You are currently viewing قصیدے کا فن اور ارتقاء

قصیدے کا فن اور ارتقاء

قصیدے کا فن اور ارتقاء

(دوسری قسط)

از قلم: احمد

ظاہری شکل کے اعتبار سے قصیدے کی تقسیم

ظاہری شکل کے اعتبار سے قصیدے کی دو قسمیں ہیں تمہیدیہ اور خطابیہ۔

تمہیدیہ: وہ قصیدہ ہے جس میں ممدوح کے اوصاف اور اس کے ساز و سامان کی تعریف و توصیف سے قبل بطور تمہید تشبیب اور گریز خاص ترکیبی عناصر کا درجہ رکھتے ہیں۔ یعنی تمہیدیہ قصیدے میں تشبیب اور گریز کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔

خطابیہ: خطابیہ قصیدے  میں تشبیب اور گریز نہیں ہوتے، قصیدہ گو تمہید باندھے بغیر قصیدے کے پہلے شعر سے ہی ممدوح کی تعریف شروع کر دیتاہے مثلاً عالمگیر ثانی کی مدح میں سودا کا یہ قصیدہ دیکھئے جو بغیر کسی تشبیب یا گریز، یوں شروع ہوتا ہے:

ہے اشتہار تجھ سے مرا، اے فلک جناب

رخشندگی ذرہ ہے از فیض آفتاب

یک تخم  ہوں میں خاک نشین زمین شور

نشو و نما دے مجھ کو کرم کا ترے سحاب

ہے یہ جہاں میں وہ در دولت سراکہ یاں

ناکام بخت آں کے ہوتا ہے کام یاب

موضوع کے لحاظ سے بھی قصیدے کی چند قسمیں ہیں۔

مدحیہ: ایسا قصیدہ جس میں کسی کی مدح کی جائے۔

ہجویہ: ایسا قصیدہ جس میں کسی کی ہجو یا برائی کی جائے۔ سودا کا مشہور ہجویہ قصیدہ ’’تضحیک روزگار‘‘ ہجویہ قصیدے کی بہترین مثال ہے۔

وعظیہ: ایسا قصیدہ جس میں پند و نصائح کے مضامین بیان کئے گئے ہوں۔

بیانیہ: ایسا قصیدہ جو مختلف النوع موضوعات پر مشتمل ہو۔

تشبیب کے مضامین کے اعتبار سے بھی قصیدے کو چند ناموں سے موسوم کیا جاتاہے مثلاً:

بہاریہ: اگر قصیدے کے تشبیب میں بیان کردہ مضامین بہار کے متعلق ہوں تو ایسے قصیدے کو بہاریہ قصیدہ کہتے ہیں۔

عشقیہ: تشبیب کے مضامین اگر عشق و عاشقی پر مشتمل ہوں تو ایسے قصیدے کو عشقیہ قصیدہ کہتے ہیں۔

حالیہ: قصیدہ گو اگر تشبیب کے اندر اپنی ذاتی حالت کو بیان کرے تو اسے حالیہ قصیدے کہیں گے۔

فخریہ: تشبیب کے اندر اگر قصیدہ گو اپنی قابلیت اور اپنے کمالات کو فخریہ انداز میں بیان کرے تو ایسے قصیدے کو فخریہ قصیدہ کہیں گے۔

