You are currently viewing زندگی گزارنے کے اصول و آداب

زندگی گزارنے کے اصول و آداب

زندگی گزارنے کے اصول و آداب

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

زندگی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت اور قیمتی امانت ہے۔ ہر انسان اس دنیا میں ایک محدود مدت کے لیے آیا ہے، مگر اس مختصر سفر کو کامیاب، باوقار اور بامقصد بنانے کے لیے کچھ اصول و ضوابط اور کچھ آداب و اسالیب کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو شخص زندگی کے صحیح اصولوں کو سمجھ لیتا ہے، وہ نہ صرف خود سکون و اطمینان حاصل کرتا ہے، بلکہ دوسروں کے لئے بھی خیر و بھلائی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ زندگی کا حسن صرف جینے میں نہیں بلکہ اچھے انداز سے جینے میں ہے، اور یہی وہ چیز ہے جو انسان کو عام لوگوں سے ممتاز کرتی ہے۔
سب سے پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ انسان کبھی اپنے ایمان، عقیدہ اور دینی اصولوں کا سودا نہ کرے۔ دنیا اپنی تمام تر چمک دمک اور دلکشی کے باوجود فانی اور عارضی ہے، جبکہ ایمان اور آخرت کی کامیابی دائمی اور ابدی ہے۔ اس لئے وقتی مفادات، عارضی آسائشوں یا دنیاوی منافع کے لیے شریعت کے کسی حکم کو قربان نہ کیا جائے۔ ہر وقت اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے رہنا چاہیے کہ وہ ایمان و عمل کی سلامتی عطا فرمائے، دنیا و آخرت کی سعادتوں سے نوازے اور کسی غیر کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے سے محفوظ رکھے۔
انسان کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اس کی زندگی، اس کی تحریریں، اس کی تقریریں اور اس کی سرگرمیاں ہمیشہ حق اور خیر کی خدمت میں صرف ہوں۔ وہ کبھی ایسے راستے کا انتخاب نہ کرے جس سے باطل قوتوں کو تقویت ملے یا حق کا نقصان ہو۔ مؤمن کی سب سے بڑی خواہش یہی ہونی چاہیے کہ اس کا خاتمہ ایمان، اخلاص اور حسنِ عمل پر ہو۔
زندگی کا ایک اہم اصول خودی، خود اعتمادی اور خودداری ہے۔ جو شخص اپنے مقام و مرتبہ کو پہچان لیتا ہے وہ لوگوں کے تعاقب میں اپنی عزت و وقار ضائع نہیں کرتا۔ دوسروں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بے جا کوششیں کرنا یا اپنی قدر و قیمت کو دوسروں کی نگاہوں کا محتاج بنا دینا دانشمندی نہیں۔ انسان کو چاہیے کہ اپنی شخصیت کو مضبوط بنائے، اپنی صلاحیتوں کو نکھارے اور اپنے رب کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرے۔ جو شخص اپنے باطن کو سنوار لیتا ہے، دنیا خود اس کی قدر کرنے لگتی ہے۔
اسی طرح خلوت اور تنہائی کی اہمیت کو بھی سمجھنا چاہیے۔ زندگی صرف ہجوم، محفلوں اور لوگوں میں رہنے کا نام نہیں بلکہ کبھی کبھی تنہائی بھی انسان کی بہترین استاد بن جاتی ہے۔ خاموشی اگر شعور کے ساتھ اختیار کی جائے تو وہ فکر و تدبر کا سرچشمہ بن جاتی ہے۔ بہت سے فیصلے، بہت سی بصیرتیں اور بہت سی حکمتیں انسان کو اسی وقت حاصل ہوتی ہیں جب وہ کچھ دیر دنیا کے شور و غوغا اور ہنگامے سے الگ ہو کر اپنے دل کی آواز سنتا ہے۔
