(ایمانیات سیریز: 7)
توحیدِ اسماء وصفات
ذکی الرحمٰن غازی مدنی
جامعۃ الفلاح، اعظم گڑھ
ارشادِ باری ہے:{ قُلِ ادْعُواْ اللّہَ أَوِ ادْعُواْ الرَّحْمَـنَ أَیّاً مَّا تَدْعُواْ فَلَہُ الأَسْمَاء الْحُسْنَیٰ}(بنی اسرائیل،۱۱۰) ’’اے نبیؐ، ان سے کہو کہ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمن کہہ کر، جس نام سے بھی پکارو اس کے لیے سب اچھے نام ہیں۔‘‘
آخری صحیفۂ ہدایت قرآن نے کوشش کی کہ بندوں کو ان کے پروردگار اور معبود سے اچھی طرح روشناس کرائے۔ چنانچہ باری تعالیٰ کے ناموں اور صفتوں کا تذکرہ قرآن میں بار بار ہوا ہے۔
ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے رب کے اسمائے حسنیٰ اور جن صفاتِ جلال وکمال سے وہ متصف ہے انھیں جان لے تاکہ پھر پوری بصیرت اور انشراح کے ساتھ اللہ کی عبادت کرے اور ان اسماء وصفات کے تقاضوں کے مطابق اپنی زندگی ڈھالے اور ان کے اثرات وبرکات کو اپنی عبادتوں میں اتارے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے تناظر میں جو نام یا صفات قرآن میں اور اللہ کے رسولﷺ کی زبان سے ظاہر فرمائے ہیں،ہر بندۂ مومن ان پر ایمان رکھتا ہے۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے بہترین نام ہیں اور جامع ترین صفات ہیں۔ ان اسماء وصفات میں کوئی اس کا ہمسر اور مثیل نہیں ہے۔ { لَیْْسَ کَمِثْلِہِ شَیْْء ٌ وَہُوَ السَّمِیْعُ البَصِیْرُ}(شوریٰ،۱۱)’’کائنات کی کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں، وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔‘‘ باری تعالیٰ اپنے تمام ناموں اور صفتوں میں اپنی کسی بھی مخلوق کی مشابہت ومماثلت سے پاک اور برگزیدہ ہے۔
[۱]الرّحمٰن الرّحیم۔
یہ دونوں اللہ کے نام ہیں۔ انہی سے اللہ نے اپنی کتاب کی پہلی سورت کا افتتاح فرمایا ہے۔ یہ گویا باری تعالیٰ نے بندوں سے اپنا پہلا تعارف کرایا ہے۔ پھر ان دونوں ناموں کو بسم اللہ کا حصہ بناکر ہر قرآنی سورت -ماسوا سورۂ توبہ-کی پیشانی پر ٹانک دیا ہے۔ اس نے اپنا فضل وکرم فرماتے ہوئے ہمیں بتایا کہ اس نے رحمت کو اپنے اوپر لازم کر لیا ہے اور یہ کہ اس کی رحمت ہر شے کا احاطہ کیے ہوئے ہے، حتی کہ نوع بہ نوع مخلوقات آپس میں رحم وکرم کا جو معاملہ کرتی ہیں، مثلاً ماں شیر خوار بچے پر رحمت لنڈھاتی ہے،یا باپ اپنے بچوں کی خاطر خون پسینہ ایک کرتا ہے؛ تویہ سب بھی باری تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: {فَانظُرْ إِلَی آثَارِ رَحْمَتِ اللَّہِ کَیْْفَ یُحْیِیْ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا}(روم،۵۰) ’’دیکھو اللہ کی رحمت کے اثرات کہ مردہ پڑی ہوئی زمین کو وہ کس طرح جلا اٹھاتا ہے۔‘‘
ایک مرتبہ اللہ کے رسولﷺ اور صحابۂ کرامؓ نے ایک خاتون کو دیکھا جو اپنا گمشدہ چھوٹا بچہ تلاش کر رہی تھی، جیسے ہی اس نے بچے کو پایا، اپنے سینے سے چمٹا لیا اور دودھ پلانے لگی۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:’’کیا یہ عورت اس بچے کو دہکتی آگ میں پھینک سکتی ہے؟‘‘ صحابۂ کرامؓ نے کہا: ’’ہرگز نہیں، وہ چاہ کر بھی ایسا نہیں کر سکتی ہے۔‘‘تو نبیﷺ نے فرمایا:’’جس قدر یہ عورت اپنے بچے پر شفیق ومہربان ہے، اس سے زیادہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحیم ہے۔‘‘[أترون ہذہ المرأۃ طارحۃ ولدہا فی النار قالوا لا وہی قادرۃ علی أن لا تطرحہ فقال رسول اللّٰہ ﷺاللّٰہ ارحم بعبادہ من ہذہ بولیدہ] (صحیح بخاری۵۶۵۳۔ صحیح مسلمؒ: ۲۷۵۴)