قصیدے کی ابتداء

قصیدے کی ابتداء سرزمیں عرب سے ہوتی ہے۔ عربوں میں شعر و شاعری کا ذوق زمانۂ قدیم سے تھا۔ عرب میں شعر و شاعری کا آغاز کب سے ہوا اس کا ٹھیک ٹھیک پتہ آج تک نہیں لگایا جا سکا۔ عربی ادب کی کتابوں میں امرءالقیس اور مہلہل کو پہلا قصیدہ گو تسلیم کیا گیا ہے۔ اور ان کا زمانہ چھٹی صدی قبل مسیح کے قریب کا ہے۔ لیکن امرءالقیس کے کلام کو دیکھ کر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ قصیدے کی ابتدائی شکل ہو یعنی امرءالقیس کی شاعری اور قصیدہ گوئی اعلیٰ درجہ کی ہے، جبکہ  کسی بھی فن کے ابتدائی کلام ایسے نہیں ہو سکتے۔ اس سے پتہ چلتاہے کہ امرءالقیس سے پہلے بھی عربوں میں اعلیٰ درجہ کی شاعری کرنے والے لوگ موجود رہے ہوں گے۔ عربوں میں امرءالقیس کے بعد نابغہ، زبیر ابن ابی سلمیٰ جیسے بڑے بڑے شاعر پیدا ہوئے۔

قصیدے کا فن ایران میں 

فن قصیدہ نگاری ایران میں عربوں کے توسط سے ہی پہنچا ہے۔ ایران میں جب شعر و شاعری کا آغاز ہوا تو ایرانی شعراء نے اہل عرب کی تقلید میں قصیدے کہنے شروع کئے،چونکہ عرب میں ایسے قصائد بہت مقبول تھے جس میں کسی کی مدح کی گئی ہو لہذا ایرانی شعراء نے مال و متاع اور انعام و اکرام کی توقع میں قصیدہ گوئی کا آغاز کیا اور اسے ترقی دیکر بلندی پر پہنچایا۔ قدیم ایرانی قصیدہ نگاروں میں ابوالفرج، عبدالواسع، میر معری نیشاپوری، رشیدالدین وطواط قابل ذکر ہیں۔ پھر ایران سے یہ فن ہندوستان منتقل ہوا اور رفتہ رفتہ اردو قصیدے کہ داغ بیل پڑنی شروع ہوئی۔

فن ِقصیدہ نگاری ہندوستان میں

ہندوستان میں قصیدہ کا فن دیگر شعری اصناف کی طرح فارسی کے توسط سے آیا ہے اور سب سے پہلے دکن میں اس کے نمونے ملتے ہیں۔ قصیدے کے ابتدائی نقوش دکن میں بہمنی دور سے ملنے شروع ہو جاتے ہیں۔ اس عہد کے قصیدہ نگار مشتاق، لطفی اور شیخ آذری ہیں۔ اس زمانے میں شعر و شاعری کا شوق رکھنے والے لوگ عموماً بزرگان دین اور صوفیائے کرام تھے اسی وجہ سے اس زمانے کے قصیدوں میں زیادہ تر تصوف، حمد، منقبت اور نعت جیسے مضماین ملتے ہیں۔ خواجہ گیسو دراز بندہ نواز اسی زمانے کے صوفی شاعر گزرے ہیں جن کی تصنیف معراج العاشقین ہے۔

دکن میں قصیدہ نگاری

سلطان محمد قلی قطب شاہ:قصیدہ نگاری کا باقاعدہ آغاز قطب شاہی دور میں سلطان محمد قلی قطب شاہ سے ہوتاہے۔ قلی قطب شاہ کو پہلا قصیدہ گو شاعر تسلیم کیا جاتاہے۔ قلی قطب شاہ نے بارہ قصیدے تحریر کئے۔

غواصی: قطب شاہی عہد کا مشہور مثنوی نگار جس نے مثنوی کے ساتھ ساتھ اعلیٰ درجہ کے قصیدے بھی لکھے۔ اس کے قصیدوں کی تعداد ۳۵ کے قریب ہیں جو تمام کہ تمام عبداللہ قطب شاہ کے مدح میں لکھی گئی ہیں۔ اس نے عبداللہ قطب شاہ کے عہد میں ملک الشعراء کا خطاب پایا۔

غواصی کے علاوہ مشتاق، آذری، لطفی، محمد قطب شاہ، قطبی، ابراہیم عادل شاہ ثانی، کمال خان رستمی، عاشق دکھنی، علی عادل شاہ ثانی، نصرتی، ولی اور سراج اورنگ آبادی وغیرہ نے بھی قصیدے کہے۔

