You are currently viewing مظلوم کی بد دعا

مظلوم کی بد دعا

مظلوم کی بددعا

تحریر:  مسلم عبد العزیز الزامل

ترجمہ:  مفتی ولی اللہ مجید قاسمی

ایک دن میری تقریر کا موضوع تھا ”ظلم اور ظالم کا انجام“، جس میں اس حدیث کی شرح کی گئی:

«اِتَّقِ دَعْوَةَ الْـمَظْلُومِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّـهِ حِجَابٌ»().
”مظلوم کی بددعا سے بچو، کیونکہ اسے اللہ تک پہنچنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی ہے۔“

میں نے کہا کہ مظلوم گرچہ فاجر وکافر ہو پھر بھی اس کی بددعا قبول ہوتی ہے، جیسا کہ حضرت انس ﷜ سے منقول ایک حدیث میں ہے کہ:
«اتَّقُوا دَعْوَةَ الْـمَظْلُومِ، وَإِنْ كَانَ كَافِرًا، فَإِنَّهُ لَيْسَ دُونَهَا حِجَابٌ»().
”مظلوم کی بددعا سے بچو گرچہ وہ کافر ہو، کیونکہ اسے اللہ تک پہنچنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی ہے۔“

اور جب کافر مظلوم کی بددعا قبول ہوتی ہے تو مسلمان مظلوم کی تو یقیناً قبول ہوگی، اس لیے ظالم کو اپنے انجام سے بے خبر نہیں رہنا چاہیے، اور اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اس کے چین اور سکون کی نیند بہت جلد اُڑ جائے گی ، اس کی آنکھوں پر پڑا ہوا پردہ بہت جلد ہٹ جائے گا اور وہ کھلی آنکھوں سے اپنے برے انجام کو دیکھے گا، لیکن اُس وقت اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ کسی نے کیا خوب کہاہے کہ
’’اگر تمہیں طاقت وحکومت ملی ہوئی ہے تو کسی پر ظلم مت کرو، کیونکہ ظلم کا انجام حسرت وندامت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ تم سورہے ہو اور مظلوم بیدار ہے، وہ تمہارے لیے بددعا کررہا ہے، اور اللہ کی آنکھیں کبھی نہیں سوتی ہیں۔‘‘
اور حضرت عائشہ ﷞ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ:
«مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ مِنَ الأَرْضِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ»().

”جو شخص ایک بالشت کے بقدر بھی ناحق کسی کی زمین لے لے تو اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔“
اس حدیث کی شرح میں بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اسے سات زمینوں تک دھنسا دیا جائے گا، اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ قیامت کے دن اسے پابند کیا جائے گا کہ وہ اس حصے کو میدانِ حشر میں منتقل کرے، اس طرح سے وہ زمین اس کے لیے طوق بن جائے گی۔
تقریر کے بعد ابو انس تنہائی میں میرے پاس آئے اور کہا: بڑی عمدہ بات کہی آپ نے، اللہ آپ کو بہتر بدلہ عنایت کرے، اگر میں اس سے متعلق ایک واقعہ بیان کروں تو اسے سچ باور کرنا مشکل ہوگا۔ میں نے کہا: ضرور بیان کیجیے، اور مکمل طور پر ان کی طرف متوجہ ہوگیا۔ انہوں نے کہا: دو سال پہلے میں نے اور میرے بھائی طلال نے سلیم نامی ایک ٹھیکیدار کو دو گھر بنانے کا ٹھیکہ دیا، اس نے تعمیری کام شروع کردیا، ایک دن اس نے گھر کے پہرے دار سے جس کا نام اقبال تھا کہا کہ وہ چھت پر سے پتھر کو زمین پر منتقل کردے اور اس کے بدلے میں اسے پچاس دینار ملے گا (تقریباً دس ہزار روپئے)۔

اس نے اس کام کو انجام دے کر ٹھیکیدار سے اپنی مزدوری کا مطالبہ کیا مگر اس نے دینے سے انکار کردیا اور کہا کہ ہمارے درمیان ایسی کوئی بات طے نہیں ہوئی تھی، بلکہ یہ کام بھی تمہاری ذمے داری میں شامل ہے اس لیے یہاں سے چلے جاؤ۔
اقبال کو اس کے جواب سے بڑی حیرانی ہوئی اور ہر ممکن طریقے سے اس نے اس کے وعدے کو یاد دلانے اور اسے پورا کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، لیکن بے فائدہ۔ پھر وہ شکایت لے کر میرے پاس آیا، میں نے بھی سلیم کو سمجھانے کی کوشش کی اور کہا کہ اس غریب کی مزدوری دے دو، یہ سن کر وہ مجھ پر ناراض ہونے لگا اور کہا کہ تم میری طرف داری کے بجائے ایک پہرے دار کی طرف داری کر رہے ہو؟ اسے انصاف دلانے کے لیے میں اپنے بھائی طلال کے پاس پہنچا اور پورا قصہ بیان کیا تاکہ وہ اس پر دباؤ بنائے اور وہ اقبال کا حق ادا کردے، لیکن وہ بھی سنی ان سنی کرتے ہوئے کہنے لگا کہ تمہیں اس پہرے دار سے کیا دلچسپی ہے؟ وہ ان دونوں کا باہمی معاملہ ہے، ہمیں دخل اندازی کی کیا ضرورت ہے؟ کیا ضرورت ہے اس شور اور ہنگامے کی؟ میں نے اسے مطمئن کرنے کی کوشش کی تو کہنے لگا: اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو، میں اس وقت مشغول ہوں اس لیے یہاں سے جاؤ، میرے بھائی کو یہ فکر ستائے جا رہی تھی کہ کسی طرح سے اس کے ورکشاپ کا کام پورا ہوجائے اس لیے وہ اس موقع پر دوسرے کی وجہ سے ٹھیکیدار سے دشمنی مول نہیں لینا چاہتا تھا۔

