کیا مسلم ممالک کے حکمراں کسی غیبی مدد کے انتظار میں ہیں؟
سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد
رابطہ: 8099695186
کہتے ہیں کہ جب کسی قوم کے سربراہوں،قیادتوں اور رہنماؤں کے اندر’ وھن’ کی بیماری پیدا ہوجاتی ہے تو پھر زبان سے بھی ایسے الفاظ نکلتے ہیں جو بزدلانہ،احمقانہ اور چاپلوسانہ ہوتے ہیں،عملی اقدام،مقابلہ آرائی اور آنکھ میں آنکھ ملاکر جواب دینے کے لئے خالد بن ولید کی جرأت و بسالت،صلاح الدین ایوبی کا ایمانی ولولہ اور طارق بن زیاد کا جوش وجذبہ چاہئے جن سے آج دنیا بھر کے مسلم حکمراں تہی دامن ہیں،ایسے میں ان سے کسی طرح کی کوئی ایسی امید رکھنا کہ یہ اپنے دشمنوں کو منھ توڑ جواب دیں گے،بہت بڑی حماقت ہے،ہمارے عرب اورمسلم حکمرانوں کو اٹلی کا پرفیوم،جاپان کی بوسکی،لندن کا چپل،روس کی آبرو باختہ حسینائیں اور اسرائیل کی دوشیزائیں،اس دنیا کی عیش وعشرت کے لئے کافی ہیں تو پھر انھیں اور کیا چاہئے؟ جب انھیں یہ ساری چیزیں حاصل ہیں تو بھلا وہ اپنی جان اور اپنے اقتدار کو خطرے میں کیوں ڈالیں؟انکے رویے کو دیکھ کر میرے کچھ دوست کہتے ہیں کہ کیا درجنوں مسلم ممالک اور انکی قیادت کو کسی غیبی مدد کا انتظار ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ آخر غیبی مدد آئے گی کیسے؟
گذشتہ دنوں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہنگامی طور پر دو روزہ عرب اسلامی سربراہی اجلاس موجودہ صورتحال کے تناظر میں انتہائی مایوس کن رہا جس میں صرف اسرائیل کی مذمت پر اکتفا کیا گیا، اسرائیلی اور صیہونی جارحیت کو روکنے کے لئے کوئی سخت پیام دینے سے بھی گریز کیا گیا،مسلم ممالک نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ قطر پر اسرائیلی حملہ خطے میں امن کی کوششوں کے لئے بڑا دھکا ہے،قطر پر اسرائیل کے بزدلانہ اور غیر قانونی حملے کی مذمت کی جاتی ہے،اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ قطر پر اسرائیل کے بزدلانہ اور غیر قانونی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت اور قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی اور رد عمل کے لئے ہم سب اس کے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں،مشترکہ اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ قطر کے خلاف اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت،خطے میں امن کے امکانات کو نقصان پہنچا رہی ہے،غیر جانبدار ثالث پر حملہ امن کی کوششوں کے لئے خطرہ ہے،قطر پر مزید حملوں کی اسرائیلی دھمکیوں کو مسترد کیا جاتا ہے،مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ فلسطین پر اسرائیلی قبضہ سنہ 1967 کی سرحدوں کے مطابق ختم ہونا چاہیے،اعلامیہ میں حملے سے نمٹنے میں قطر کے مہذب اور دانشمندانہ موقف کی تعریف اور غزہ میں جارحیت روکنے کے لئے ثالث قطر،مصر اور امریکہ کی کوششوں کی حمایت کی گئی،اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ کسی بھی بہانے اسرائیلی جارحیت کو جواز فراہم کرنے کی کوششوں کو ہم یکسر مسترد کرتے ہیں،اعلامیہ کے مطابق عرب لیگ نے کہا کہ مسلم ممالک کو اجتماعی خطرات کا متحد ہو کر مقابلہ کرنا ہوگا،ریاستی خود مختاری کا احترام اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت ضروری ہے، اجلاس میں مسلم ممالک کے سربراہان نے کہا کہ اسرائیل نے تمام حدیں پار کر لی ہیں،اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اسرائیل کو جواب دہ ٹھہرانا ہوگا اور مشرق وسطی میں امن کے لئے مسئلہ فلسطین حل کرنا ہوگا،صیہونی جارحیت روکنے کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