زندگی میں عزتِ نفس اور پاکیزہ ضمیر کا تحفظ بھی نہایت ضروری ہے۔ جو چیز سوال، جبر، بے ایمانی، دھوکے یا دوسروں کے حقوق پامال کرکے حاصل کی جائے وہ بظاہر فائدہ معلوم ہوتی ہے، لیکن اس میں نہ سکون ہوتا ہے، نہ برکت اور نہ ہی حقیقی خوشی۔ عزت کے ساتھ تھوڑا مل جانا ذلت کے ساتھ زیادہ حاصل کرنے سے کہیں بہتر ہے۔ اسی طرح وہ تعلقات جو بار بار اپنی سچائی منوانے کے محتاج ہوں، وقت کے ساتھ انسان کے وقار کو مجروح کر دیتے ہیں۔ سچے رشتے دلیلوں سے نہیں بلکہ کردار اور اعتماد سے قائم رہتے ہیں۔
انسانی زندگی کا ایک تلخ مگر حقیقی تجربہ یہ بھی ہے کہ حد سے زیادہ وابستگیاں، بے حساب توقعات اور ضرورت سے بڑھ کر لوگوں سے امیدیں اکثر دلوں کو زخمی کر دیتی ہیں۔ محبت ضرور کیجیے، مگر اعتدال کے ساتھ۔ تعلقات ضرور رکھیے، مگر اپنی شخصیت کو ان کا اسیر نہ بنائیے۔ جو انسان اپنی تمام خوشیاں دوسروں سے وابستہ کر دیتا ہے، وہ اکثر مایوسی اور تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔ مضبوط انسان وہ ہے جو محبت بھی کرے، خیرخواہی بھی کرے، مگر اپنی روحانی اور فکری آزادی کو برقرار رکھے۔
اعتدال اور توازن زندگی کی کامیابی کا ایک سنہری اصول ہے۔ اسلام نے ہر معاملے میں میانہ روی کی تعلیم دی ہے۔ دوستی ہو یا دشمنی، خرچ ہو یا بچت، دنیا کا حصول ہو یا عبادت و ریاضت، ہر چیز میں اعتدال مطلوب ہے۔ افراط و تفریط انسان کو نقصان پہنچاتی ہے جبکہ توازن زندگی کو خوبصورتی اور استحکام عطا کرتا ہے۔ وہ عمل جو اعتدال کے ساتھ مسلسل جاری رہے، وقتی جوش سے کیے گئے بڑے اعمال سے کہیں زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔
زندگی میں مشکلات اور مجبوریاں آتی رہتی ہیں، لیکن ہر شخص کے سامنے اپنی حاجت اور پریشانی بیان کرنا مناسب نہیں۔ خودداری کا تقاضا یہ ہے کہ انسان حتی المقدور صبر، تدبیر اور توکل کے ساتھ اپنے مسائل کا سامنا کرے۔ یقیناً ضرورت کے وقت مدد لینا کوئی عیب نہیں، مگر اپنی شخصیت کو شکایتوں اور محتاجی کی علامت بنا لینا دانشمندی نہیں۔
ایک مہذب اور باوقار زندگی کے لیے ادب، لحاظ، مروت، شرافت اور عزتِ نفس بنیادی ستونوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انسان کے علم، دولت یا شہرت سے زیادہ اس کا اخلاق اور کردار لوگوں کے دلوں میں جگہ بناتا ہے۔ نرم گفتگو، خوش اخلاقی، عفو و درگزر اور پاک دامنی وہ اوصاف ہیں جو انسان کو حقیقی معنوں میں عظیم بناتے ہیں۔ اسی طرح جلد بازی اور عجلت سے بچنا چاہیے، کیونکہ اکثر غلط فیصلے جذبات کے طوفان میں کیے جاتے ہیں جبکہ حکمت سکون اور غور و فکر سے پیدا ہوتی ہے۔
ایک کامیاب انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے، ان پر بوجھ نہ بنے، امت اور معاشرے کے لیے نفع بخش ثابت ہو اور اس کی ذات سے کسی کو اذیت نہ پہنچے۔ مظلوم کی آہ سے ہمیشہ بچنا چاہیے، کیونکہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔ زبان کو طعن و تشنیع، غیبت، تحقیر اور دل آزاری سے محفوظ رکھنا چاہیے اور ہر حال میں خیر، محبت اور بھلائی کے الفاظ اختیار کرنے چاہئیں۔
مختصر یہ کہ زندگی کا اصل حسن ایمان، خودداری، اعتدال، حسنِ اخلاق اور خدمتِ خلق میں ہے۔ جو شخص ان اصولوں کو اپنا شعار بنا لیتا ہے وہ حالات کے نشیب و فراز میں بھی اپنی شخصیت، اپنے وقار اور اپنے مقصدِ حیات کو محفوظ رکھتا ہے۔ ایسی زندگی نہ صرف دنیا میں سکون اور عزت کا سبب بنتی ہے بلکہ آخرت کی دائمی کامیابی کا ذریعہ بھی ثابت ہوتی ہے۔
ہمارے مخلص کرم فرما اور میری تحریروں کے قدر دان جناب شاہد ناصری الحنفی حفظہ اللہ تعالیٰ نے آج اسی عنوان پر ایک تحریر قلمبند کیا ہے ،اس سابقہ کے ساتھ اس لاحقہ کا بھی ضرور مطالعہ کریں ۔
موصوف لکھتے ہیں ؛
"ایک کڑوی بات بتاؤں؟
لوگوں کے پیچھے بھاگنا چھوڑ دو۔ ہر تعلق کو اپنی ذات کا مرکز مت بنا لو۔ اکیلے رہنا سیکھو، اپنی ذات سے دوستی کرو، اپنی خاموشیوں کو بوجھ نہیں بلکہ قوت بناؤ، اور تھوڑے خوددار بن جاؤ۔
زندگی کا ایک اصول ہے: جو چیز مانگ کر حاصل ہو،یا کسی سے چھین کر حاصل ہو یا بے ایمانی سے حاصل ہو یا چوری کے ذریعے حاصل ہو، وہ اکثر دل کو سکون نہیں دیتی؛ اور جو تعلق بار بار خود کو ثابت کرنے پر مجبور کرے، وہ رفتہ رفتہ انسان کے وقار کو کھا جاتا ہے۔
حد سے زیادہ محبتیں، بے لوث چاہتیں اور لوگوں سے باندھی ہوئی ضرورت سے زیادہ امیدیں اکثر انسان کو اندر سے کمزور کر دیتی ہیں۔ انسان دینے لگتا ہے، نبھانے لگتا ہے، انتظار کرتا ہے، سمجھوتے کرتا ہے، لیکن ایک وقت آتا ہے جب وہ محسوس کرتا ہے کہ اس نے دوسروں کے لیے بہت کچھ رکھا اور اپنے لیے بہت کم۔
یاد رکھو، تعلقات دروازے کی طرح ہوتے ہیں؛ کنڈی ہمیشہ دونوں طرف ہوتی ہے۔ اگر ایک طرف سے مسلسل بندش ہو، بے رخی ہو، سرد مہری ہو، تو ہر وقت دستک دینا محبت نہیں، بعض اوقات اپنی قدر گھٹانا ہوتا ہے۔
اگر کوئی تمہارے منہ پر تعلق کا دروازہ بند کر دے تو وہاں کھڑے ہو کر شور مت مچاؤ، خود کو ثابت کرنے میں اپنی عزت نہ کھو دو۔ خاموشی سے پلٹ آؤ، مگر دل میں نفرت نہ رکھو۔ صرف اتنا احساس دلاؤ کہ تعلق یک طرفہ بوجھ نہیں ہوتے، انہیں دونوں جانب سے زندہ رکھا جاتا ہے۔
خودداری کا مطلب تنہائی اختیار کرنا نہیں، بلکہ اپنی قدر پہچاننا ہے۔ محبت کرو مگر اپنی شناخت کھو کر نہیں، ساتھ نبھاؤ مگر اپنی عزت گروی رکھ کر نہیں، اور امید رکھو مگر اپنی خوشی کو دوسروں کے رویوں کا قیدی بنا کر نہیں۔
جو لوگ تمہاری قدر جانتے ہیں، وہ تمہیں تلاش کر لیتے ہیں؛ اور جو صرف تمہارے انتظار کے عادی ہوں، تم سے اپنا مطلب نکالنے والے ہوں ان کے لیے ہمیشہ دروازے کھلے رکھنا ضروری نہیں۔
کبھی کبھی خاموشی سب سے اونچی گفتگو ہوتی ہے، اور وقار کے ساتھ پیچھے ہٹ جانا سب سے مضبوط جواب "۔ (مکہ میگزین گروپ سے ماخوذ)

جواب دیں