لبرل طرزِ اجتہاد
ذکی الرحمٰن غازی مدنی
جامعۃ الفلاح، اعظم گڑھ
تھوڑی دیر کے لیے ایک مثال پر غور کریں۔ ایک شخص جس کا تعلق علماء ومشایخ کے طبقے سے ہے اور مفتیوں اورفقیہوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔وہ بار بار آپ کے سامنے کہتا ہے کہ اصل اعتبار صرف کتاب وسنت کا ہوگا، اور زندگی کے جملہ معاملات میں نصوصِ شرعیہ کی حکمرانی قائم ہونی چاہیے۔
اس کی یہ بات یقینا صد فیصد درست ہے جس کی حقانیت میں ذرہ برابر شک نہیں کیا جاسکتا۔مگر جب ہم اُس مفتی یا فقیہ کے دیے فتوئوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو دکھائی پڑتا ہے کہ ہر مسئلے میں اس کا فتویٰ وہ ہوتا ہے جو ملک کے حکمراں یا طبقۂ مقتدرہ کو مطلوب ہوتا ہے۔کوئی مسئلہ چاہے عقیدے سے متعلق ہو، یا لوگوں کے اموال واملاک سے متعلق ہو، یا اخلاقی ومعاشرتی ایشو ہو؛ ہر مسئلے میں دیا گیا اس مفتی کا فتویٰ حاکمِ وقت کی خواہش اور رغبت کا آئینہ دار ہوتا ہے،کبھی سرِ مو اس کے خلاف نہیں جاتا۔
جب اس مفتی سے کہتے ہیں کہ آپ قرآن وسنت کی اتباع کرنے کے بجائے حاکمِ وقت کی خواہشات کی اتباع کرتے ہیں، تو یہ ترکی بہ ترکی جواب دیتا ہے کہ تم لوگ بدگمانی کرتے ہو۔ معاملہ قطعی برعکس ہے۔ میں ہر معاملے میں شریعت کی نصوص کو حَکَم بناتا ہوں اور جن مسائل میں بھی میں نے فتوے دیے ہیں ان کے حق میں میرے پاس شرعی دلائل موجود ہیں اور یہ تمام فتوے میں نے قرآن وسنت کی نصوص پر لمبے غور وفکر اور تدبر وتأمل کے بعد جاری کیے ہیں، اس پر میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں، اور تمہیں اپنے مومن بھائی کے تئیں حسنِ ظن سے کام لینا چاہیے اور اس خیال کو ذہن سے کھرچ دینا چاہیے کہ میں اپنے فتوئوں کے ذریعے حاکمِ وقت کی ہم نوائی کرتا ہوں اور اس کی خواہشات کو شرعی مکھوٹا فراہم کرتا ہوں۔تمہارے دلوں میں میرے اور حاکمِ وقت کے مابین کسی خفیہ تعلق کا خیال بھی ہرگز نہیں آنا چاہیے،وغیرہ وغیرہ۔
یہاں ایک سوال قارئین سے یہ ہے کہ آپ کی دانست میں کیا لوگ اُس مفتی کی باتوں کو سچ مان لیں گے؟اور کیا سچ مچ یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ اس مفتی کے تمام فتوے حاکمِ وقت کی خواہش اور منشا کے مطابق محض اتفاقیہ صادر ہوگئے ہیں، اس نے سوچ سمجھ کر ایسا نہیں کیا ہے؟ کیا اس نقطۂ نظر سے اس کے فتووں کا جائزہ لینے والا کوئی ایک شخص بھی مطمئن ہو سکتا ہے کہ کوکبۂ مقتدرہ کے ارادوں اور منصوبوں کو شرعی جواز فراہم کرنے والے اس کے فتوے یونہی اتفاقیہ جاری ہوئے ہیں، پہلے سے ان کے پسِ پشت متعین رجحانات کارفرما نہیں تھے؟ یقینا لوگ اس بات کا یقین نہیں کریں گے۔
مگر ہم وثوق کے ساتھ کیسے جان سکتے ہیں کہ یہ شخص جو فتوے دھڑادھڑ حاکمِ وقت کے اعلان شدہ منصوبے کے موافق صادر کر رہا ہے، قرآن وسنت کی نصوص سے اس کا اتنا گہرا تعلق اور تاثر نہیں ہے جتنا کہ کسی خارجی محرک سے ہے جس کی رہنمائی اور اگووائی میں وہ شریعت کی نصوص کا معنی ومفہوم متعین کر رہا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ کوئی شخص اس مفتی کے دعووں کی روشنی میں جو اتباعِ شریعت اور حاکمیتِ نص کے تعلق سے یہ کرتا آیا ہے،اس حقیقت کو ہرگز مبرہن نہیں کر سکتا اور نہ اس کے دیے فتووں کے انبار میں سے چار پانچ فتوئوں کا پوسٹ مارٹم کرکے وہ یہ سچائی برآمد کر سکتا ہے۔ اس حقیقت کی دریافت جسے ہر خردمند شعوری سطح پر محسوس کرتا ہے،نظریاتی طور پر وہ اِسے اُس مفتی کے جملہ فتاویٰ واجتہادات کا جائزہ لے کر منکشف کر سکتا ہے۔