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی لامتناہی رحمت کو دنیا میں انسانوں کی آپسی رحمتوں پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اس کی رحمت ہر اندازے سے بڑھ کر اور ہر گمان اورتصور سے ماوراء ہے۔ اگر بندہ اللہ کی رحمت کی وسعت وبے پناہی جان لے تودنیا میں کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہو پائے گا۔
اللہ کی رحمت کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ایک رحمت عمومی ہے جو انسان، حیوان، جمادات وغیرہ تمام مخلوقات کے لیے عام ہے اور اسی کی وجہ سے مخلوقات کی زندگی چل رہی ہے اور تکوینی امور طے پارہے ہیں۔ملائکہ اپنی دعائوں میں اسی رحمت کا حوالہ دیتے ہیں:{الَّذِیْنَ یَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَہُ یُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَیُؤْمِنُونَ بِہِ وَیَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِیْنَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ کُلَّ شَیْْء ٍ رَّحْمَۃً وَعِلْماً}(غافر،۷)’’عرشِ الٰہی کے حامل فرشتے اور وہ جو عرش کے گرد وپیش حاضر رہتے ہیں سب اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کر رہے ہیں۔ وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:’’ اے ہمارے رب تو اپنی رحمت اور اپنے علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے۔‘‘
دوسری رحمت مخصوص نوعیت کی ہے جو صرف مومن بندوں کے لیے ہے۔ اللہ انھیں نیک عمل کی توفیق دیتا ہے، ان کے لیے خیر کے راستے کھولتا اورآسان بناتا ہے اور جادۂ حق پر ثبات واستقامت بخشتا ہے۔ اس کی اس رحمت کی تکمیل واتمام اس وقت ہوگا جب وہ آخرت میں انھیں معاف فرماکر جنت میں داخل کر دے گا اور جہنم سے نجات بخش دے گا۔{ وَکَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْماً٭ تَحِیَّتُہُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَہُ سَلَامٌ وَأَعَدَّ لَہُمْ أَجْراً کَرِیْماً}(احزاب، ۴۳-۴۴) ’’وہ مومنوں پر بہت مہربان ہے۔ جس روز وہ اس سے ملیں گے ان کا استقبال سلام سے ہوگا اور ان کے لیے اللہ نے بڑا باعزت اجر فراہم کر رکھا ہے۔‘‘
اللہ کے نبیﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’جان لو کہ تم میں سے کسی کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔‘‘ صحابۂ کرامؓ نے کہا: ’’کیا آپ کو بھی نہیں اے اللہ کے رسولﷺ؟‘‘ فرمایا: ’’ہاں مجھے بھی نہیں، الایہ کہ اللہ اپنی رحمت میں ڈھانپ لے۔‘‘[اعلموا أنہ لن یدخل الجنۃ أحد منکم بعملہ قالوا ولا أنت یا رسول اللّٰہ قال ولا أنا إلا أن یتغمدنی اللّٰہ برحمتہ] (صحیح مسلمؒ:۲۸۱۶)
کوئی بندہ جس قدر اللہ کی عبادت وطاعت کرتا ہے، جس قدر اس کی قربت اور رضامندی کا طلبگار ہوتاہے، جتنا زیادہ اس کی طرف رجوع کرتا ہے، اسی قدر اس مخصوص رحمت میں اس کا حصہ بڑھ جاتا ہے۔ ارشادِ باری ہے:{إِنَّ رَحْمَتَ اللّہِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْن}(اعراف،۵۶)’’یقینا اللہ کی رحمت نیک کردار لوگوں کے نزدیک ہے۔‘‘
[۲]السمیع البصیر۔