شمالی ہند میں قصیدہ نگاری

شمالی ہند میں قصیدے کی ابتداء اٹھارہویں صدی عیسوی میں ہوتی ہے۔ صدرالدین محمد خان فائز دہلوی کو شمالی ہند کا پہلا قصیدہ گو شاعر تسلیم کیا جاتا ہے۔ فائز دہلوی کے بعد میر جعفرزٹلی اور شاکرناجی کا نام آتا ہے جنہوں نے قصیدے کہے ہیں۔ شمالی ہند میں قصیدہ کا باقاعدہ آغاز سودا سے ہوتاہے۔

مرزمحمد رفیع سود: کو شمالی ہند کا پہلا باقاعدہ قصیدہ نگار تسلیم کیا جاتاہے۔ سودا نے قصیدے کو نئی راہ اور نئی سمت عطاکی۔ اس نے اپنے قصیدوں کو فارسی کے طرز پر لکھنا شروع کیا۔ سودا کے قصائد اتنے مقبول ہوئے کے اسے تمام قصیدہ گویوں کا سرتاج گردانا گیا۔ مصحفی نے سودا کو نقاش اول نظم قصیدہ در زبان ِریختہ قرار دیا۔ محمد حسین آزاد سودا کے متعلق لکھتے ہیں’’ سودا قصیدہ گوئی میں فارسی شہسواروں کے ساتھ عناں در عناں ہی نہیں بلکہ اکثر میدانوں میں آگے نکل گئے ہیں‘‘۔ سودا نے تقریباً ۵۴ قصائد لکھے۔ سوداکے قصیدے کے چند مطلعے دیکھئے:

صباح عید ہے اور یہ سخن ہے شہرہ عام

حلال دخترز بے نکاح روزہ حرام

جہر مہوش ہے ایک سنبل فام دو

حسن بتاں کے دور میں صبح ہے ایک شام دو

سوائے خاک نہ کھینچوں میں منت دستار

گر سر گزشت لکھی ہے مری یہ خطِ غبار

میر، انشاء و مصحفی کا زمانہ

سودا کے بعد بہت سے قصیدہ نگاروں نے قصیدہ کہے جن میں میر تقی میر، انشاء اور مصحفی کا شمار ممتاز قصیدہ نگاروں میں ہوتاہے۔ میر تقی میر کے قصیدوں کو وہ مقبولیت نہیں ملی جو ان کی غزلوں کو ملی۔ میر تقی میر نے تقریباً سات قصیدے تحیر کئے۔ اور چونکہ میر کا مزاج قناعت پسندانہ تھا اس لئے امراء کی تعریف سے گریز کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ ان کے قصیدوں کی تعداد کم ہے۔ سودا کے معاصرین قصیدہ گو شعراء میں میر تقی میر، محمد حسین کلیم، میر محمد باقر حزیں، میر ضیاء، قائم چاندپوری اور میر غلام حسین شورش کا شمار ہوتاہے۔

انشاء و مصحفی کی قصیدہ گوئی

انشاء و مصحفی کا زمانہ بھی قصیدہ کیلئے عہد زریں شمار کیا جاتا ہے۔ اردو قصیدہ نگاری میں سودا کے  بعدانشاء کا نام آتا ہے۔ انشاء نے اردو کےساتھ ساتھ فارسی زبان میں  بھی قصیدے کہے۔ ان کے اردو قصیدوں کی تعداد دس ہے جن میں سلاطین و امراء کے شان میں کہے گئے قصیدوں کے علاوہ حمد و منقبت  بھی شامل ہیں۔ انشاء نے پہلی بار اردو قصیدوں میں انگریزی الفاظ کے استعمال کا تجربہ کیا۔ انشاء کے قصیدوں میں عربی، فارسی الفاظ کی کثرت پائی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ انشاء کے بعض قصیدے عام قاری کیلئے ناقابل فہم ہو گئے۔