اسے ہم غلامانہ ذہنیت کا نام دے سکتے ہیں۔مگر اس کا مطلب کیاہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ بسااوقات ایسی سچویشن پیدا ہوتی ہے کہ بولنے والے کی گفتگو کا اصل قبلہ وکعبہ وہ نہیں ہوتا جس کا اعلان کرکے وہ اپنی بات پیش کر رہا ہے۔ ایک یا دو مسئلوں کی جانچ پڑتال سے یہاں حقیقت نہیں کھلتی۔اس کا اصل رخ اور غرض وغایت وہ ہے جو اس کے بیشتر فیصلوں اور حکموں کی مجموعی دلالت سے مترشح ہوتی ہے۔ اگر کسی کی بہت ساری باتوں سے مترشح ہوتا ہے کہ اس کا محرک کچھ اور ہے، اور کچھ اور ہی غرض وغایت اس کے پیشِ نظر ہے تو اس سے ہم منطقی طور پراس کی باتوں میں جاری وساری مخفی اصولوں اور قاعدوں کی یافت کر سکتے ہے۔
عملاً یہ ہوتا ہے کہ انسان جن اصولوں کو سامنے رکھ کر گفتگو کرتا ہے وہ اس کی فکری جزئیات میں رَس جاتے ہیں اور فہم رکھنے والے ان جزئیات کی روشنی میں ہی اُس شخص کے اصولوں کو پہچان لیتے ہیں۔کسی شخصیت کے نظریاتی اصولوں کو اس کی عملی کارگزاریوں کی روشنی میں بہ آسانی مستنبط کیا جاسکتا ہے۔ جس طرح دل سے نکلنے والی خون کی شریانیں پورے جسمِ انسانی میں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں،ٹھیک اسی طرح انسان کی چھوٹی چھوٹی حرکتوں اور باتوں میں بھی وہ اصول اور قاعدے سرایت ہوتے ہیں جن پر وہ ایمان رکھتا ہے۔
کیا ہم کوئی نئی بات کہہ رہے ہیں؟ نہیں،ہرگز نہیں۔ ہمارے علمائے اہلِ سنت نے بہت پہلے یہ نفسیاتی حقیقت بیان فرمادی ہے کہ رو بہ کار لائی جانے والی صورتوں اور شکلوں سے کسی بھی انسان کے درپردہ اصولوں اور قاعدوں کو دریافت کیا جاسکتا ہے، پھر چاہے وہ علانیہ اور صراحتاً ان اصولوں اور قاعدوں کا اقرار نہ کرے اور بہ ظاہر اپنی فکر میں ان کا کوئی فیصلہ کن مقام تسلیم نہ کرے۔امام شاطبیؒ نے اپنی شہرۂ آفاق اصولی کتاب ’’الاعتصام‘‘ میں یہ بدیہی حقیقت بہ ایں الفاظ بیان فرمائی ہے:’’جزئیات کی کثرت بھی قاعدۂ کلیہ کے قائم مقام ہوا کرتی ہے۔‘‘ [ویجری مجری القاعدۃ الکلیۃ کثرۃ الجزئیات] (الاعتصام: ۳/۱۴۰ ،تحقیق: الشقیر والحمید والصینی) یہ امام شاطبیؒ کی غایت درجہ جامع اور حکیمانہ بات ہے۔
بہرحال اوپر ہم نے جو مثال دی تھی وہ تو کسی بھی سرکاری درباری مفتی پر فٹ بیٹھ سکتی ہے۔ اب ایک مثال اور دیکھئے۔ہم کسی شخص کو جانتے ہیں جو دین میں تجدید واحیاء کا بڑا حامی اور داعی ہے، اور بار بار اپنی گفتگو میں کہتا ہے کہ تجدیدِ دین کے جس پروجیکٹ پر وہ کام کرنا چاہتا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ تقلید اور جمود کا رویہ پوری امت بہ حیثیتِ مجموعی چھوڑدے اور جن مانوس چیزوں کو ہم غلطی سے دین کا حصہ سمجھ بیٹھے ہیں ان کا بوجھ اپنے شانوں سے اتار پھینکیں، مسلم سماج میں جن جن فتووں اور فقہی دبستانوں پر عمل ہورہا ہے ان کی تحقیقی انداز میں نظرِ ثانی کی جائے اور صرف شرعی نصوص کی روشنی میں دین کے احکام ومسائل بیان کیے جائیں۔وہ کہتا ہے کہ میرے نزدیک فقہِ اسلامی کو دوبارہ زندہ کرنے کا،تجدیدِ دین کا اور دین کے پیغام کو معاصر اسلوب وانداز میں پیش کرنے کا یہی ایک تنہا راستہ ہے۔
قارئین غور فرمائیں کہ اس کی ان باتوں میں کوئی ایک بات بھی غلط یا ناقابلِ قبول نظر آتی ہے؟ میری رائے ہے کہ دورِ حاضر میں اسلامی کاز کے لیے علمی وفکری جدوجہد کا یہ بڑا اچھا نقشۂ کار ہے اور معروضی انداز میں بحث وتحقیق کرنے والا کوئی بھی سلیم الفطرت انسان اس علمی وفکری پروجیکٹ پر چنداں اعتراض نہیں کر سکتا ہے، بلکہ حقیقتاً یہ سب باتیں دین کے مطالبات اور تقاضوں میں شامل ہیں جن سے کسی بھی حال میں گریز نہیں کیا جاسکتا ہے۔