ان میں پہلے نام ’’السمیع‘‘ کا مطلب ہے کہ باری تعالیٰ تمام آوازیں سنتا ہے چاہے وہ جس زبان میں بولی جائیں اور چاہے ان کے ذریعے سے جس ضرورت یا ارادے کا اظہار کیا جائے۔ اس کے لیے سرگوشی اور اعلان یکساں ہے۔ بعض نادانوں نے یہ خیال کیا کہ اللہ ان کے رازوں اور سرگوشیوں کو نہیں سنتا، تو ان کے اس غلط تصور کی تردید کے لیے اور گویا ان کی سرزنش کرتے ہوئے یہ آیت نازل ہوئی: {أَمْ یَحْسَبُونَ أَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّہُمْ وَنَجْوَاہُم بَلَی وَرُسُلُنَا لَدَیْْہِمْ یَکْتُبُونَ}(زخرف،۸۰)’’کیا انھوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم ان کی راز کی باتیں اور ان کی سرگوشیاں سنتے نہیں ہیں؟ ہم سب کچھ سن رہے ہیں اور ہمارے فرشتے ان کے پاس ہی لکھ رہے ہیں۔‘‘
اللہ کا ایک نام ’’البصیر‘‘ ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے، چاہے وہ بے حد چھوٹی اور باریک کیوں نہ ہو۔ اس سے کوئی شے پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ حضرت ابراہیمؑ نے اپنے مشرک باپ کے شرکیہ عقائد پر تنقید کرتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ تم ایسے بتوں کی پوجا کیوں کرتے ہو جو نہ سن سکتے ہیں اور نہ دیکھ سکتے ہیں:{ یَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَلَا یُبْصِرُ وَلَا یُغْنِیْ عَنکَ شَیْْئا}(مریم،۴۲)’’اباجان، آپ کیوں ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں، نہ دیکھتی ہیں اور نہ آپ کا کوئی کام بناسکتی ہیں؟‘‘
اگر بندے کو معلوم ہوگیا کہ اللہ سمیع وبصیر ہے، اس سے آسمانوں اور زمین میں ایک ذرّہ برابر شے بھی مخفی نہیں رہ سکتی، وہ رازوں کو،بلکہ ان سے بھی زیادہ پنہاں وپوشیدہ باتوں کو جانتا ہے،تو نتیجے میں انسان کے اندر خدائی نگرانی اور نگہ بانی کا احساس جاگزیں ہوتا ہے۔ اب بندہ اپنی زبان کی حفاظت کرے گا، جھوٹ نہیں بولے گا، چغلی نہیں کرے گا، وہ اپنے اعضاء وجوارح اور قلبی میلانات وجذبات پر قابو رکھے گا اور اللہ کو ناراض کرنے والی کوئی حرکت یا عمل اس سے سرزد نہیں ہوگا۔وہ اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کو ان کاموں میں صرف کرے گا جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتاہے اور جنھیں وہ پسند کرتا ہے۔
اللہ ہر بندے کی نجی اور عوامی زندگی سے بہ خوبی واقف ہے۔ ظاہر وباطن اس کے لیے یکساں ہے۔ جب بندہ اس احساس سے سرشار ہوتا ہے تو اسے ’’احسان‘‘ کی وہ خاص کیفیت نصیب ہوتی ہے جس کے بارے میں اللہ کے نبیﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’تم اللہ کی عبادت ایسے کرو جیسے اسے دیکھ رہے ہو، اوراگر یہ حال نصیب نہ ہو تو دھیان رکھو کہ وہ (بہرحال) تمہیں دیکھ رہا ہے۔‘‘[الإحسان أن تعبد اللّٰہ کأنک تراہ فإن لم تکن تراہ فإنہ یراک](صحیح بخاریؒ:۵۰۔ صحیح مسلمؒ:۹)
[۳]الحیّ القیّوم۔
ذاتِ باری تعالیٰ ہی زندگی کا سرچشمہ ہے اور وہی نظامِ کائنات سنبھالے ہوئے ہے۔باری تعالیٰ کی زندگی ابدی اور کامل ہے،نہ اس پر کبھی عدم طاری ہوا اور نہ آئندہ اسے کبھی فنا اورزوال ہے۔ اس کی ذات میں کبھی کوئی نقص یا عیب واقع نہیں ہوا اور نہ ہوگا۔ وہ جملہ نقائص وعیوب سے ارفع اورمنزہ ہے۔اس کی زندگی جملہ صفاتِ کمال کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے،یعنی وہ علیم بھی ہے، سمیع بھی ہے، بصیر بھی ہے، قدیر بھی ہے اوراپنا ارادہ واختیار بھی رکھتا ہے۔جس ذاتِ باری تعالیٰ کی یہ شان ہے یقینا وہ سزاوار ہے کہ اسی کی پرستش کی جائے، اسی کے سامنے رکوع اور سجدہ کیا جائے اور اسی پر توکل واعتماد کیا جائے: {وَتَوَکَّلْ عَلَی الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوتُ وَسَبِّحْ بِحَمْدِہِ} (فرقان،۵۸)’’اس معبود پر بھروسہ رکھو جو زندہ ہے اور کبھی مرنے والا نہیں۔ اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو۔‘‘