دوحہ پر اسرائیلی حملے کے ایک ہفتے بعد عرب لیگ اور دیگر مسلم ممالک کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا،اسے حسن اتفاق کہیں یا کچھ اور لیکن یہ اجلاس ابراہیمی معاہدے کے دستخط کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر ہورہا ہے،یاد رہے کہ 2021 میں ہونے والے ابراہیمی معاہدے کے نتیجے میں اسرائیل اور عرب ممالک نے معمول کے تعلقات قائم کرنے کا اعلان کیا تھا یہ اجلاس ایسے وقت ہوا ہے جب مشرق وسطی کے اکثر ممالک اور اسرائیل کے درمیان سیاسی تناؤ بڑھتا جارہا ہے،غزہ میں اسرائیل کی جنگ اب تیسرے سال میں داخل ہورہی ہے، جبکہ خطہ کے دیگر ممالک بھی اس کی تباہ کاریوں سے دوچار ہیں،حماس نے عرب،مسلم ممالک اور دنیا بھر کی باثر طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کا بائیکاٹ کریں اور اسے سیاسی و اقتصادی طور پر تنہا کرنے کے لیے کام کریں،انہوں نے اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی کھلے عام پامالی کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا،حماس کی جانب سے گذشتہ اتوار کو جاری ایک میمورنڈم میں غزہ مغربی کنارے اور یروشلم میں اسرائیلی جارحیت، فلسطینیوں کی نسل کشی کو روکنے اور اسرائیلی رہنماؤں کے خلاف بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمہ چلانے کے لئے دباؤ ڈالنے کا بھی مطالبہ کیا ہے،حماس نے دوحہ سربراہی اجلاس کے شرکاء پر زور دیا تھا کہ وہ غزہ میں نسل کشی اور مغربی کنارے یروشلم، لبنان،شام، یمن، تیونس اور قطر میں صیہونی قبضہ کے جرائم کو روکنے کے لیے تاریخی اتفاق رائے کا اظہار کریں،ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم ‘گریٹر اسرائیل’منصوبہ کو پورا کرنے،مشرق وسطی کی تشکیل نو اور غلبہ حاصل کرنے کے لئے پورے خطے کو تباہی کے دہانے پر لے جا رہے ہیں،لیکن سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ دوحہ سربراہی اجلاس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا،سیاسی ماہرین نے دوحہ سربراہی اجلاس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اتحاد مردہ ہو گیا ہے،جسکی اب کوئی ضرورت نہیں ہے،اسرائیل اور امریکہ جو زبان سمجھتے ہیں،اس پر عرب حکومتوں کو عبور نہیں ہے،سربراہی اجلاس سے مذمت سے بڑھ کر کسی چیز کی امید نہیں تھی یہ اجلاس ایسے وقت ہوا جب اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی جانب سے اسرائیل پر غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کے الزامات اس رپورٹ کی بنیاد پر لگائے گئے ہیں جس کے مطابق 2023 میں حماس کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیل بین الاقوامی قانون کے تحت کسی معاملے کو نسل کشی قرار دیے جانے کے لیے درکار پانچ اقدامات میں سے چار کا مرتکب ہوا ہے،خطہ اسوقت ایک اہم تاریخی موڑ پر کھڑا ہے جس کے لئے اسرائیل کی طرف سے درپیش چیلنج کو ختم کرنے کی ضرورت ہے،بہت سے اقدامات تھے جو عرب اور مسلم دنیا کے ممالک اٹھا سکتے تھے اور اسرائیل کو سخت پیام دے سکتے تھے،جن ممالک نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور اقتصادی تعلقات قائم کررکھے ہیں یہ ممالک ان تعلقات پر دوبارہ نظر ثانی کا عندیہ دے سکتے تھے،عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ اقتصادی اور سیاسی تعلقات پر نظر ثانی،اس کے مغربی اتحادیوں اور شراکت داروں پر دباؤ ڈال کر اپنی اہمیت منوا سکتے تھے،خلیجی ممالک،دنیا کو تیل کی ضروریات کا 40 فیصد فراہم کرتے ہیں اور یہ معاملہ انہیں خاص بناتا ہے،بین الاقوامی عدالتوں اور تنظیموں کے ذریعے اسرائیل پر گھیرا تنگ کرنے کی حکمت عملی بھی سود مند ہو سکتی تھی لیکن افسوس کوئی سخت پیام نہیں دیا گیا گویا ایک شاندار موقع مسلم ممالک کے ہاتھ سے نکل گیا۔