مگر یہی شخص جس نے یہ عمدہ منصوبہ پیش کیا ہے،جب ہم اس کے عملی موقف پر نظر ڈالتے ہیں، اس کے فرعی رویوں اور تطبیقی پیمانوں کی جانچ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ امت کو درپیش تمام امور ومسائل کا ہمیشہ وہی حل بیان کرتا ہے جو مغربی فکر، مغربی اقدار اور مغربی تہذیب وثقافت کی مکمل موافقت میں ہو، یا کم از کم اس کے معارض ومخالف نہ ہو۔
اگر شریعت کا کوئی حکم مغربی تہذیب وتمدن سے ٹکراتا ہوا دکھائی پڑتا ہے تو یہ صاحب کیمرے کے سامنے بیٹھ کر ُس حکمِ شرعی سے بچائو کا کوئی نہ کوئی راستہ تلاش کرنے لگ جاتے ہیں۔ چنانچہ اگر اُس حکم کی بناء کسی ایسی حدیث پر رکھی گئی ہو جس کے راویوں میں سے کسی راوی کے بارے میں علمائے جرح وتعدیل میں اختلاف ہوا ہے۔ اکثر نے اس کی توثیق کی ہے اور کچھ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ تو یہ صاحب فوراً جارحین کی جرح پکڑ لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں حکمِ شرعی ایک ضعیف حدیث پر قائم ہے۔ ایسے میں ان کا رویہ حدیث کی تصحیح وتوثیق میں سخت گیری پر عامل علمائے کرام کو شرم دلانے والا ہوتا ہے۔
اور اگر اتفاق سے حکمِ شرعی کا مأخذ کوئی صحیح اور ثابت حدیث ہو جس کے کسی راوی پر کوئی جرح نہیں کی گئی ہے،مگر اس حدیث کے برخلاف کسی نامعلوم یا گمنام کتاب مثلاً صوفیہ کے ملفوظات کے کسی مجموعے میں کوئی کمزور حدیث بھی ملتی ہے تو یہ صاحب بغیر ہچکچائے اُس حدیث کو لے اُڑیں گے اور اب ان کا رویہ حدیثوں کے قبول اور عدمِ قبول میں سہل کوشی پر عمل کرنے والے محدثین کو شرمادینے والا ہوگا۔یہ فی الفور ایسی تاویل کریں گے کہ فلاں کمزور حدیث روحِ شریعت سے میل کھاتی ہے اس لیے صحیح حدیثوں کے اوپر اس کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
اب اگر حکمِ شرعی کا مأخذ حدیث صحیح بھی ہو،اور اس کے معارض کوئی کمزور یا صحیح روایت بھی نہ ملتی ہو تو یہ صاحب پورے علمی وفقہی سرمائے سے اس حدیث کے خلاف پڑنے والا کوئی شاذ قول یا متفرد رائے تلاش کریں گے۔ چنانچہ کبھی فرمائیں گے کہ اس مشہور حکمِ شرعی کے خلاف تابعی ابن شبرمہؒ کی رائے یہ تھی، امام ابو ثورؒ سے اس بارے میں یہ بات نقل ہوئی ہے، امام اوزاعی سے فلاں بات منقول ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس کے نزدیک یہ قدیم فقہاء ذرّہ برابر قانونی مرجعیت اور حیثیت رکھتے ہیں۔معاملہ بس یہ ہے کہ وہ ایمرجینسی صورتحال میں پھنس گیا ہے اور کسی قریب ترین راہِ فرار کی تلاش میں ہے، اس لیے کسی حکمِ شرعی کے بارے میں فقہائے کرام کا ہلکے سے ہلکا اختلاف اسے یہ عذر نما ہتھیار فراہم کر دیتا ہے کہ مغربی تہذیب وثقافت کے خلاف پڑنے والا حکمِ شرعی واجب الاتباع نہیں ہے،بلکہ نئے زمانے میں اس کا ترک لازم ہے۔
اب اگر شرعی مسئلہ ایسا ہو کہ اس میں کسی فقیہ کا کوئی مخالف قول بھی دور دور تک نہ ملے تو یہ صاحب کبھی شرماتے ہوئے اور کبھی پوری ڈھٹائی سے فرمائیں گے کہ ہمارے اسلاف نے شریعت کے نفاذ وتطبیق کا جو تجربہ اپنے زمانوں میں کیا تھا وہ یقینا اپنی جگہ بہت عظیم ہے اور ہماری تاریخ کا ایک روشن باب ہے،مگر ہے وہ بہرحال ایک انسانی تجربہ،اور ضروری نہیں کہ بعد کی نسلوں کے لیے بھی وہ اتنا ہی سازگار اور مطابقِ حال ہو جتنا کہ پچھلی نسلوں کے لیے سازگار تھا۔