اس کے نام ’’القیّوم‘‘ میں دو معنی داخل ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ہر ایک سے بے نیاز ہے۔ وہ اپنی ذات سے قائم ودائم ہے۔ اسے مخلوق کی کوئی احتیاج نہیں ہے۔{یَا أَیُّہَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَاء إِلَی اللَّہِ وَاللَّہُ ہُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ}(فاطر،۱۵)’’اے لوگو تم ہی اللہ کے محتاج ہو، اور اللہ تو غنی وحمید ہے۔‘‘وہ ہر پہلو سے مستغنی اور بے نیازہے۔ عبادت گزاروں کی عبادت سے اس کا کوئی ذاتی فائدہ نہیں ہوتا اور نہ گناہ گاروں کی نافرمانی سے اسے کوئی نقصان پہنچتا ہے۔ {وَمَن جَاہَدَ فَإِنَّمَا یُجَاہِدُ لِنَفْسِہِ إِنَّ اللَّہَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعَالَمِیْنَ}(عنکبوت،۶) ’’جو شخص بھی مجاہدہ کرے گا اپنے ہی بھلے کے لیے کرے گا، اللہ یقینا دنیا جہاں والوں سے بے نیاز ہے۔‘‘
حضرت موسیٰ کی زبان سے اعلان کرایا گیا:{إِن تَکْفُرُواْ أَنتُمْ وَمَن فِیْ الأَرْضِ جَمِیْعاً فَإِنَّ اللّہَ لَغَنِیٌّ حَمِیْد}(ابراہیم،۸)’’اگر تم لوگ کفرکرو اور زمین کے سارے رہنے والے بھی کافر ہوجائیں تو اللہ بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔‘‘
’’القیّوم‘‘ کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ قادرِ مطلق ہے اور مخلوقات کے لیے ہر آن نظم وانصرام کر رہا ہے۔ گویا وہی تمام مخلوقات کو سہارا دیے ہوئے اورسنبھالے ہوئے ہے۔ ہر ایک اس کا محتاج اور اس کا دست نگر ہے۔ اگر وہ لمحہ بھر اپنی نگاہِ کرم پھیر لے تو یہ نظامِ کائنات اور اس میں بسنے والی جملہ مخلوقات فنا ہوجائیں گی۔ کائنات کا یہ لائف سپورٹ نظام اور زندگی کا یہ تعمیری رخ دراصل باری تعالیٰ کی قیومیت کی نشانی اور دلیل ہے۔ اس نے مشرکوں کو خطاب کرتے ہوئے اس نعمت کی یاد دہانی کرائی ہے:{أَفَمَنْ ہُوَ قَآئِمٌ عَلَی کُلِّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَت} (رعد، ۳۳) ’’پھر کیا وہ جو ایک ایک متنفس کی کمائی پر نظر رکھتا ہے اس کے مقابلے میں یہ جسارتیں کی جا رہی ہیں؟‘‘
دوسری جگہ ارشاد فرمایا ہے:{إِنَّ اللَّہَ یُمْسِکُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَن تَزُولَا وَلَئِن زَالَتَا إِنْ أَمْسَکَہُمَا مِنْ أَحَدٍ مِّن بَعْدِہِ }(فاطر،۴۱)’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو ٹل جانے سے روکے ہوئے ہے اور اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے بعد کوئی دوسرا انھیں تھامنے والا نہیں ہے۔‘‘
’’الحیّ القیّوم‘‘ کے ان دونوں ناموں کی اپنی جگہ خاص عظمت اوراہمیت ہے۔ اسی لیے اللہ کے نبیﷺ اپنی دعائوں میں خاص طور سے ان دونوں اسمائے حسنیٰ کا حوالہ دیا کرتے تھے۔ آپﷺ دعا مانگتے ہوئے فرماتے تھے: ’’یا حی یا قیوم، میں تیری رحمت کا طلب گار ہوں۔‘‘ [یا حیُّ یا قیُّوم برحمتک أستغیث](سنن ترمذیؒ:۳۵۲۴)
