رمضان اور مسلمان

رمضان اور مسلمان

(رمضان سیریز: 6) 

رمضان اور مسلمان

ذکی الرحمٰن غازی مدنیج

امعۃ الفلاح، اعظم گڑھ

رمضان سروں پر سایہ فگن ہے۔ کون مسلمان ہے جو ماہِ مبارک کی خصوصیات وبرکات جانتا اور اس میں مطلوبہ اعمال وافعال سے واقف نہیں ہے؟ حق یہ ہے کہ رمضان کے بارے میں اب کہنے سننے اور جاننے سمجھنے کو زیادہ کچھ نہیں رہ گیا ہے؟ ہاں ایک چیز البتہ ابھی باقی ہے، وہ یہ کہ ہم میں سے ہر ایک یہ عزمِ مصمم کرے کہ اب تک زندگی جیسی بھی گزری گزر گئی اور جو ہوا سو ہوگیا، لیکن اس بار ہم اس مبارک مہینے کی برکتوں اور رحمتوں سے بھرپور استفادہ کریں گے، اور اس روحانی سیزن میں اسلامی تربیت کے سانچے میں ڈھلے مومنانہ کردار کو تادمِ واپسیں باقی رکھیں گے، اور اس سلسلے میں کسی قسم کی مداہنت، لچک اور غفلت یا کوتاہی کو گوارا نہیں کریں گے۔ 

صدہا مبارک ہیں وہ پاک طینت نفوس جو اس عہد کو وفا کریں اور اس راہ میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کریں۔ 

 غور کریں تو اس ماہِ مبارک کے تعلق سے آج ہمارے اندر چار قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں: 

  (الف) پہلی قسم ان مسلمانوں کی ہے جن کو رمضان المبارک کے آنے، رکنے اور جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بلکہ بسااوقات ان لوگوں کو رمضان المبارک کی آمدورفت کا پتہ بھی نہیں چلتا۔ پورے سال کی طرح رمضان میں بھی بے دینی اور ترکِ عبادات کا ان کا رویہ سرِ مو نہیں بدلتا ہے۔ ان بھائیوں کو اللہ توفیق دے تو دے ورنہ ان کی اصلاح کی کوئی امید بہ ظاہر نہیں کی جا سکتی۔ کسی کے ایمان واسلام کا فیصلہ تو آخرت میں اللہ تعالیٰ ہی فرمائے گا، لیکن ان کی موجودہ حالت غضب ِ الٰہی کو بھڑکانے والی بنی ہوئی ہے۔ والعیاذ باللہ۔ 

  (ب) دوسری قسم ان برساتی مینڈکوں کی ہے جو رمضانی برکت وسعادت کی پہلی بارش پر بہت بڑی تعداد میں رونما ہوتے ہیں اور بڑی شد و مد کے ساتھ آوازے بلند کرتے ہیں، لیکن جیسے جیسے ابرِ رحمت میں تیزی آتی جاتی ہے اور فیوض و برکات کا سیلاب برستا ہے یہ خس و خاشاک کی طرح غائب ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں مراد وہ لوگ ہیں جو رمضان المبارک کی آمد پر نمازوں میں حاضری، تلاوتِ قرآن اور نیکیوں کا بڑا اہتمام کرتے ہیں، لیکن ہفتہ دس دن گزرتے نہیں کہ سب چیزوں کو خیرآباد کہہ کر اپنی سابقہ روش پر لوٹ جاتے ہیں۔

 یہ بڑی بدبختی، محرومی اور توفیقِ خداوندی سے دوری کی بات ہے۔ اور اندیشہ اس کا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی توفیق سے محروم رکھنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے، اس لیے انہیں اس مبارک مہینے میں دل جمعی واستقلال کی دولت سے نہیں نوازا گیا۔ اللہ تعالیٰ اپنے جن بندوں سے ناراض ہوتا ہے ان کو نیکیوں پر جمنے کی توفیق نہیں دیتا ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلَوْ عَلِمَ اللّہُ فِیْہِمْ خَیْْراً لَّأسْمَعَہُمْ وَلَوْ أَسْمَعَہُمْ لَتَوَلَّواْ وَّہُم مُّعْرِضُونَ} (الانفال:۲۳) ۔ ’’اگر اللہ کو معلوم ہوتا کہ ان میں کچھ بھی بھلائی ہے تو وہ ضرور ان کو سننے کی توفیق دیتا (لیکن بھلائی کے بغیر) اگر وہ ان کو سنواتا تو وہ بے رخی کے ساتھ منھ پھیر جاتے۔ ‘‘

 سلبِ توفیق کے علاوہ اس کی کوئی دوسری توجیہ سمجھ میں نہیں آتی، ورنہ کون نہیں جانتا کہ رمضان کا آخری حصہ اس کے ابتدائی حصے سے افضل ہوتا ہے۔ احادیث میں ’’نجات من النار‘‘ اور’’ عتق من النار‘‘ کا وعدہ بھی اسی کے حوالے سے کیا گیاہے اور اسی میں وہ رات (لیلۃ القدر) ہے جو قرآن کی تصریح کے مطابق ہزار مہینوں سے بہتر ہوتی ہے۔ 

  (ج) تیسری قسم میں وہ لوگ آتے ہیں جو رمضان کے پورے مہینے میں مساجد کو آباد کرتے نظر آئیں گے، تلاوت، اذکار اور اعمالِ صالحہ کا اہتمام بھی کریں گے، لیکن ماہِ مبارک گزرتے ہی اپنی قینچولی اتار دیتے ہیں اور رنگ روپ سے لے کر ظاہر وباطن سب کچھ بدل ڈالتے ہیں۔ ان میں بہت سے افراد کا مسلک تو شاید یہ ہے کہ عید کا دن ان تمام حرام کاموں کے ارتکاب کا دن ہے، جن سے ماہِ مبارک نے انہیں دور کر دیا تھا۔ چنانچہ نمازیں نہیں پڑھیں گے، فلمیں دیکھیں گے، ڈی جے بجاکر ناچیں گے اور ہر لحاظ سے ثابت کریں گے کہ اب وہ رمضان کی قید سے چھوٹ گئے ہیں۔

یہ قسم بھی بڑی حد تک پچھلی قسم سے مشابہ ہے۔ پیارے نبیﷺ نے اپنی دعائوں میں ہدایت کے بعد گمراہی سے پناہ مانگی ہے، اور قرآن نے بھی ہمیں یہی تعلیم دی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:{رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ ہَدَیْْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِن لَّدُنکَ رَحْمَۃً إِنَّکَ أَنتَ الْوَہَّابُ} (آل عمران:۸) ’’پروردگار! جب تو ہمیں سیدھے راستے پر لگا چکا ہے، تو پھر کہیں ہمارے دلوں کو کجی میں مبتلا نہ کر دیجیو۔ ہمیں اپنے خزانۂ فیض سے رحمت عطا کر کہ تو ہی فیاضِ حقیقی ہے۔ ‘‘ 

ایمان والوں سے یہی مطلوب ہے کہ زندگی کی آخری سانس تک اپنے رب کی عبادت وفرماں برداری کا شیوہ اپنائے رہیں۔اللہ تعالیٰ اپنے نبیﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ: {وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتَّی یَأْتِیَکَ الْیَقِیْنُ} (الحجر:۹۹) ’’اور اس آخری گھڑی تک اپنے رب کی بندگی کرتے رہو جس کا آنا یقینی ہے۔ ‘‘ یہی حکم ہر امتی کے لیے بھی ہے۔ 

  (د) چوتھی قسم ان خوش نصیبوں کی ہے جو کیا رمضان اور کیا غیر رمضان، ہر آن اپنے ربِ کریم کی طاعت و عبادت میں مصروف رہتے ہیں، تاہم رمضان المبارک کی آمد ان کی ایمانی بیٹری کا ریچارج ثابت ہوتی ہے۔ اس ماہ میں ان کی قوتِ کار کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اس وقت نیکیوں کے حصول میں ان کا جذبہ، تلاوت وتسبیح میں ان کا استغراق اور با برکت مہینے کی ہرہر گھڑی سے ان کا پورا پورا فائدہ اٹھانا، قابلِ رشک اور قابلِ تقلید ہوتا ہے۔ نماز، زکات، صدقات، حسنِ سلوک، صلہ رحمی، تقسیمِ خیرات اور روزے داروں کو افطار کرانا؛الغرض خیر کے ہر دروازے پر یہ لوگ دستک دیتے ہیں۔ 