اتنا کہنے کی ہمت نہ ہوئی تو یہ صاحب سیاستِ شرعیہ اور مقاصدِ شریعت کا دفتر کھول کر بیٹھ جائیں گے اور بڑے غم واندوہ کے ساتھ کہیں گے کہ فقہِ اسلامی کی مردنی وجمود کا اولین سبب یہ ہے کہ اس میں شرعی نصوص کو مقاصدِ شریعت کی روشنی میں نہیں برتا گیا ہے۔ لے دے کے قدیم فقہاء میں اُسے امام شاطبیؒ اور امام قرافی کا نام ملے گا اور پھر وہی راگ شروع ہوجائے گا کہ ملت نے شاطبیؒ وقرافی کی قدر نہیں کی اور معاصرین بھی فکرِ مقاصدی کی کما حقہ تفہیم نہیں کرا سکے ہیں، اور آج اشد ضرورت شریعت کے مقاصدی مطالعے کی ہے۔
مگرکیا واقعتا اِسے شریعت کے مقاصد سے دلچسپی ہے؟ ہرگز نہیں۔فقہ المقاصد سے اس کی مراد وہ مقاصدِ شریعت نہیں جنھیں ہر زمانے میں علمائے اصول وشرع نے بحث وتحقیق اور تنقیح وتمحیص کا موضوع بنایا ہے اور جن کی پوری وضاحت امام شاطبیؒ نے اپنی کتابوں میں کی ہے۔اس کی نظر میں مقاصدِ شریعت کا مطلب یہ ہے کہ شریعت کی جزوی وفروعی نصوص کو غیر منضبط اور بے مہار تصورات کے سانچے میں ڈھال دیا جائے۔ کسی حکمِ شریعت کو اپ ٹو ڈیٹ کرنے کے نام پر جو لوگ بھی آج مقاصدِ شریعت کی دہائی دیتے ہیں حقیقت میں مقاصد سے ان کا مقصد جزئیاتِ شریعت یا انفرادی احکام بیان کرنے والی شرعی نصوص کو معطل کردینا ہے، اور شرعی نصوص کے اس تعطل اور الغاء کو یہ لوگ گھامڑپن میں ’’فقہ المقاصد‘‘ کا عنوان دیتے ہیں۔
عدل وانصاف، رحمت وہمدردی اور تسہیل وتیسیر کے خوشنما عنوانوں سے شریعت کی مقصدیت طے کی جاتی ہے، پھر اس تیشے سے شریعت کے اُن تمام احکام میں خردبرد کی جاتی ہے جو فی الوقت غالب مغربی تہذیب وتمدن کے خلاف پڑرہے ہوتے ہیں۔ شریعتِ حقہ جس عدل،رحمت اور آسانی کی بات کرتی ہے وہ مقاصدِ شریعت کے نام پر اس دھاندھلی سے بالکلیہ بری ہے۔
آخر کوئی شخص اس طرح کے حربے اور حیلے بہانے کیوں تراشتا ہے؟ صرف اس لیے کہ وہ مغربی تہذیب وثقافت کی بالادستی پر صمیمِ قلب سے ایمان لا چکا ہے اور اسی عینک سے گردوپیش کی اشیاء کو دیکھتا ہے اور تمام امور ومعاملات پر نیکی یا بدی کا لیبل لگانے میں اسی تہذیبی شعور کو اپنا حاکم اور رہنما بناتا ہے۔ کبھی اسے اپنی مغرب پرستی کا واقعی شعور بھی ہوتا ہے،جبکہ اکثر صورتِ حال میں وہ بے چارہ خود فریبی کا شکار ہوتا ہے۔ ہمیں مغربی دانشوروں اور مستشرقین سے یہ اتنی شکایت اور گلہ نہیں ہے کہ وہ اسلامی تاریخ اور اسلامی شریعت کا مطالعہ تعصب کی نیلی آنکھ سے کرتے ہیں،مگر نام نہاد مسلمان مفکرین سے یہ شکوہ اور ناراضی ضرور ہے کہ وہ کیوں آنکھوں پر مرعوبیت کی کالی پٹی باندھ کر ملتِ اسلامیہ کے مسائل حل کرنے بیٹھتے ہیں۔
یہاں توضیحِ مدعا کی خاطر کچھ مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔پوری اسلامی تاریخ میں فقہاء وقضات صحابہؓ وتابعینؒ اور تبعِ تابعینؒ نے ارتداد کی سزا پر عمل کیا اور کبھی کسی تہذیب وثقافت کے دبائو میں آکر یہ اسلامی سزا بنیادی اشکالات کے دائرے میں نہیں آئی۔ مگر چودہ صدیاں گزرجانے کے بعد اچانک ہمیں کچھ بتانے والے بتاتے ہیں کہ مرتد کی یہ سزا ہمارے فہمِ اسلام کی غلطی تھی۔ دوسرے لفظوں میں وہ جانیں جو صحابۂ کرامؓ، تابعینِ عظامؒ اور اتباعِ تابعینؒ نے اس سزا کے تحت لی ہیں وہ سب کی سب ایک غلطی کی بنیاد پر اکارت گئیں اور اب تقریباً ڈیڑھ ہزار سال کے بعد چند معاصر مفکرین کی سمجھ میں دین کی تبدیلی پر مرتب ہونے والا صحیح شرعی حکم آسکا ہے۔
ان حضرات نے عقوبتِ مرتد کے مسئلے میں حقیقی شرعی حکم یہ دریافت فرمایا ہے کہ مرتد کو پورا تحفظ حاصل رہے گا اور دینِ اسلام ترک کرنے پر کسی کا بال بھی بیکا نہیں کیا جائے گا۔بخت واتفاق سے ان مفکرین کا یہ انکشاف مغربی تہذیب وثقافت سے یونہی میل کھاگیا اور مغربی لبرل ازم کی عکاسی اس سے محض اتفاقیہ ہورہی ہے۔کیا عقلِ سلیم کا حامل کوئی شخص اس حسنِ اتفاق کو سچ مانے گا؟
پوری اسلامی تاریخ جس میں صحابۂ کرامؓ، تابعینِ عظامؓ اور تبعِ تابعینؓ کے فقہاء وعلماء بھی شامل ہیں اور ان کے بعد متداول ومروّج فقہی مسالک کے ائمہ واساطین بھی شامل ہیں، اس پوری تاریخ میں قرآن وسنت کی نصوص سے ہر زمانے کے فقہاء نے مردوعورت کے تعلقات میں احتیاط اور تحفظ سے کام لیا اور دونوں صنفوں کے بے محابا اختلاط کواور اس میں بھی صنفِ نازک کے بے وجہ میدانِ عمل اور بازاری و تجارتی سرگرمیوں میں کودنے کو ناپسندیدہ اور بہت سی حدود وقیود کا پابند بتایا اور اس موضوع پر سدِ ذرائع کے عنوان سے بہت سارے فقہی احکام کی بناء رکھی گئی۔
مگر آج پھر اچانک کچھ عربی زبان سے نابلد مجتہدین ومجددین ظاہر ہوتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ہمارے فقہی سرمائے میں عورت کے تعلق سے جو احکام ملتے ہیں اصلاً وہی ہمارے زوال وادبار کی اصل وجہ ہیں۔کیا یہ بات عقل میں سماتی ہے کہ چودہ سو سال تک کوئی عاقل وبالغ مسلمان دونوں صنفوں کے سلسلے میں صحیح شرعی احکام نہیں سمجھ سکا،اور آج چند نام نہاد مسلم مفکرین جنہوں نے مناسب دینی تعلیم بھی حاصل نہیں کی ہوئی،وہ اس بارے میں صحیح شرعی احکام دریافت کر پائے ہیں؟ پھر اتفاق یہ ہوا کہ ان حضرات نے عورت کی آزادی کے تعلق سے جو مبالغہ آمیز اور لبرل احکام تلاش کیے ہیں وہ غالب مغربی تہذیب اور کلچر سے پوری طرح میل کھاتے ہیں۔ہے نا یہ تعجب کی بات۔
اسی طرح پوری اسلامی تاریخ میں بلا استثناء تمام فقہائے کرام اور مجاہدینِ اسلام اپنے اپنے قول وعمل سے جہادِ طلب یا اقدامی جہاد کا ثبوت فراہم کراتے آئے ہیں اور اس کے تعلق سے تفصیلی شرعی احکام پر مشتمل موٹی موٹی کتابیں بھی لکھی گئی ہیں۔ تاریخ میں اسلامی فتوحات اور دور دراز گوشوں میں مجاہدین کی جہادی سرگرمیوں کو جہادِ طلب یا اقدامی جہاد کے علاوہ اور کیا عنوان دیا جا سکتا ہے؟ مگر نہیں۔ ہم سب غلط تھے اور عہدِ صحابہؓ سے لے کر آج تک پیدا ہونے والے تمام فقہاء واسلافِ امت غلط تھے۔ اس بارے میں حقیقت کی پردہ کشائی جدید دور کے مسلم مفکرین نے کی ہے اور جہادِ طلب کو بالکلیہ باطل،منسوخ اور غیر اسلامی قرار دے کر روحِ جہاد کی وضاحت کے نام پر جہاد کی روح سلب کرنا چاہی ہے۔اتفاق سے اس بار پھر قرآن وسنت کی نصوص میں ان کا بصیرت آمیز اجتہاد مغربی تہذیب وتمدن کی ترجیحات سے پوری طرح میچ کھاجاتا ہے۔
اسی طرح خیر القرون سے لے کر اِس زمانے تک تمام فقہاء وصلحاء اور اہلِ علم مانتے آئے ہیں کہ اسلام میں ایک فریضہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا بھی ہے جس کے تحت احتسابی کارروائیاں اور انکارِ منکر کا عمل انجام دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں وارد قرآن وسنت کی نصوص کی تفصیلات اور ان کے فروعی شرعی احکام ہر فقہی کتاب میں بالتفصیل مندرج ہیں۔
مگر اس ڈیڑھ ہزار سالہ متفقہ تعامل کے بعد نئے دور میں چند مفکرین ظاہر ہوتے ہیں اور ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ سب کچھ مبنی بر خطا تھا۔ انکارِ منکر یا نہی عن المنکر کے سلسلے میں شخصی برائی اور دوسروں کی حق تلفی میں فرق کیا جائے گا۔وہ شخصی برائی جس کا ضرر انسان کی اپنی ذات تک محدود رہتا ہے اور اس کی وجہ سے دوسروں کے حقوق کا اتلاف لازم نہیں آتا ہے، اس پر کسی کو برا بھلا نہیں کہا جائے گا۔ البتہ وہ برائیاں جن کے نتیجے میں دوسروں کے حقوق ضائع ہوتے ہیں ان کی روک تھام کے لیے انکارِ منکر اور احتسابِ غیر کا ادارہ قائم کیا جائے گا۔