اور ٹھیکیدار نے جب یہ دیکھا کہ میں پہرے دار کی پُرجوش حمایت کررہا ہوں تو اس نے مجھ سے اس طرح سے انتقام لیا کہ اس نے فرش پر کسی گیپ کے بغیر پتھروں کو لگا دیا، اور اس کے بارے میں مجھے پتہ اُس وقت چلا جب کہ ٹھیکے کا معاملہ ختم ہوچکا تھا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چند مہینوں کے بعد جب گرم موسم آیا تو پتھر چٹخ کر ٹوٹنے لگا، اور پورا فرش خراب ہوگیا، جس کی وجہ سے تقریباً پانچ سو دینار کا نقصان ہوا۔ یہ خسارہ اس وقت ہوا جب کہ میں اپنی پوری جمع پونچی گھر کی تعمیر میں لگا چکا تھا۔ مجھے اس کے ظلم، کمینگی اور کینہ پروری پر بڑا غصہ آیا اور میں نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اللہ کے حضور پھیلا دیا اور کہا: اے اللہ! میں تجھ سے ہی اپنے رنج والم کا شکوہ کررہا ہوں۔ اور مجھے معلوم نہیں کہ کیسے میرے ذہن میں یہ خیال گردش کرنے لگا کہ اسے دردناک سزا ملنی چاہیے، چنانچہ میں نے رات کے آخری تہائی حصے میں دعا کی کہ اے اللہ اسے آدھے جسم سے مفلوج کردے جس کی وجہ سے وہ چلنے پھرنے کے لائق نہ رہ جائے۔
غم واندوہ کی حالت میں اور قرض کے بوجھ تلے کئی روز گزر گئے، ایک رات کافی تاخیر سے گھر واپس آیا، ابھی گھر میں داخل ہی ہوا تھا کہ باہر سے دروازہ پیٹنے کی آواز آئی، میں نے کہا: اس وقت کون آگیا؟ اور جب دروازہ کھولا تو حیرت سے میری آنکھ کھلی کی کھلی رہ گئی، میں نے دیکھا کہ ایک شخص بہت مشکل سے دیوار سے ٹیک لگا کر خود کو سنبھالے ہوئے ہے اور اس کے ہاتھ میں کچھ کاغذات اور فائلیں ہیں۔

میں نے اسے غور سے دیکھا تو یقین نہیں آیا کہ یہ تو وہی ٹھیکیدار ہے جو بالکل ایک گٹھری کی طرح ہوگیا ہےاور چہرہ بالکل جھلس گیا ہے۔ مجھے دیکھ کر رونے دھونے لگا، یقینی طور پر اسے میری بددعا لگ گئی تھی اور وہ آدھے دھڑ سے تقریباً اپاہج ہوچکا تھا۔ اور پھرکہنے لگا کہ عظمت والے رب کی قسم! جب سے میں تمہارے پاس سے گیا ہوں اسپتالوں کا چکر لگا رہاہوں، لیکن کوئی فائدہ نہیں اور رفتہ رفتہ میرا آدھا جسم مفلوج ہوگیا۔ میں نے اپنی پوری پونجی علاج میں لٹا دی، لیکن مرض بڑھتا گیا، اور اب ڈاکٹروں کا مشورہ ہے تمہارا مرض لاعلاج ہے، اس لیے اللہ کے فیصلے پر صبر کرو۔ میں تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں کہ مجھے یقین ہے کہ یہ سب میرے ظلم کا انجام ہے، اللہ کے لیے مجھے معاف کردو اور میری صحت کی دعا کرو۔

