وہ جگر (مراد آبادی) جو جگر تک اتر جائیں!!
مولانا صابر حسین ندوی
دعویٰ کیا تھا ضبط محبت کا اے جگرؔ
ظالم نے بات بات پہ تڑپا دیا مجھے
کیا یہ بات ماننے والی ہے جب کوئی کہے کہ اس کے پاس جگر ہے اور وہ اس نے جگر (6/اپریل 1890ء – 9/سمتبر 1969ء) کو نہیں سنا؟ کوئی کہے کہ وہ عشق کا ستایا ہوا ہے، گرمی عشق کا مارا ہوا ہے، محبت کا درد اور دل کی چبھن کو برداشت کرنے والا ہے اور اس نے جگر کی سوز عشق سے بھری داستان نہیں سنی؟ کوئی سنے وہ رند بنا پھرتا ہے، مدہوش اور ہوش کی دنیا کا ایک آدمی مدہوش ہے اور اس نے جگر کی جگر پاش شاعری نہ دیکھی؟ کوئی ہو کہ جو غم روزگار، غم یار اور غم زمانہ کی شکایت کرتا ہو، رہ رہ کر دنیا کی بے وفائی، لوگوں کی بے دردی، معاشرے کا ستم، اپنی بے بضاعتی اور کم مائیگی کا شاکی ہو اور اس نے جگر کی دنیا نہ دیکھی ہو؟ تو بھلا وہ کیسا عاشق، وہ کیا رند؟ وہ کیسا شاکی اور وہ کیسا صاحب سوز؟ واقعہ یہی ہے کہ شاعری میں صرف صنف کلام نہیں بلکہ سوزشِ عشق کی صدا کھنکھناتی ہے۔جگر چھلنی ہو کر جب الفاظ کے دانے نکلتے ہیں، دل شکستہ ہو کر اور چور چور ہو کر بولیاں زبان سے ادا ہوتی ہیں؛ تو سننے والے کا جگر چاک کر ڈالتی ہیں، وہ متاثر ہو جاتا ہے اور اٹھ کر داد دینے سے نہیں چوکتا، ایک انسان کسی شاعر کی شاعری کیوں پسند کرتا ہے؛ بلکہ کسی کو بھی کیوں چاہتا ہے؟ کسی کو کیوں پڑھتا ہے اور سمجھنے کی کوشش کرتا ہے؟ اس لئے کہ اس کے دل کی آواز اس کے الفاظ میں پنہاں ہوتی ہے، وہ بھی وہی ساز چھیڑتا ہے جو اس کے قلب کے تار چھیڑ دے، کہیں نہ کہیں خانہ جگر میں اس کی تصویر بسائی ہوتی ہے کہ جب اس کے الفاظ، خیالات کانوں تک پہنچتے ہیں تو وہ دل کی گہرائیوں تک اتر جاتے ہیں۔جگر بھی انہیں شاعروں میں سے ایک ہیں، ان کا تخلص بھی اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے، وہ جب کہتے ہیں تو جگر تک اتر جاتے ہیں، انہیں کا تو یہ شعر جس نے ہر دل کی نمائندگی کی اور ہر عشق کے مارے کو سکون بہم پہنچایا:
یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجئے
اک آگ کا دریا ھے اور ڈوب کے جانا ھے
دنیا میں نہ جانے کتنے قصے بنے، داستانیں لکھی گئیں، صرف اس لیے کہ وہ عشق کا دریا عبور کرنا چاہتے تھے، آگ میں کود کر اپنی جان نچھاور کرنا چاہتے ہیں۔کبھی آپ نے سوچا ہے کہ یہ کیا بلا ہے؟ آخر یہ کس کالے جادو کی بات ہے جس میں آکر انسان آگ کے سمندر کو بھی گل گلزار سمجھتا ہے، آتش فشاں کو نور کی بارش جانتا ہے، آسماں سے گرتی بجلی اسے راحت پہنچاتی ہے، سورج کی حرارت اسے تقویت دیتی ہے، ریگستان کی ویرانی اسے بھاتی ہے اور وہ صدا بصحراء بن کر رہ جانا بھی پسند کرتا ہے، یہ دل کی دنیا کی ہریالی و شادابی ہے، یہ خواہ مادی ہو یا روحانی جب بھی وقوع پذیر ہوگی، جہاں کہیں یہ شعلہ اٹھے گا، دریائے آتش پار کیا جائے گا، ہیر رانجھے کی کہانی دہرائی جائے گی، قیس و فرہاد جی اٹھیں گے اور جب یہی روحانیت سے ہو کر نکلے گی تو نمرود کی اتھاہ گہری آتش کدہ سے بھی ابراہیم نکلے گا، فرعون کو ڈبو کر سمندر کی چھاتی چیر کر موسی خشکی تک آئے گا، رومن لا کی ناانصافیوں کو شکست دے کر عیسی ہوبہو آسمان تک اٹھا لیا جائے گا اور متحدہ عرب کے حملے سے محمد (فداہ روحی) کو بچایا جائے گا، مگر یہ عشق نہیں آساں، بَس اتنا سمجھ لیجیے کہ آگ کا دریا ہے پار کرنا ہے، جگر کی یہ بات عین فطرت سے متعلق تھی پھر اس کی شہرت کیوں نہ ہوتی؟ مگر ساتھ ساتھ جگر کو اپنے اسی خانہ خراب کی فکر تھی جس نے انہیں ڈبویا تھا، وہ اصل عشق کے دریا میں تیر رہے تھے، کامیابی کا حقیقی راز تو آنکھیں بند ہونے کے بعد ہی معلوم ہوگا؛ لیکن یہ دنیا میں اس دل اور جگر کی کشمکش میں خوب جئے، انہیں یہ شکایت بھی تھی:
دل کہ تھا جانِ زیست آہ جگرؔ
اسی خانہء خراب نے مارا
مگر اس خانہ خراب کو اور ویران کرنے والی کونسی چیز تھی؟ ان کے دل کی بستی اجاڑنے والی، لہلہاتی اور مچلتی زندگی میں طوفان پیدا کرنے والی کونسی شئی تھی؟ یہی جو جان کہلاتا ہے۔ کبھی عشق کا گھونٹ بن کر گلے سے اترتا ہے، تو کبھی جام ساقی کے ہاتھوں پی پی کر بے خود کئے دیتا ہے، اور سب سے بڑھ کر کوئے یار میں وہ نہ جانے کس راہ اور گلی سے گرز جاتا ہے، جگر واقعی میں صاحب جگر تھے، ان کی شاعری میں جن چیزوں کا شکوہ کیا گیا، وہ اصل میں کسی انسان کی شکایت نہیں ہے؛ بلکہ ہر جوان دل، عشق و محبت کی تپش جھیلنے والا اور محبت کے نغمے سننے اور سنانے والے کی داستان ہے، انسان جب ان دیواروں سے ٹھوکریں کھا کھا کر شکست خوردہ ہوجاتا ہے، دل پر گہری اور شدید گہری چوٹ برداشت کرتا ہوا بے قابو ہوجاتا ہے، جسم کی قوت نڈھال ہوجاتی ہے، اور وہ بے بَس ہوجاتا ہے تبھی کسی میخانہ اور ساغر و مینا کا رخ کرتا ہے، وہ پھر صراحی انڈیل انڈیل کر پیتا ہے، جگر نے بھی اسی راہ کو منتخب کیا، اگرچہ اخیر عمر میں توبہ کی اور خوب توبہ کی؛ مگر وہ اس رہ گزر پر پورے شباب کے ساتھ گزرے، یہ تو جگر جگر کی بات ہے کہ کوئی اس راہ سے گزرنے کے باوجود مدحت سلطان مدینہ لکھ دیتا ہے اور دنیا اسے انگشت بدنداں ہو کر دیکھتی اور داد دیتی رہ جاتی ہے، تو کوئی اسی میں ملوث دار فانی سے کوچ کر جاتا ہے، اور توبہ کی توفیق بھی نہیں ہوتی، جگر کی فوقیت اور برتری اس سے بھی ثابت ہے کہ وہ نیک دل شاعر تھے، دینی حمیت سے بھرے ہوئے اور سلطان مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق سے چور تھے، اگرچہ ان کی زندگی کا ایک حصہ ان اشعار کی رہ نوردی میں گزرا ہے:
سب کو مارا جگرؔ کے شعروں نے
اور جگرؔ کو شراب نے مارا
شکوہء موت کیا کریں کہ جگرؔ
آرزوۓ حیات نے مارا
دونوں ہی جفا جو ہیں جگرؔ عشق ہو یا حسن
اک یار نے لوٹا مجھے ایک یار نے مارا
ظاہر ہے جس شخص نے لطف مے سے لطف خدا کا سفر کیا ہو، جس نے میخانے سے خانہ خدا کا رخ کیا ہو، جس نے بیزاری سے خدا شناسائی کی جانب قدم بڑھایا ہو وہ کیسا لطف پائے گا؟ انسان اگرچہ مادی امیدوں، آرزوؤں اور خواہشات میں زندگی گزارتا ہے؛ لیکن اگر کسی کو وہ روحانیت میسر آجائے تو پھر وہ مادیت سے دور اور کہیں بہت دور جا پڑتا ہے، شاعر مشرق علامہ اقبال نے کہا تھا کہ تیرا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں – – -؛ اسی کے برعکس جس کا دل خدا آشنا ہوجائے اسے پھر دنیا سے کوئی غرض نہیں رہتی، وہ تو حیران کن لطف اور مستی میں زندگی جیتا ہے، جہاں جائے بَس یہی اس کا توشہ اور یہی اس کی سب بڑی دولت ہوتی ہے۔دنیا سے بیگانہ اور ظاہری سے دور ہوتا ہے، جگر نے جب اس کی قربت پالی تو لطف ایسا پایا کہ اسی کے گن گاتے رہے، ایک شعر سنئے!