ان حضرات سے پوچھا جائے کہ جناب،آپ نہی عن المنکر کے سلسلے میں یہ نیا ضابطہ کہاں سے بنا لائے ہیں؟ کیا یہ مغربی تہذیب وثقافت کے اِس اصول کی ترجمانی نہیں ہے کہ جہاں دوسروں کی آزادی شروع ہوتی ہے وہاں تمہاری اپنی آزادی ختم ہوجاتی ہے،البتہ دوسروں کو نقصان پہنچائے بنا آپ جتنی چاہے برائیاں کرو؟ اس پر ایسے لوگوں کا جواب ہوتا ہے کہ اللہ کی پناہ، اگر ہم مغرب کی نقالی کریں اور اس کے تہذیبی سامراج کے زیرِ اثر دین میں کتروبیونت کی مذموم حرکت کے مرتکب ہوں۔ ہم نے تو فلاں فلاں مسئلہ قرآن وسنت کی نصوص کے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ مطالعے کے بعد استنباط کیا ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ مرتد کی عقوبت کے بارے میں، عورت سے متعلق احکام کے سلسلے میں، مسلم ریاست کے غیر مسلم شہریوں کے تعلق سے اور انکارِ منکر اور احتسابِ غیر کے بارے میں ہی نیا اجتہاد کیوں؟کیا اب انیسویں صدی میں ان امور ومسائل کے بارے میں کوئی نئی وحی نازل ہوگئی ہے؟کیا کچھ ایسی نبوی احادیث یا قرآنی آیات دریافت کر لی گئی ہیں جن سے صحابہؓ، تابعینؒ،تبعِ تابعینؒ اور بعد کے ادوار کے فقہاء وعلماء لاعلم اور نابلد تھے اور جن کی معرفت صرف آج کے پہنچے ہوئے مسلم مفکرین کو حاصل ہوپائی؟اگر ہاں، تو لائو ہم بھی دیکھیں ان نو دریافت شدہ آیات واحادیث کو؟ اور نہیں، تو پھر یہ نئے اجتہادات کن بنیادوں پر کیے گئے ہیں؟
ہر انسان بہ ادنیٰ تأمل وتفکر یہ حقیقت سمجھ سکتا ہے کہ شریعت ازسرِ نو نازل نہیں ہوئی ہے اور نہ شرعی نصوص اب تک صیغۂ راز تھیں۔تفنن اور تجدد کا بخار جو کچھ بھی ہے وہ اُن عقلوں اور دماغوں میں ہے جن کے اندر مغربی فکر وثقافت سے مرعوبیت کا پانی مر چکا ہے اور نتیجے میں اب یہ دانستہ یا نادانستہ ہر کام میں مغربی تہذیب وثقافت کی موافقت اور ہم نوائی کو مسلم امت کی معراج خیال کرتے ہیں اور اس پورے دورانیہ میں خود کو بھی اطمینان دلانا چاہتے ہیں اور ہمیں بھی، کہ مغربی ذہن ومزاج کے مطابق تراشے جانے والے یہ نئے شرعی وفقہی اجتہادات کسی فکری غلامی کا شاخسانہ نہیں ہیں،بلکہ دینِ ابدی کی نصوصِ محکمہ کے معروضیت سے بھرپور مطالعے کا بے لاگ نتیجہ ہیں جو تجدیدِ دین کے تناظر میں پوری ایمانداری سے کیا گیا ہے۔ ہم نے اجتہاد کا دروازہ پھر سے کھولا ہے اور ہر طرح کے تہذیبی وتمدنی تاثر سے آزاد ہوکر یہ اجتہادات کیے ہیں۔ہمارے اجتہاد کردہ جملہ مسائل وامور اگر صد فی صد مغربی ذوق وذہن کے سازگار اور ہم نوا ہوئے ہیں تو یہ بس ایک اتفاق ہے، جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا گیا۔کیا کسی عقل میں ان کی یہ توجیہ سما سکتی ہے؟
بہرحال ایسے کسی نام نہاد مفکر کے پاس ہم جائیں اور کہیں کہ جناب آپ دینی نصوص کی پیروی کے بجائے شعوری یا لاشعوری طور پر غالب تہذیب وثقافت کا اتباع کر رہے ہیں تو ان کا برملا اور ترشی بھرا جواب ہوتا ہے کہ آپ غلط بات کہتے ہیں۔ یہ ہمارے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا ہے۔ ہم نے آج تک جتنے اجتہادات کیے ہیں ان سب کی سند کے طور پر ہمارے پاس شریعت کی کچھ نہ کچھ دلیل موجود ہے۔ بہ ظاہر ہمارے اجتہادات اور مغربی تہذیب وتمدن کے مطالبات میں جو ہم آہنگی آپ کو دکھائی پڑتی ہے وہ صرف بخت واتفاق ہے، دانستہ اور منصوبہ بند نہیں ہے۔
مگر کیا ان کی یہ توجیہ عام لوگوں کے نزدیک قابلِ قبول ہوتی ہے؟اس کہانی کو سچ جاننے کے لیے انسان کو کس درجے کا احمق بننا ضروری ہوگا؟یہ عام مسلمانوں کو احمق اور کم عقل کہنا نہیں تو اور کیا ہے کہ شریعت کے وہ اصول واحکام جن پر تقریباً پندرہ سو سال گزر چکے ہیں،یک لخت انھیں بدل کر غالب مغربی تہذیب اور کلچر کے موافق بنایا جارہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ یہ سب کچھ قرآن وسنت کے آزادانہ مطالعے اور ان میں گہرے تدبر وتفکر کا نتیجہ ہے۔دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ۔ تم قتل کرو ہو، کہ کرامات کرو ہو۔اب بھلا اس سادگی پے کون نہیں مرجائے گا؟
بہرحال ہم یہ وضاحت قبول نہیں کر سکتے۔ عقلِ عامہ کا فیصلہ یہی ہوگا کہ جس نام نہاد مفکر یا مجتہد کے عملی اجتہادات ونتائج سے مغرب پرستی کا میلان مترشح ہوتا ہے،اس کے بارے میں مانا جائے کہ اس نے اوپریـ جبہ ودستار کے نیچے مغربی کوٹ پتلون اور ٹائی پہن رکھی ہے۔بہ ظاہر کھلے دکھائی پڑنے والے اس کے سر پر انگریزی طرز کا فلیٹ ہیٹ منڈھا ہوا ہے۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی صاحب نصِ شرعی کی تعظیم وتقدیس اور حاکمانہ حیثیت پر ہمارے سامنے لمبی چوڑی تقریر کریں اور بتائیں کہ دین کا حکم اور اللہ کی نازل کردہ شریعت تمام انسانی رایوں، ذوقوں اور ثقافتوں پر بھاری اور ان پر مقدّم ہے،مگرپھر انہی صاحب کا طرزِ عمل یہ دکھائی پڑے کہ ہر شرعی مسئلے میں ان کی گاڑی کا پہیہ مغربی تہذیب وتمدن کے راستے کی طرف گھوم جاتا ہے،کبھی وہ نصِ شرعی کے الفاظ کی تضعیف کرتے ہیں،کبھی اس کے معنی ومفہوم کی تاویل کرنے لگ جاتے ہیں۔ ایسے میں ان کے ان جزئی اجتہادات وفرمودات کو دیکھتے ہوئے ہم یقین بھرے لہجے میں کہیں گے کہ یہ صاحب گمراہ اصولوں یا بدعتی نظریے کے پرچارک ہیں اور وہ یہ ہے کہ فقہِ اسلامی کو مغربیا (ویسٹرنائیزڈ) دیا جائے تاکہ وہ فی الوقت غالب دجالی تہذیب کے موافق اور مطابق بن جائے۔ہم یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوں گے،اگرچہ وہ صاحب اپنی مغرب پرستی کی صراحت نہ کریں،بلکہ چاہے وہ اس کے برعکس مغربی بیزاری کے دعوے ٹھونکتے رہیں۔
خود قرآنِ کریم نے اس رازِدروں کو فاش کیا ہے کہ نصِ شرعی کو حاکم اور فیصل بنانا صرف زبانی دعوئوں اور اعلانوں سے نہیں ہوتا،بلکہ اِس ایقان واعتقاد کا اثر آپ کے عملی رویوں اور فروعی استنباطوں میں بھی ظاہر ہونا چاہیے۔قرآن نے اس اصول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے:{ أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُونَ أَنَّہُمْ آمَنُواْ بِمَا أُنزِلَ إِلَیْْکَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِکَ یُرِیْدُونَ أَن یَتَحَاکَمُواْ إِلَی الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُواْ أَن یَکْفُرُواْ بِہِ وَیُرِیْدُ الشَّیْْطَانُ أَن یُضِلَّہُمْ ضَلاَلاً بَعِیْدا}(نسائ،۶۰)’’اے نبیؐ،تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اُس کتاب پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور ان کتابوں پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں،مگر چاہتے یہ ہیں کہ اپنے معاملات کا فیصلہ کرانے کے لیے طاغوت کی طرف رجوع کریں،حالانکہ انھیں طاغوت سے کفر کا حکم دیا گیا تھا۔ شیطان انھیں بھٹکا کر راہِ راست سے بہت دور لے جانا چاہتا ہے۔‘‘
اس آیتِ کریمہ میں باری تعالیٰ نے منافقین کے اِس طرزِ عمل پر نکیر فرمائی ہے کہ یہ لوگ نصوصِ شرعیہ کی پابندی اور اتباع کا زبان سے اعلان تو کرتے ہیں،مگر جب ان کے مطابق عمل کی باری آتی ہے تو روگردانی کر جاتے ہیں۔
