You are currently viewing متعلقین و اقارب کے حقوق

متعلقین و اقارب کے حقوق

متعلقین و اقارب کے حقوق

تمام مخلوق عمر کی کشتی پر سوار ہو کر سفرِ دنیا ختم کر رہی ہے اور دنیا ایک مسافر خانہ ہے۔ اس لیے آخرت کے مسافر کا یعنی مسلمانوں کا اپنی سرائے کے ہم جنس مسافروں کے ساتھ نیک برتاؤ کرنا بھی دین کا ایک رکن ہے۔

خاص متعلقین سے برتاؤ میں نسبی (جو نکاح سے ہوں) اور صہری رشتہ دار یعنی بیوی،بچے،باپ،غلام، ہمسایہ،نوکرچاکر تمام متعلقین میں داخل ہیں۔رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں کہ،قیامت کے دن سب سے پہلے جن کا مقدمہ پیش ہوگا وہ ہمسایہ ہوں گے۔لہذا پڑوسی کے حقوق کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے،کیونکہ ہمسایہ کے پلے ہوئے کتے کو اگر ڈھیلا بھی ماروگے تو ہمسایہ کے ایذارسا سمجھے جاؤگے۔ ایک عورت نہایت پارسا تھی مگراس کے پڑوسی اس سے نالاں رہتے تھے رسول اللہﷺ نے اس کو دوزخی فرمایا۔

پڑوسی کے حقوق

ایک مرتبہ حضرت ﷺ نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایاکہ ،جانتے بھی ہوہمسایہ کے کتنے حقوق ہیں؟ اگر ہمسایہ مدد چاہے تو مدد کرو اورقرض مانگے تو قرض دواگرتنگ دست ہو جائے تو سلوک کرو(معاف کر دو)اگر بیمار پڑجائے تو عیادت کرو،انتقال کرجائے توجنازے کے ساتھ جاؤ۔اگر اسے کوئی خوشی حاصل ہو تو مبارک باد دو اور رنج پہنچے تو تسلی دو۔اس کے اجازت کے بغیر اپنا مکان اتنا اونچامت بناؤ کہ اس کو خاطرخواہ ہوا نہ پہنچ سکے۔ اگر کوئی پھل خرید لاؤ تو اس میں سے بقدرمناسب اس کو بھی دواور اگر نہ دے سکو توچپکے سے گھر میں لے آؤ،کیونکہ دیکھ کر اس کو حرص ہوگی تو اس کو رنج ہوگا۔اس طرح اگر ہانڈی چڑھے تو ایک چمچہ پڑوسی کو بھی پہنچاؤ جانتے ہو کہ پڑوسی کا حق کس قدرہے،پس یہ سمجھ لو کہ پڑوسی کے حقوق وہی پورے کر سکتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہو۔

قرابت داری کے حقوق

قرابت داری کے بھی حقوق کا لحاظ رکھو کیونکہ رحم جس کے معنی قرابت کے ہیں،رحمٰن سے مطابقت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص رحم سے  میل رکھےگا میں اس سے میل رکھوں گااور جو اس سے قطع کرے گا میں اس سے قطع تعلق کروں گا۔ صلہ رحمی(رشتہ داری باقی رکھنا) کرنے والے کی عمر میں برکت ہوتی ہے۔ جنت کی خوشبو جو پانچ سو برس کی مسافت سے آتی ہےوہ قاطع رحم(رشتہ داری کو قطع کرنے والا) کو ہرگز نہ آئے گی۔رسول مقبول ﷺ  فرماتےہیں کہ، ماں باپ کی خدمت کرنا (بعض حالتوں میں )نماز،روزہ، حج  و عمرہ اور جہاد فی سبیل اللہ سے بھی افضل ہے ۔اور ماں کا حق باپ کہ بنسبت دو چند ہے۔ حدیث میں حکم ہے کہ جو کچھ دینا ہو ساری اولاد کو مساوی دیا کرو۔

خادم کے حقوق

غلاموں "اور خادموں” کے بارے میں رسول مقبولﷺ کا ارشاد ہے کہ ان کے متعلق اللہ سے ڈرو اور جو کچھ خود کھاؤ ان کو بھی کھلاؤ ، جو کچھ تم پہنو وہی ان کو بھی پہناؤ۔ تحمل سے زیادہ ان سے کام نہ لواور یہ نہ سمجھو کہ صاحبِ قدرت خدا نے ان کو تمہارا غلام بنا دیا ہے،اگر وہ چاہتا تو تم کو ان کا غلام بنا دیتا ۔جب کھانا لاکر تمہارے سامنے رکھے تو چونکہ آگ کی تپش اور دھوئیں کی کلونس اسی نے برداشت کی اور تمہیں  ان تکلیفوں سے بچایا ہے، اس لیے اس کی دلداری کرو اور اس کو شفقت کے ساتھ اپنے پاس بیٹھا کر کھلاؤ یا کم از کم ایک لقمہ اس کے ہاتھ پر رکھ دو۔ اور پیار کے لہجے میں کہو کہ کھا لو ایسا کرنے سے اس کا دل خوش ہو جائے گا اور تمہاری عزت میں فرق نہ آئے گا۔اگر وہ کوئی خطا کر بیٹھے تو در گزر کرو اس کو غرور اور حقارت کی نظر سے مت دیکھو۔