9۔ستمبر 2025 کو اسرائیل نے دوحہ کے رہائشی علاقے پر حملہ کیا،اس حملے میں کئ جہازوں نے حصہ لیا اور بمباری کے نتیجے میں 6 افراد شہید ہوئے جن میں فلسطینی اور ایک قطری سکیورٹی اہلکار شامل تھے،دراصل اس حملے کا نشانہ حماس کی وہ قیادت تھی جو مذاکرات کےلئے جمع ہوئی تھی،قطر نے اسی پس منظر میں او آئی سی کا ایمر جنسی اور ہنگامی اجلاس بلایا تھا۔لطیفہ یہ ہوا کہ کانفرنس کے بعد جب عرب لیگ کے اسسٹنٹ سکریٹری جنرل ،حسام ذکی سے پوچھا گیا کہ کیا یہ ممالک اسرائیل سے تجارتی اور سفارتی تعلقات توڑ لیں گے تو موصوف نے کہا:” ہم اس پر نظر ثانی کریں گے،ممالک اس کے پابند نہیں ہوں گے ” ملائشیا کے صدر انور ابراہیم نے دوحہ سمٹ سے اپنے خطاب میں کہا کہ میزائل کا جواب میزائل ہونا چاہئے۔
لیکن خلیجی ممالک نے اس سے اتفاق نہیں کیا،ان کا موقف تھا کہ عسکری جواب سے خلیجی ممالک کے اندرونی معاملات بگڑ سکتے ہیں۔ اصل میں خلیجی ممالک چھوٹی چھوٹی ریاستیں ہیں،جن کے پاس دولت اور دفاعی ساز و سامان تو بہت ہے لیکن افرادی قوت نہیں ہے کہ جنگ جنگ کھیل سکیں، وہ اپنی ریاستوں کی حفاظت کے لئے امریکہ کو بھتہ دیتے ہیں۔دو ماہ قبل ہی متحدہ عرب امارات اور قطر نے ٹرمپ کو دو کھرب کا "بھتہ ” دیا تھا، تاکہ ان کی حفاظت کی جا سکے۔۔۔۔قطر کی جیسی حفاظت امریکہ نے کی وہ پوری دنیا نے دیکھی۔سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی نے سخت لہجے میں کہا "اسرائیل نے حماس کے ساتھ جاری امن مذاکرات کو سبوتاژ کیا،ہم غرور، طاقت اور خون کی پیاسی اسرائیلی حکومت کے خلاف ٹھوس اقدامات کریں گے”۔
اس سے بعض حضرات کو یہ خوش فہمی ہو گئی کہ شاید قطر،اسرائیل کو دئیے جانے والے تیل کو روک لے گا۔لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا،اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک اچھا اور شاندار موقع تھا،اسرائیل کے خلاف تقریبا تمام ممالک اکٹھے تھے،اسرائیل کی طرف سے ریڈ لائن کراس کی گئ تھی،ایسے میں میزائل کا جواب میزائل سے نہ بھی دیا جاتا،تاہم چند اعلانات کردئیے جاتے تو اسرائیل کو انکی اوقات معلوم ہوجاتی کیونکہ وہ عالمی تنہائی کا شکار ہوہی گیا ہے،یہ اعلانات اور ان پر فوری عمل درآمد اسرائیل کے لئے بہت بڑا دھکا ہوتا۔لیکن پوری مسلم دنیا نے اس سنہری موقع کو گنوادیا اور اسرائیل کو مزید کھیل کھیلنے کا موقع فراہم کردیا ہے۔مسلم ممالک کو اسوقت بھی موقع ہاتھ آیا تھا جب اسرائیل نے فلسطین پر حملہ شروع کیا تھا،اور اسوقت بھی جب ایران پر حملہ کیا تھا اور یہ جنگ کئی دنوں تک چلی تھی اور اسوقت بھی جب وقفے وقفے سے اسرائیل اپنے پڑوسی مسلم ملکوں پر حملہ کرتا رہا ہے،جس میں یمن،شام،متحدہ عرب امارات،لبنان اور عراق وغیرہ شامل ہیں،لیکن مسلم ممالک کے سربراہان ہمیشہ کی طرح خواب خرگوش میں رہے اور تماشا دیکھتے رہے اور یہ سلسلہ دراز ہوتا جارہا ہے،دوحہ سمٹ کے بعد سعودی عرب اور پاکستان نے ایک معاہدے پر دستخط کیا ہے جسکے مطابق ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک پر تصور کیا جائے گا،اس معاہدے میں اورکون کونسے مسلم ممالک شامل ہونگے اور یہ معاہدہ کتنا کامیاب ہوگا،اسکے اثرات کیا ہونگے اس سلسلے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا،اسکے جائزے کےلئے ابھی ہمیں کچھ دنوں انتظار کرنا ہوگا۔لیکن ایک بات تو طے ہے کہ فلسطین کے لاکھوں معصوموں کا قتل اور انکی نسل کشی مسلم ممالک کو جھنجھوڑنے اور بیدار کرنے میں ناکام رہیں،اسرائیل غزہ پر قبضہ کےلئے زمینی سطح پر داخل ہوچکا ہے اور اسکی بے لگام جارحیت اپنے عروج پر ہے، سوپر پاور طاقتیں بے بسی اور بے حسی کا شکار ہیں،ایسا لگتاہے کہ دنیا سے انسانیت کا تصور ختم ہوچکا ہے اور حیوانیت کا ہر طرف بسیرا ہے۔