باری تعالیٰ کے اسماء وصفات پر ایمان رکھنے کے متعدد فائدے ہیں۔نمبر ایک اس طرح ہمیں اپنے معبودِ حقیقی کا صحیح تعارف حاصل ہوتا ہے۔جو بندہ جس قدر مالکِ حقیقی کے ناموں اور صفتوں کوجانتا ہے اسی قدر اس کی معرفت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایمان ویقین کی افزائش ہوتی ہے۔ توحید پرستی میں وہ مضبوط ومستحکم ہوجائے گا۔ اللہ کے اسماء وصفات کو جاننے والے کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے دل کو اللہ تعالیٰ کی تعظیم، محبت اور اس کے تئیں عجز ونیاز کے جذبات سے بھرے۔
اسماء وصفات پر ایمان کا فائدہ یہ بھی ہے کہ ہم ان کے ذریعے سے بیش از بیش اللہ کی حمد وثنا کر سکتے ہیں۔ اللہ کی حمدوثنا ذکرِ الٰہی کی افضل اوراعلیٰ ترین شکلوں میں شامل ہے۔ارشادِ باری ہے:{یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا اذْکُرُوا اللَّہَ ذِکْراً کَثِیْراً}(احزاب،۴۱)’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کو کثرت سے یاد کرو اور صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہو۔‘‘
اسماء وصفات پر ایمان کا ایک فائدہ یہ ہے کہ ان کے واسطے سے ہم اس کی بارگاہ میں اپنی دعائیں اور التجائیں پیش کر سکتے ہیں اور ان کی قبولیت کو پختہ اوریقینی بنا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:{وَلِلّہِ الأَسْمَاء الْحُسْنَی فَادْعُوہُ بِہَا وَذَرُواْ الَّذِیْنَ یُلْحِدُونَ فِیْ أَسْمَآئِہِ سَیُجْزَوْنَ مَا کَانُواْ یَعْمَلُون}(اعراف،۱۸۰)’’اللہ اچھے ناموں کا مستحق ہے، اس کو اچھے ہی ناموں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے نام رکھنے میں راستی سے منحرف ہوجاتے ہیں۔جو کچھ وہ کرتے ہیں وہ اس کا بدلہ پاکر رہیں گے۔‘‘
دعا کرنے والے کو اپنی دعا کی مناسبت سے اللہ کے نام کا انتخاب کرنا چاہیے۔ رزق کی طلب ہو تو ’’یارزّاق‘‘ کہے، توبہ کرنی ہے تو ’’یا توّاب‘ کہے، رحمت کی احتیاج ہے تو ’’یا رحمن‘‘ اور ’’یا رحیم‘‘ کہہ کر دعا مانگے۔
یاد رکھیں کہ ایمان گھٹتا بڑھتا ہے اور اس کے مختلف درجے ہیں۔جس قدر مسلمان غفلت شعار اور گناہ گار ہوگا اسی قدر اس کا ایمان کم ہوتا ہے اور جس قدر مسلمان طاعت وعبادت بجالاتا ہے اور اللہ سے ڈرتا ہے، اتنا ہی اس کا ایمان بڑھتا ہے۔ ایمان کا اعلیٰ ترین درجہ احسان اور تزکیہ ہے جس کی تعریف اللہ کے رسولﷺ نے یہ کی ہے کہ عبادت کرتے ہوئے اللہ کی ذات کا استحضار اس قدر پختہ ہوجائے کہ ایسا لگے کہ تم اللہ کو دیکھ رہے ہو، اور یہ نہ ہو تو کم از کم اتنا احساس رہے کہ اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔(صحیح بخاریؒ:۵۰۔ صحیح مسلمؒ:۸)
اس لیے اٹھتے بیٹھتے، تفریح اور سنجیدگی وغیرہ تمام حالتوں میں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔ وہ ہمارے حالات سے واقف ہے۔اس لیے کبھی اس کی نافرمانی نہ کریں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ ہر وقت ہمیں دیکھ رہا ہے۔ اگر وہ ہماری پشت پر ہے تو ہرگز کوئی خطرناک شے ہمیں خوف اور مایوسی میں مبتلا نہیں کر سکتی۔ نمازوں اور دعائوں میں اگر ہم اس سے مناجات کرتے ہیں، اسے اپنا دُکھڑا سناتے ہیں تو آخر تنہائی اور گوشہ نشینی ہمارے لیے مشکل اور دشوار کیسے ہو سکتی ہے؟جب ہمیں یقین ہے کہ ہمارا رب ہمارے پوشیدہ اور علانیہ تمام احوال وکوائف سے باخبر ہے تو آخر کس بل بوتے پر ہم گناہ کرنے کی جرأت کرتے ہیں؟ اس لیے جب بھی کوئی غلطی یا گناہ سرزد ہوجائے تو فی الفور توبہ وانابت کرنی چاہیے۔ یقینا اللہ توبہ کرنے والے بندے کو پسند فرماتا ہے۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین
