیار نہیں ہیں اورکوفہ جاکر ہی رہیں گے تو انہوں نے آپ سے گزارش کی کہ اہل عیال کو ساتھ لیکر نہ جاؤ، لیکن اللہ کا حکم کچھ اورتھا ساری کوششیں و تدابیر ناکام ہوگئیں اور حضرت امام حسین کے ارادے میں ذرہ برابر تبدیلی نہیں آئی بلکہ بعض مئورخوں کا بیان ہے کہ چاہنے والوں نے جب آپ کو کوفہ جانے سے روکنے کی زیادہ کوشش کی تو امام حسین نے فرمایا کہ نانا جان نے مجھے بذریعہ خواب یہی حکم دیا ہے کہ میں اس کو پورا کروں!اورمیرا سر جائے یا رہے۔
بہرحال آپ اپنے چاہنے والے عزیزوں اور رشتہ داروں کو روتا ہوا چھوڑ کر اہل بیت کے مختصر قافلہ کو لیکرذی الحجہ60ھ کو کوفہ کیلئے روانہ ہوئے۔

حضرت امام حسین اوریزیدی فوج:

امام حسین راستہ میں ہی تھے کہ کوفہ سے آنے والے لوگوں نے مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر دی یہ خبر سن کر آپ کو بے حد رنج وغم ہوااورساتھ میں چلنے والوں نے مشورہ دیا کہ یہیں سے کوفہ جانے کا ارادا ملتوی کردیا جائے لیکن مسلم بن عقیل کے بھائیوں نے کہا کہ ہم واپس نہیں ہوں گے یاتو ہم اپنے بھائی کا بدلہ لیں گے یاہم بھی اپنی جانیں قربان کردیں گے اورسفر جاری رہااس قافلہ کو آگے چل کر عمربن سعد کا بھیجا ہوا قاصد ملا جو مسلم بن عقیل کی وصیت کے مطابق امام حسین کو کوفہ جانے سے روکنے کیلئے آرہا تھا آپ نے اس سے حالات معلوم کرنے کے بعد اپنے ساتھیوں سے کہا کہ مسلم بن عقیل اورہمدردساتھیوں کو شہید کردیا گیا ہے کوفیوں نے اپنا وعدہ توڑ دیا ہے حالات نازک ہیں تم میں سے جو بھی واپس جانا چاہے جا سکتا ہے آپ کے اس فرمان کے بعد جو لوگ راستہ میں سے شامل ہوئے تھے واپس ہوگئے۔ابن زیاد کو مکہ سے امام حسین کی روانگی کی خبر ہوچکی تھی اس نے حُر بن تمیمی کو ایک ہزار کا لشکر لیکر حضرت امام حسین کے مقابلہ کیلئے روانہ کیااورحکم دیا کہ امام حسین اوران کے ساتھیوں کو گھیر کر میرے پاس لے آؤ۔حُر کے دل میں امام حسین کی بہت زیادہ محبت وعظمت تھی حُر نے امام حسین کے قافلہ کو گھیر کر ان کوموقع دیا کہ وہ رات کے وقت کسی اورطرف نکل جائیں لیکن امام حسین نے کسی اور طرف جانا گوارہ نہیں کیا اور یہ قافلہ آگے کو بڑھتا رہااور یہ مقدس قافلہ 2محرم الحرام 61ھ کوکربلا کے میدان میں خیمہ زن ہو گیا۔
3محرم الحرام کو عمربن سعد بھی چار ہزار کا لشکر لیکرحضرت امام حسین سے مقابلہ کیلئے کربلا کے میدان میں پہنچ گیا،یہ حضرت امام حسین کا عزیز تھا مگر اس کو رَئے کی حکومت کا لالچ دیکر بھیجا گیا تھا۔عمر بن سعد کیلئے یہ امتحان کا وقت تھاسوچنے لگا کہ اگرحضرت امام حسین اور انکا قافلہ اس کے ہاتھ سے مارا جاتا ہے تو وہ قیامت تک کسی کو منھ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا اوراگر جنگ سے بھاگتا ہے تو رَئے کی حکومت ہاتھوں سے جاتی رہے گی۔عمر بن سعد نے سوچا کہ کسی بھی طرح آپس میں سمجھوتا کر ادیا جائے لیکن اس کی یہ تمام کوششیں ناکام ہوئیں اور 7محرم الحرام کو ابن زیاد کی طرف سے اسے حکم ملا کہ دریا پرپہرا لگا دو تاکہ اہل بیت کو پانی بھی میسر نہ ہو سکے،لیکن پہرے کے باوجود بھی حضرت امام حسین کے سوتیلے بھائی عباس بن علی لڑجھگڑکر پانی لے ہی آتے تھے۔

شمر سے مقابلہ:

ابن زیاد کو عمر بن سعد پر شک ہو گیا کہ یہ امام حسین سے ملا ہوا ہے اس لئے ابن زیاد نے شمر ذی الجوشن کو امام حسین کے مقابلہ کیلئے بھیجااورعمر بن سعد کو لکھا کہ تم نے حسین سے مصالحت کیلئے کئی دن برباد کر دئے ہیں میرے اس حکم کے ملتے ہی یاتو حسین سے بیعت لیکر میرے پاس لے آؤ یا پھرجنگ شروع کردو۔عمر بن سعد کو 9محرم الحرام کو جب یہ حکم ملا تو اس کے دل کی حالت بھی بدل گئی اوردنیا دین پر غالب آگئی۔اور رَئے کی حکومت کے لالچ میں سعد نے حضرت امام حسین اوران کے ساتھیوں کے ساتھ سختی سے پیش آنا شروع کردیا حضرت امام حسین پر زور دیا گیا کہ وہ یزید کی خلافت قبول کرلیں اور اس کیلئے آپ کے گھر والوں کو طرح طرح سے ستایا گیا،معصوم بچوں کو پانی سے تڑپایا گیا، عورتوں کے خیموں کو آگ لگانے کی ناپاک کوشش کی گئی مگر حضرت امام حسین کے ارادے ذرہ برابر َسرد نہ ہوسکے اورآپ اپنی بات پر پتھر کی چٹان کی طرح قائم ر ہے۔نہ سختیاں آپ کے قدم پیچھے کو ہٹا سکیں اور نہ دنیوی عیش وآرام آپ کے قدم ڈگمگا سکا آپ برابر یزید کی بیعت سے انکار کرتے رہے۔