تاریخ اٹھا کردیکھیے تو معلوم ہوگا کہ مردہ اور سوئی ہوئی قوموں کے ساتھ کوئی کھڑا نہیں ہوتا اور نہ ہی معاشرے میں ان کی کوئی قدر ہوتی ہے آپ کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ آپ ایک زندہ قوم ہیں،زندہ قوم کے نمائندے ہیں اور زندہ قوم ہی دنیا کی تاریخ لکھتی ہے،تاریخ کے صفحات میں وہ ہمیشہ زندہ رہتی ہیں،بزدل اور مردہ قوم کو ہمیشہ بھلادیا جاتا ہے،زندہ قومیں اپنی قربانیوں اور جدوجہد کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہتی ہیں،زندہ قومیں اپنے وجود کی لڑائی خود لڑتی ہے وہ کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ کوئی اس کا مذاق بنائے، کسی بھی سوسائٹی اور سنجیدہ معاشرے میں بزدل اور مردہ لوگوں کی کوئی ضرورت نہ کل تھی نہ آج ہے اور نہ کل رہے گی،ظالم خواہ کہیں پر بھی ہو سب کو متحد ہو کر اور متحدہ طور پر اس کا مقابلہ کرنا چاہیے اور حق کی حمایت کے لیے ہمیشہ میدان میں ڈٹے رہنا چاہئے۔تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ کسی بھی قوم کی کامیابی کامرانی فتح و نصرت کی تاریخ رقم کرنے میں کلیدی کردار اس قوم کے اندر پایا جانے والا اتحاد ادا کرتا ہے،قوموں کے عروج و زوال کی داستان،اقبال مندی اور سربلندی تنزلی و ترقی،خوشحالی و بد حالی میں اتحاد و اتفاق اخوت و ہمدردی،آپسی اختلافات،انتشار و تفرقہ بازی اور باہمی نفرت و عداوت اہم ترین اسباب ثابت ہوئے ہیں،جو قومیں آپسی اختلافات کا شکار ہو گئیں ان کا سورج غروب ہو گیا،محکومی ذلت و رسوائی اور زوال ان کا مقدر ٹھہرا،خطرے کے وقت جانور بھی متحد ہوجاتے ہیں،ہلاکت خیز اور خطرناک سیلاب کے وقت کتا،بلی سانپ اور دیگر جانور سب ایک جگہ خاموش بیٹھے نظر آتے ہیں اور چوکنا ہوجاتے ہیں یہ جانوروں کا اتحاد ہے،انسانی اتحاد وہ ہے جو اللہ تعالی کے خوف اور فکر آخرت کی وجہ سے پیدا ہو۔
موجودہ حالات میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث کتنی سچی اور کتنی پکی ہے اور عصر حاضر کے مسلم حکمرانوں پر کتنا فٹ بیٹھتی ہے،ایک حدیث میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عنقریب ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ دنیا کی دیگر قومیں تم پر حملہ کے لیے ایسے ہی ٹوٹ پڑیں گی جیسے کھانے والے لوگ دستر خوان پر بیٹھ کر پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں،سائل نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ کیا ہماری تعداد اس وقت کم ہوگی؟ کیا ہم بہت تھوڑے ہوں گے؟ آپ نے ارشاد فرمایا نہیں بلکہ تم اس وقت بہت ہو گے لیکن تمہاری حیثیت بہنے والے نالے کے جھاگ کی طرح ہوجائے گی،اللہ تعالی تمہارے دشمنوں کے دل سے تمہارا رعب ودبدبہ نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں وہن پیدا کردے گا صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ وہن کیا چیز ہے؟ وہن کس کو کہتے ہیں؟ تو آپ نے جواب دیا وہن دو چیزوں کا نام ہے،ایک دنیا کی محبت اور دوسرا موت کا خوف۔
آج مسلم دنیا اور انکے حکمرانوں کو دیکھئے اور غور کیجئے کہ واقعی آج مسلم حکمراں کتنی بے حسی اور ضمیر فروشی کا شکار ہیں،کیا انکے اندر وہن نام کا مرض نہیں پایا جاتا ہے؟ پھر یہ لوگ کسی غیبی امداد کے منتظر کیوں ہیں اور کیا ایسے میں کوئی غیبی مدد آئے گی؟مسلم ممالک کے لیڈران اور حکمرانوں کا رویہ دیکھ کر علامہ اقبال نے درست کہا ہے کہ
چاک کردی ترک ناداں نے خلافت کی قبا
سادگی اپنوں کی دیکھ اورں کی عیاری بھی دیکھ
*(مضمون نگار معروف صحافی اور کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)*
sarfarazahmedqasmi@gmail.com