نصِ شرعی کے ساتھ قطع وبرید اور چھیڑ چھاڑ کے اس رویے پر بھی قرآن نے سخت نکیر فرمائی ہے۔ شریعت کے ساتھ ابن الوقتی کا رویہ ( بہ الفاظِ دگر Pragmatic Relation) یہ ہے کہ جب تک کتاب وسنت کی نصوص سے دل پسندخواہشات اور محبوب چیزوں کی تائید اور اجازت ملتی رہے ان سے چمٹا رہا جائے اور جہاں شریعت کا کوئی حکم، یا کوئی شرعی نص ہماری مرضی اور پسند کے خلاف دکھائی پڑے تو فوراً اسے چھوڑ دیا جائے، یا توڑ مروڑ کر اسے اپنی ذاتی پسند اور ناپسند کے سانچے میں ڈھال دیا جائے۔
ارشادِ باری ہے:{وَإِذَا دُعُوا إِلَی اللَّہِ وَرَسُولِہِ لِیَحْکُمَ بَیْْنَہُمْ إِذَا فَرِیْقٌ مِّنْہُم مُّعْرِضُونَ٭وَإِن یَکُن لَّہُمُ الْحَقُّ یَأْتُوا إِلَیْْہِ مُذْعِنِیْنَ ٭أَفِیْ قُلُوبِہِم مَّرَضٌ أَمِ ارْتَابُوا أَمْ یَخَافُونَ أَن یَحِیْفَ اللَّہُ عَلَیْْہِمْ وَرَسُولُہُ بَلْ أُوْلَئِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ} (نور،۴۸-۵۰)’’جب اُن کو بلایا جاتا ہے اللہ اور رسولؐ کی طرف تاکہ رسولؐ ان کے آپس میں مقدمے کا فیصلہ کرے تو ان میں سے ایک فریق کترا جاتا ہے۔ البتہ اگر حق ان کی موافقت میں ہو تو رسولؐ کے پاس بڑے اطاعت کیش بن کر آجاتے ہیں۔کیا ان کے دلوں کو (منافقت کا)روگ لگا ہوا ہے؟یا یہ شک میں پڑے ہوئے ہیں؟یا ان کو یہ خوف ہے کہ اللہ اور اس کا رسولؐ ان پر ظلم کرے گا؟ اصل بات یہ ہے کہ ظالم تو یہ لوگ خود ہیں۔‘‘
اس کے برخلاف سچے اہلِ ایمان کا رویہ یوں ذکر فرمایا ہے:{إِنَّمَا کَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ إِذَا دُعُوا إِلَی اللَّہِ وَرَسُولِہِ لِیَحْکُمَ بَیْْنَہُمْ أَن یَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَأُوْلَئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ}(نور،۵۱)’’ایمان لانے والوں کا کام تو یہ ہے کہ جب وہ اللہ اور رسولؐ کی طرف بلائے جائیں تاکہ رسولؐ ان کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو وہ کہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘
چنانچہ جس معاصر مفکر یا مجتہدِ مطلق یا عقلِ کُل یا امریکہ کی گود میں بیٹھے علامۃ الدہر کے اجتہادات وآراء سے کھلے عام ٹپکتا ہے کہ شریعت کے نصوص واحکام کو غالب مغربی تہذیب کے موافق بنانے کی کوشش کی گئی ہے یا کم از کم اتنی کوشش کی گئی ہے کہ دونوں میں ٹکرائو باقی نہ رہنے پائے،ہم خود کار طریقے سے جان جائیں گے کہ اس کے ذہن میں کچھ مخفی اصول ومحرکات کا ’’لوچا‘‘ ہے جو شرعی نصوص پر غور کرتے ہوئے اس کے طور طریق اورمزاج ومذاق پر اثر انداز ہوتا ہے،چاہے وہ اس کی صراحت نہ کرے،یا چاہے وہ اس کے برخلاف قسمیں کھائے۔
اس مجتہد یا مفکر کی مثال اُسی سرکاری ودرباری مفتی جیسی ہی ہے جس کی زبان سے بیشتر فتوے مطلق العنان بادشاہ کی خواہش کے مطابق صادر ہوتے ہیں۔ ایسے کسی بھی سرکاری ودرباری مفتی کے بارے میں عام لوگ بہ آسانی سمجھ جاتے ہیں کہ افتاء وارشاد کے عمل میں اس کے کچھ درپردہ عزائم واغراض کام کر رہے ہیں،اگرچہ زبان سے یہ کہتے کہتے اس کا گلا خشک ہوجائے کہ میں صرف نصوصِ شرع کو اپنا مقتدا اور رہنما تسلیم کرتاہوں،بلکہ اگر وہ زبان سے حکمرانوں کی کاسہ لیسی،خوشہ چینی اور دست نگری کی مذمت کیوں نہ بیان کرے۔ مگر اس کے عملی فتووں اور فقہی اجتہادوں کا رنگ وآہنگ اس کے مخفی ارادوں کو طشت ازبام کرنے کے لیے کافی وشافی ہے۔ ٹھیک یہی مثال مغرب کے ان فکری خوشہ چینوں اور لے پالکوں کی ہے۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