ابو انس کہتے ہیں کہ اسے اس حالت میں دیکھ کر میرا ضمیر مجھ کو ملامت کرنے لگا، اور مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میری بددعا اس شکل میں اور اس قدر جلد قبول ہوجائے گی۔ مجھے اس پر بڑا ترس آیا، میں نے کہا: جاؤ کوئی بات نہیں، اللہ مجھے اور تمہیں معاف کرے۔ اور اسی رات میں اٹھ کر میں نے تہجد کی نماز پڑھی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اسے شفا دے اور اس کی مصیبت وبے چینی کو ختم کردے۔
اس کے چند دنوں کے بعد اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز منظر میرے سامنے تھا۔ ٹھیکیدار اپنے پیروں پر چلتے ہوئے میرے پاس آیا، وہ بالکل تندرست ہو چکا تھا۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا اور جب میں نے دروازہ کھولا تو وہ لپک کر مجھ سے چمٹ گیا، اس کی خوشی دیکھنے کے لائق تھی، وہ کبھی مسکراتا اور کبھی قہقہہ لگانے لگتا، اور بار بار مجھے دعا دیتا اور اپنے کیے پر پچھتاتا، وہ کہنے لگا کہ میں نے خواب دیکھا کہ میری ہڈیوں اور جوڑ میں پھر سے زندگی پیدا ہوگئی اور میرے پیر اور ہاتھ کی حرکت بحال ہوگئی، گویا کہ میرے کھال کے نیچے نہر بہہ رہی ہو، پھر اچانک میری آنکھ کھل گئی اور میرے دل کی دھڑکن رفتہ رفتہ تیز ہونے لگی، پھر میں نے اپنے پیر کو ہلایا اور کھڑا ہونے کی کوشش کی جو کامیاب رہی اور خود مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ ایسا ہوگیا ہے۔

یہ دیکھ کر اللہ کے حضور بطورِ شکریہ سجدہ ریز ہوگیا اور اس کے فضل وکرم اور مہربانی ومحبت کو یاد کرکے رو پڑا، اور مجھے یقین ہوگیا کہ تمہاری بابرکت دعا آسمان تک پہنچ گئی، وہاں سے رب کی رحمت کو لے کر آئی اور پھر اس کا نتیجہ سامنے ہے۔
اللہ تعالیٰ تمہیں بہتر بدلہ عنایت کرے، تم نے مجھے معاف کردیا اور پھر میرے لیے اللہ سے دعا کی، اور اللہ نے اپنے فضل اور تمہاری دعا کی برکت سے مجھے اس بلا سے نجات دی۔
میں نے ابو انس سے پوچھا کہ تمہارے بھائی طلال کا کیاحال ہوا؟ انہوں نے کہا: سچ کہوں تو پہرے دار نے اس پر بددعا کی تھی، کیونکہ اسی کی وجہ سے وہ ظلم کا شکار ہوا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اسے ایک خوبصورت بیٹی عطا کی، مگر وہ بالکل گونگی تھی۔ میرے بھائی نے بہت سے ڈاکٹروں کو دکھایا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا، اور میرا بھائی اپنے کرتوت پر بہت شرمندہ ہوا، لیکن اُس وقت جب کہ وہ موقع گنوا چکا تھا۔

اس قصے کو سن کر ایسا محسوس ہورہا تھا کہ حقیقت نہیں بلکہ خواب وخیال کی بات ہو، اور میرے ذہن میں یہ آیت گردش کرنے لگی:
﴿وَلَنُذِيْـقَنَّہُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ﴾ [سورۃ السجدۃ:۲۱]
”اور ہم ان کو بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے عذاب کا مزہ ضرور چکھاتے ہیں۔“
تو یہ ان لوگوں کے لیے ایک چھوٹی سزا تھی جو ایک مظلوم اور بے کس بندے کی بددعا کا نتیجہ تھی، اور اللہ نے ظالموں سے انتقام لے لیا کیونکہ اس کی طرف سے اعلان ہے کہ
﴿ذٰلِكَ۝۰ۚ وَمَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِہٖ ثُمَّ بُغِيَ عَلَيْہِ لَيَنْصُرَنَّہُ اللہُ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ۝۶۰ ﴾ [سورۃ الحج:۶۰]
”یہ تو سن چکے، اور (سنو کہ) جو شخص بدلے میں اتنی ہی تکلیف پہنچائے جتنی کہ اس کو پہنچائی گئی تھی، اور پھر اس پر زیادتی بھی کی گئی ہو، تو اللہ ضرور اس کی مدد فرمائیں گے، یقیناً اللہ خوب درگزر کرنے والے اور معاف کرنے والے ہیں۔“
اور کسی شاعر نے کہا ہے کہ:
’’رات کا تیر ٹھیک اپنے نشانے پر پہنچتا ہے جب اسے خشوع وخضوع کے کمان سے چلایا جائے، اسے نشانے تک ایسے لوگ لے جاتے ہیں جن کا رکوع اور سجدہ بڑا لمبا ہوتا ہے اور ان کی زبانوں پر دعا اور ان کی آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب ہوتا ہے۔‘‘

جواب دیں