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت:

آخر 10محرم الحرام 61ھ کو حق وباطل کی وہ جنگ چھڑ ہی گئی جس پر انسانیت قیامت تک آنسو بہاکر شرمسار ہوتی رہے گی جنگ شروع ہونے سےقبل امام حسین نے اپنے بھائیوں،بیٹوں،بھتیجوں اورساتھیوں سے کہا کہ میرے ساتھ اپنی جانوں کو قربان نہ کرو لیکن مردوں،عورتوں اور بچوں نے آپ کا ساتھ چھوڑنے سے انکار کردیا۔آپ کی بہن حضرت زینب نے جب بھائی اور پورے خاندان کو جنگ کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا تو رونیں لگیں آپ نے انکو تسلی دی اورصبرسے رہنے کو کہا،جنگ شروع ہوگئی ایک طرف حضرت امام حسین کے قافلہ میں72افرادجن میں 22اہل بیت کے جوان اورخاندا ن نبوی کی کچھ خواتین اورغلام چھوٹے اور بڑے تین روز سے بھوکے پیاسے شامل تھے۔دوسری طرف چار ہزار پرمشتمل یزیدی لشکر تھا یزیدی لشکر جب ان معصوموں کی جانب بڑھنے لگا تو تو یزیدی فوج کے ایک نیک دل سردار حُر نے اسے روکناچاہا لیکن لشکر نہیں رکا تو حُر اور اس کے چند ساتھی حضرت امام حسین کی حمایت میں لڑنے لگے اور لڑکر جان دیدی۔امام حسین کے قافلہ میں اگر چہ گنے چنے آدمی تھے وہ بھی تین دن کے پیاسے تھے لیکن ان میں سے ہر ایک نے جرأت و بہادری کی ایسی مثال پیش کی جسے رہتی دنیا تک فراموش نہیں کیا جاسکتا ان میں سے ایک ایک یا دودو مجاہد آگے کو بڑھتے اور یزیدی لشکر کو چیر تے ہوئے آگے کو بڑھتے چلے جاتے جب حسینی قافلہ کے اکثر لوگ شہید ہوگئے تو حضرت امام حسین کے صاحبزادے حضرت علی اکبر،عبداللہ بن مسلم اورجعفرطیار کے پوتے عدی میدان کار زار میں آئے اور یہ بھی شہید ہوگئے۔ان کے بعد عبد الرحمان بن عقیل حضرت امام حسن کے صاحبزادے قاسم اورابو بکر نے جام شہادت نوش فرمایا۔
آخرمیں حضرت امام حسین خود میدان عمل میں آئے تو یزیدیوں نے چاروں طرف سے تیروں کی برسات شروع کردی۔حضرت امام حسین زخموں کی کثرت کی وجہ سے نڈھال ہو چکے تھے کہ اُسی وقت ایک بد بخت نے ایسا تیر مارا کہ آپ کا چہرہ بھی لہو لہان ہوگیا اور آپ کے جسم مبارک میں زیادہ طاقت باقی نہ رہی ساتھ ہی یزیدیوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا زرعہ بن شریک تمیمی نے آپ کی گردن پر کئی وار کرکے اورزخمی کر دیا اور آپ زخموں کی تاب نہ لاکر گِر پڑے آپ کے گِرنے کے بعد خولی نے سر اقدس جسم مبارک سے جدا کر دیا اس طرح حق وباطل کی یہ جنگ اس دردناک سانحہ پر ختم ہو گئی ۔شہادت کے دوسرے دن شہداء کی لاشیں دفن کی گئیں،حضرت امام حسین کا سر مبارک ابن زیاد کے پاس کوفہ روانہ کر دیا گیا تھا اس لئے آپ کے جسم مبارک کو بغیر سر کے ہی دفن کیا گیا۔(از۔تاریخ اسلام)الغرض ان کے نانا جان کا لایا ہوا دین آج بھی باقی ہے اورصبح قیامت تک اس دین کے اسی طرح چرچے ہوتے رہیں گے اورجو بھی اس دین کی پناہ میں آجائے گا اللہ رب العزت اس کو بھی دارین کی عزتیں عطا فرمائے گا اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمارے اندر بھی حسین جیسا جذبہ ایمانی پیدا فرمائے تاکہ ہمارا ظاہر وباطن ہر طرح کے لہو لعب و فسق وفجور سے پاک وصاف ہو،حسینی اخلاق وروح ہمارے اُپر غالب آجائے اور یزیدیت جیسے نفس کا خاتمہ ہو جائے۔مسلمانوں کو چاہئے کہ دس محرم الحرام کو اہل بیت و شہدائے کربلا کی بار گاہ میں خراج عقیدت (ایصال ثواب،سبیل،لنگروغیرہ تقسیم کرکے’’شریعت کی حدودمیں رہ کر‘‘)پیش کریں،اوردارین کی سعادتوں کےحقداربنیں ۔آمین

اپنی راۓ یہاں لکھیں