نہ اب خودی کا پتہ ہے،نہ بیخودی کا جگرؔ
ہر ایک لطف کو لطفِ خدا نے لوٹ لیا
جگر کی شاعری ہر طرح نایاب ہے، سوز وگداز اور دل کے تار چھیڑنے والی ہے، ایک رند بھی اس سے لذت پاتا ہے اور پیر ومرشد بھی اپنا حصہ پالیتے ہیں، ان کی شاعری تشبیہ، کنایات اور استعارہ سے بھی لبریز ہے۔بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شراب کا استعمال جہاں کہیں کیا گیا ہے وہاں آپ مرحوم کی زمانہ جاہلیت کی نمائندگی ہے، ایسا نہیں ہے؛ بلکہ یہ نمائندگی بعد کے ادوار میں بھی پائی جاتی ہے، ان کیلئے مے اور میخانہ استعارہ بن گئے تھے؛ بلکہ یہ تو شعر و شاعری کا سب بڑا استعارہ کہلائے جانے کا حق رکھتے ہیں، جگر جو بھی ہوں، نقد و طنز اور محبت و رأفت، عشق و سوز اور دل لگی و دلبری ہر رنگ میں نمایاں ہیں، پھر عشق نبوی میں صلی اللہ علیہ وسلم میں تو کوئی جواب ہی نہیں ہے، ان کی شاعری پر بہت کچھ لکھا گیا ہے، شائقین ان کی کلیات پڑھ سکتے ہیں اور سوانح حیات کے ساتھ ساتھ متعدد کتابیں بھی پڑھی جاسکتی ہیں، یہاں چند منتخب اشعار پیش کئے جاتے ہیں:
جان ہی دے دی جگرؔ نے آج پاۓ یار پر
عمر بھر کی بے قراری کو قرار آ ہی گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیرے جگرؔ کی تجھ سے التجا یہی ہے
اپنے جگرؔ کو اپنے دل سے جدا نہ کرنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ لٹتے ہم! مگر ان مست انکھڑیوں نے جگرؔ
نظر بچاتے ہوۓ ڈبڈبا کے لوٹ لیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خون جگرؔ کا اک شعر تر کی صورت
اپنا ہی عکس جس میں اپنا ہی رنگ بھرنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مختصر ہے،شرح ہستی،اے جگرؔ
زندگی ہے خواب،اجل تعبیر خواب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اشعار بن کے نکلیں جو سینہ جگر سے
سب حسن یار کی تھیں،بے ساختہ ادائیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہاں پھر یہ ہستی؟کہاں ایسی ہستی
جگرؔ کی جگر تک ہی میخواریاں ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عشق خود اپنی جگہ عین حقیقت ہے جگر
عشق ہی میں کیوں نہ نشان دلبری پیدا کریں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دل ہے اور طوفان حوادث اے جگرؔ
ایک شیشہ ہے کہ ہر پتھر سے ٹکراتا ہوں میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قفس کی یاد میں پھر جی یہ چاہتا ہے جگرؔ
لگا کے آگ نکل جاؤں آشیانے کو