نیز رمضان المبارک کے گزرنے کے بعد بھی ان کی اس کیفیت اور حالت میں کوئی اصولی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ ان قدسی صفت انسانوں کو یہ بات مستحضر رہتی ہے کہ دنیا محض امتحان گاہ ہے اور اس سے فراغت کا مرحلہ ما بعد الموت ہی ملے گا۔ {وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتَّی یَأْتِیَکَ الْیَقِیْنُ} (الحجر:۹۹) ’’اور اس آخری گھڑی تک اپنے رب کی بندگی کرتے رہو جس کا آنا یقینی ہے۔ ‘‘ 

  ذرا کچھ دیر سوچو کہ فلاں فلاں صاحب جنہیں ہم گزشتہ سال رمضان کے مہینے میں دیکھتے تھے،کہاں گئے؟ وہ لوگ کہاں ہیں جنہوں نے گزشتہ سال ہمارے ساتھ روزے رکھے تھے مگر آج وہ اس دنیا میں نہیں ہیں؟ کیا ہمیں معلوم ہے کہ وہ آج سب سے زیادہ کس چیز کے آرزو مند ہیں؟ ان کی تمنا بس یہی ہے کہ کاش وہ دوبارہ دنیا میں لوٹ آئیں اور کچھ نیکیاں کما لیں۔ لیکن اب ان کو یہ اجازت نہیں ہے۔ اگر یہ موقعہ ہے تو ہم لوگوں کے پاس ہے۔ لیکن کیا ہمیں اس کاکما حقہ احساس اور شعور ہے؟

کیا واقعی ہمارا عقیدہ و ایمان ہے کہ ہمیں ایک دن اس جہانِ فانی سے منتقل ہوکر ہمیشہ باقی رہنے والی دنیا میں جانا ہے، اور وہاں ہمیں ہمارے ہر عمل کا پورا بدلہ ملے گا، اور جو وہاں کامیاب چھوٹا وہی اصل کامیاب ہے۔ {کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ وَما الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا إِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُورِ} (آل عمران:۱۸۵) ۔ ’’آخر کار ہر شخص کو مرنا ہے اور تم سب اپنے اپنے پورے اجر قیامت کے روز پانے والے ہو۔ کامیاب دراصل وہ ہے جو وہاں آتشِ دوزخ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے۔ رہی یہ دنیا، تو یہ محض ایک ظاہر فریب چیز ہے۔”

 ہمارے مشاہدے میں کتنے افراد ایسے ہیں جو باوجود شدید تمناؤں کے روزے نہیں رکھ پاتے کیونکہ امراض و دیگر عوارض مانع ہیں، اور ہم بد نصیب ہیں کہ دن رات اللہ رب العزت کی بیشمار نعمتو ں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے بھی نا شکرے اور نٹھلّے بنے ہوئے ہیں۔

 یاد رکھو! اللہ تعالیٰ ناشکری کے رویہ سے بہت نفرت کرتا ہے، جبکہ شکرگزاری کے رویہ پر وہ نعمتوں کو قائم ودائم رکھتا ہے اور ان میں اضافہ بھی فرماتا ہے۔ارشادِ باری ہے:{وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِن شَکَرْتُمْ لأَزِیْدَنَّکُمْ وَلَئِن کَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ} (ابراہیم:۷) ’’اور یاد رکھو، تمہارے رب نے خبردار کردیا تھا کہ اگر شکر گزار بنو گے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا، اور اگر کفرانِ نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے۔ ‘‘ 

یہ بات کاش ہمارے دلوں میں نقش ہوجائے: {وَاتَّقُواْ یَوْماً تُرْجَعُونَ فِیْہِ إِلَی اللّہِ ثُمَّ تُوَفَّی کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَہُمْ لاَ یُظْلَمُونَ} (البقرۃ:۲۸۱) ۔ ’’اس دن کی رسوائی ومصیبت سے بچو، جب کہ تم اللہ کی طرف واپس ہوگے، وہاں ہر شخص کو اس کی کمائی ہوئی نیکی یا بدی کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی پر ظلم ہرگز نہ ہوگا۔ ‘‘ 

 اللہ تعالیٰ ہمیں اس مبارک ماہ کی ہر ساعت کے درست استعمال کی توفیق دے۔ آمین یا رب العالمین۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

اپنی راۓ یہاں لکھیں