مدینہ منورہ میں دس سنیما ہال کھلیں گے!
😭😭😭
تحریر: مولانا صابر حسین ندوی
مدینہ منورہ میں دس سنیما ہال کھولے جارہے ہیں، یہ سن کر بھی روح کانپ جاتی ہے، غیرت و حمیت میں جسم لرزہ براندام ہوجاتا ہے، سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر کے ساتھ یہ کیسی بدتمیزی ہے؟ کیا اب یہی سننے کو رہ گیا تھا؟ عالم اسلام کیلئے مرکز و منبع اور انسانیت کی آماجگاہ، پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آرامگاہ کے ساتھ یہ کیسا سلوک کیا جارہا ہے؟ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے، اپنے ٹویٹ میں افسوس و رنج بیان کرتے ہوئے سعودی حکومت کو متوجہ کیا ہے، مگر سچی بات تو یہ ہے کہ اب بہت دیر ہوچلی ہے، محمد بن سلمان وہ مبغوض شخص ہے جس نے بہت پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ عالم عرب بالخصوص سعودی عرب کو یورپ بنا دے گا، سینکڑوں پروجیکٹ پر کام چل رہا ہے، عیاشیوں کے اڈے، فحش اور طوفان بدتمیزی کے سارے کام کئے جارہے ہیں، آخر ایسی کونسی برائی ہے جو وہاں نہ سرزد ہورہی ہو، یہ سب کچھ سلطنت اور حکومت کی ماتحتی میں؛ بلکہ فاخرانہ طور پر ادا کیا جارہا ہے، شہزادے کا ٢٠٣٠ء کے تعلق سے جو ویژن ہے وہ بہت پہلے سامنے آچکا ہے، اس وقت شہزادہ صہیونیوں اور صلیبیوں کی گود میں بیٹھ کر جھولے جھرل رہا ہے، شاہانہ زندگی کے مزے لے رہا ہے اور حرم کی رسوائی کا سامان کر رہا ہے، حرمین میں خواتین پولس کا لباس بھی بدل دیا گیا ہے، جو قابل اعتراض ہے، کچھ مہینے پہلے یہ بات بھی گردش کر رہی تھی کہ اسرائیل سے خفیہ ملاقاتیں ہورہی ہیں، بلکہ اسے خفیہ کیوں کہا جایے؟ اب وہ سب کچھ علی الإعلان کر رہے ہیں، وہاں عموماً علماء ہونٹ سل چکے ہیں، رہ گئے دو چند تو وہ مصلحت کا راگ الاپتے ہیں، ان کے علاوہ اگر کوئی بولتا ہے تو وہ سلاخوں کے پیچھے زندگی بسر کرتا ہے، اس وقت نہ جانے کتنے علماء و دعاۃ پس زنداں ہیں، بیت اللہ کے ممبر پر کھڑے ہو کر شیخ سدیس جس کو ملھم کہہ رہے تھے، وہ اور انہیں کے ہم نوا ہیں جو عیش اور ٹھاٹ باٹ کی زندگی گزار رہے ہیں، ان کے علاوہ جفاکش، حق پسند اور حق گو بزرگان کا کوئی ٹھکانہ نہیں، اگر کہیں کوئی جگہ ملتی ہے تو وہ جیل ہے یا پھر جلاوطنی ہے، شہزادہ ایک عرصے سے شتر بے مہار حکومت کر رہا ہے، اس کے والد سلمان صرف ایک آئینہ ہے، آخری سانس کا انتظار ہے، جس دن وہ سانس بھی ٹوٹی، اس کے بعد پورا سعودی یورپ کی ساز پر تھرکے گا، اب بھی وہ تھرک ہی رہا ہے، کیا آپ لوگوں نے نہیں دیکھا کہ حج جیسی عظیم عبادت اور یومیہ نماز کیلئے کرونا کے سینکڑوں پروٹوکول لگوایے گیے؛ لیکن اس دوران کنسرٹ کرنے میں پیچھے نہ رہے، شیخوں نے جبے، قبے اور دستار کے ساتھ مغربی نیم برہنہ خواتین سے بغل گیر ہو کر خوب جشن منایا ہے، یوم سعودیہ پر وہاں کی سڑکوں، چوراہوں اور گلی کوچے سے ایسی ایسی تصاویر سامنے آئیں کہ اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ زندہ ہوتے تو لمحہ بھر میں ان کی گردن اڑا دیتے، بلکہ اب جو عالم ہے، اس حال میں اگر ایک عام صحابی رضی اللہ عنہ بھی زندگی پالے تو سب سے پہلے شہزادہ اور ان کے ہم نوا کے خلاف جہاد کرے گا؛ کیونکہ اس نے اسلام کے سررشتہ کو کاٹنے کی سازش کی ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ کے گھر اور وطن کو برباد کیا ہے، ترقی و تعمیر کے نام پر اس کی روحانیت اور حقیقت سے چھیڑ چھاڑ کی ہے، بلکہ اس کے ناموس سے کھلواڑ کیا ہے، دنیا کے تمام خطے اپنی جگہ، مسلمان کی جان مقدس، روئے زمین کا کوئی بھی مسلمان کہیں بھی رہے وہ حق زندگی رکھتا ہے اور اس پر ظلم ہو تو دوسرے مسلمان پر واجب ہے کہ وہ جو بَن سکے وہ کرے؛ لیکن جب حرم کی عزت تار تار کی جارہی ہو، خلفائے اربعہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا موطن اجاڑا جارہا ہو اور مہبط وحی کی حالت دگر گوں ہو تو پھر سب سے پہلے اس کی طرف متوجہ ہونا ضروری ہے، بلاشبہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد تقی عثمانی صاحب نے تاخیر کردی ہے، مگر پھر بھی صف بستہ ہونے کی ضرورت ہے، وہ لوگ جن کے منہ بھرے ہوئے ہیں، ریال اور اعزازی حج پاکر خوش و خرم رہتے ہیں، جو لوگ سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب کے خلاف بولنا اسلام کے خلاف بولنا ہے، اور جن کا یہ گمان ہے کہ وہاں کی ہر چیز کو صحیح سمجھ کر آنکھ بند کرلینی چاہیے، وہ پہلے بھی غلطی پر تھے اور اب بھی خطا کر رہے ہیں، وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے، عالم اسلام میں حیران کن تبدیلیاں آرہی ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالی ان کی سر کوبی کیلئے آج نہیں تو کل مردان مجاہدین کو کھڑا کردے گا، اور جس یورپ کے نقش قدم پر وہ چلنا چاہتا ہے اسے وہیں بھیج دیا جائے گا، حرمین کو آزاد کروایا جائے گا، ناپاکی اور نجاست سے اس کی تطہیر کردی جائے گی، اور اسلامی علم پورے آب و تاب کے ساتھ لہرائے گا؛ لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اس عزت و شرف سے محروم رہ جائیں، اس سے پہلے ہی ہماری وفات ہوجائے اور ہم سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا سامنا کریں، آخر ہم کیسے سلام کہیں گے؟ کس منہ سے مخاطب ہوں گے؟ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھ لیا کہ میرے شہر کو فحش کا اڈہ بنایا جارہا تھا، سنیما ہال کھولے جارہے تھے، ایک سر پھرا مغرب کی تقلید میں رسالت و نبوت کو مجروح کر رہا تھا، میری آرامگاہ کے قریب ہی میری بے توقیری کر رہا تھا، اسلام کا خاتمہ معتدل اسلام کے نام پر کر رہا تھا، آزادی کے نام پر مقدس صحابیات کی نسلوں کو عریاں کرنے کیلئے سمندری ساحل تیار کروا رہا تھا تو تم کیا کر رہے تھے؟ تم چین و آرام سے روٹی کھا رہے تھے؟ سکون و اطمینان سے اپنے بستر پر پڑے ہوئے تھے؟ یا اللہ کیا منطر ہوگا! اس ظلم سے اپنے آپ کو روکیے! متحدہ طور پر محمد بن سلمان کیلئے محاذ آرائی کیجئے؛ ورنہ دیر ہوجائے گی اور مرکز اسلام رسوا ہو کر ہماری رسوائی کا سیاہ باب کھول جائے گا۔