بیوی کے حقوق

بیوی کے حقوق چونکہ غلام سے کئی حصے زیادہ ہیں، لہذا بیوی کی تما ضرورتوں کو پورا کرو  اور حسن معاشرت و خوش کلامی سے برتاؤ کرو، کیونکہ بیویوں کے ساتھ نیک برتاؤ رکھنے والوں کے بڑے درجے ہیں۔ دیکھو! مقتدائے امت جناب رسول اللہ ﷺ ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے ساتھ کیسی خوش طبعی اور دل جوئی ،محبت ونرمی کا برتاؤ کا فرماتے تھے۔ احادیث میں حسنِ معاشرت کی بڑی تاکید آئی ہے۔

دینی دوست بنانے کی فضیلت

انہیں اصولوں میں سے ایک اصل یہ بھی ہے کہ اپنے لیے کچھ دینی دوست تجویز کرلو جن سے محض اللہ ہی کے واسطے محبت ہو۔قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آواز دے گال” کہاں ہیں وہ جو خاص میرے واسطے محبت رکھتے تھے۔ آج جب کہ میرے سایہ کے سوا کہیں سایہ نہیں میں ان کو اپنے سایہ میں لے لوں گا” حدیث  میں آیا  ہے  کہ عرش کے گرد  نور کے ممبر ہیں جن پر ایک جماعت بیٹھے گی، جن کے لباس اور چہرے سر تا پا نور ہوں گے اور وہ لوگ نہ نبی ہیں نہ شہیدمگر انبیاء شہداء ان کی حالت پر رشک کریں گے،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ وہ کون لوگ ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے مخلص بندے جو باہم اللہ کے واسطے محبت کرتے اور اللہ کے واسطے ایک دوسرے کے پاس بیٹھتے اٹھتے اور آتے جاتے ہیں۔یاد رکھو! کہ ایمان کے بعد اللہ کے واسطے محبت کا مرتبہ ہے اس میں دو درجے ہیں:

حب فی اللہ

پہلا درجہ یہ ہے کہ تم کسی شخص سے اس بنا پر محبت کرتے ہو کہ دنیا میں تم کو اس کے ذیعہ سے ایسی چیز حاصل ہے جو آخرت میں مفید ہے، مثلاً شاگرد  کواستاد کے ساتھ علم دین حاصل کرنے کی وجہ سے محبت  ہے اور مرید کو اپنے مرشد سے راہِ طریقت معلوم کرنے کے سبب محبت ہے ، بلکہ استاذ کو اپنے شاگرد کے ساتھ محبت ہوتی ہے وہ بھی اسی بنا پر ہوتی ہے کہ دین کا سلسلہ اس کی وجہ سے مدتوں تک میری طرف منسوب ہو کر جاری رہے گا اور مجھ کو آخرت میں صدقہ جاریہ کا اجر ملےگا۔ اس طرح خادم ا و رمحسن کے ساتھ اسی نیت سے محبت  ہوتی ہے کہ ان کی خدمت اور احسان کی وجہ سے فارغ البالی حاصل ہوتی ہے اور اطمینان کے ساتھ عبادت و طاعت کا وقت نصیب ہوتا ہے۔ پس یہ سب اللہ ہی کے واسطے محبت ہے کیونکہ کوئی دنیاوی غرض اس محبت سے مقصود نہیں ہے۔ مگر پھر بھی چونکہ خاص اللہ کی ذات مطلوب نہیں ہے، اس لیے اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ کسی اللہ کے پیارے اور نیک بندے سے بغیر کسی دینی غرض کے صرف اس وجہ سے محبت ہو کہ یہ شخص اپنے محبوب یعنی اللہ تعالیٰ کا محبوب ہے ،کیونکہ معشوق کےکوچہ کا کتہ بھی دوسرے کتوں سے ممتاز ہوتا ہے۔ پھر بھلا کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ سے محبت ہو اور اس کے محبوب بندوں  سےمحبت نہ ہو ۔ یاد رکھو کہ رفتہ رفتہ یہ تعلق یہاں تک قوی ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کے ساتھ اپنے نفس کا سا برتاؤ ہونے لگتا ہے۔ بلکہ اپنے نفس پر بھی ان کو ترجیح ہوتی ہے۔پس جتنا بھی یہ علاقہ مضبوط ہوگا اسی قدر کمال میں ترقی ہوگی۔

بغض فی اللہ

دوسرا درجہ: ایسا ہی بغض کا  حال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نافرمان بندوں سے عداوت ہونی چاہیے جن کو یہ درجہ نصیب ہوتاہے ان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ اللہ کے نافرمان بندوں کے ساتھ اٹھنا،بیٹھنا اور ان سے بات کرنا تک چھوڑ دیتے ہیں۔ اور ان کی صورت نظر آتی ہے تو آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے دعاء مانگی ہے کہ ” خداوند کسی فاسق شخص کا مجھ پر احسان نہ کرائیوں کہ اس کے احسان کی وجہ سے میرے دل میں ا سکی محبت آجائے”۔

حب فی اللہ اور بغض فی اللہ اسی کا نام ہے اور جس مسلمان کو اپنے مولا سے اتنی محبت نہیں جس کا یہ اثر ہو کہ اللہ کے محبوب بندے اس کے محبوب بن جائیں۔  اللہ کے دشمنوں کو وہ اپنا دشمن سمجھے، تو سمجھنا چاہیے کہ اس شخص کے ایمان میں ضعف ہے۔ اس کو اللہ ہی کے ساتھ محبت نہیں۔

تبلیغِ دین،ص:54،امام غزالیؒ: ترجمہ،عاشق الٰہی میرٹھی۔

جواب دیں