مصحفی بھی انشاء کا ہم عصر شاعر تھا۔ مصحفی نے بھی فارسی اور اردو دونوں زبانوں میں قصیدے کہے ہیں۔ مصحفی کا علم انشاء کے مقابلے کچھ کم تھا۔ لیکن انشاء کے قصیدے جو انگریزی،فارسی اور عربی الفاظ کے استعمال کی وجہ سے مشکل اور بوجھل معلوم ہوتے ہیں مصحفی کا قصیدہ ان نقائص سے پاک ہے۔ اس معاملے مصحفی انشاء سے آگے نکل گئے۔ مصحفی نے تقریباً ۵۰ قصیدے کہے۔ اسی زمانے میں سعادت یار خان رنگین، نظام الدین ممنون، حضرت علی حسرت، سید حیدر بخش حیدری وغیرہ نے قصیدے کہے۔

شیح محمد ابراہیم ذوق 

سودا کے بعد اردو کا سب سے بڑا قصیدہ نگار شیخ محمد ابراہیم ذوق کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ ذوق نے زیادہ تر قصائد اکبر شاہ ثانی اور بہادر شاہ ظفر کی شان میں کہے ہیں۔ ذوق کو جو شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی ان کے بعد کسی کو نہیں ہوئی۔ ذوق اپنے عہد کے تمام شاعروں پر فن قصیدہ گوئی میں سبقت لے گئے۔ ان کے قصیدوں کی تعداد ۳۰ کے قریب ہے۔ ذوق کے ہم عصر شعراء اور قصیدہ نگاروں میں مومن، غالب، نسیم دہلوی، قلق لکھنوی، کرامت علی شہیدی اور سحر لکھنوئی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

دور جدید کے قصیدہ گو

بعد کے زمانے میں داغ دہلوی جلال لکھنوئی، امیر مینائی، منیر شکوہ آبادی، محسن کاکوری(محسن نے زیادہ تر نعتیہ قصائد لکھے ہیں)الطاف حسین حالی، نظم طباطائی، صفی لکھنوئی، آزاد، شبلی نعمانی وغیرہ نے فن قصیدہ گوئی میں طبع آزمائی کی۔

فن قصیدہ کا تعلق سلاطین و امراء کے دربار سے تھا۔ اسی وجہ سے شخصی حکومتوں کےخاتمے کے بعد قصیدے کیلئے فضا سازگار نہیں رہی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ  دھیرے دھیرے شعراء نے اس کی طرف توجہ کرنی بند کردی۔ آج یہی وجہ ہے کہ کوئی قصیدہ گو ہمیں نظر نہیں آتا۔ آج قصیدے کی جگہ کالم نگاری نے لے لیا ہے، جو کام پہلے قصیدہ گوئی سے لیا جاتا تھا آج وہ کالم نگاری سے لیا جاتا ہے، اسی وجہ سے آپ کو ہر اخبار میں کوئی نہ کوئی کالم نگار ایسا ضرور مل جائے گا جو کسی نہ کسی مدح خوانی کرتاہوا نظر آئے گا۔

نوٹ:۔ یہ مضمون نیٹ جے آر ایف،سیٹ،ٹیٹ وغیرہ امتحان میں پوچھے جانے والے سوالوں کے پیش نظر تیار کیا گیا ہے۔ اس طرح کے مزید مضامیں حاصل کرنے کیلئے لال رنگ کے گھنٹی والے نشان کو دبا کر ہماری ویب سائٹ ’’علم کی دنیا ‘  ilmkidunya.in کو سبسکرائب کر لیں تاکہ ہماری ہر اپڈیٹ آپ تک بذریعہ   Notification پہنچ جائے۔ والسلام

 

جواب دیں