اخلاق نبوی ( آخری قسط)
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی
قرآن حکیم آپ کے متعلق گواہی دیتاہے:
ولو کنت فظا غلیظ القلب لانفضوا من حولک
اوراگرتم تندخواور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمہارے پاس سے ہٹ جاتے۔(آل عمران/۹۵۱)
اور حضرت مالک بن حویرث آپ کی صفت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:رسول اللہ ﷺ نرم مزاج اور رحم دل تھے۔ (مسلم۱/۷۷۳، ۴۷۶)
اور خود آپﷺ نے اس کی اہمیت ان الفاظ میں بیان کی ہے:جس چیز میں نرمی شامل ہوجائے وہ اسے سنوار دیتی ہے اور جس چیز میں سختی داخل ہوجائے اسے بگاڑدیتی ہے۔(مسلم۴/۳۸۱، ۴۹۵۲)
نیز آپ نے فرمایاکہ اس شخص پر آگ حرام ہے جو نرم اور آسان ہو، لوگوں سے قریب ہو۔(ریاض الصالحین/۸۴۲)
حضرت عائشہؓ سے منقول ہے کہ کچھ یہودی آپ کے پاس سے گذرے اور السلام علیکم کی جگہ السام علیکم (تم پرموت ہو)کہا، رسول اللہ ﷺ نے اس اشتعال انگیزی کے جواب میں بس اتنا کہاعلیکم(بلکہ تم پر)لیکن حضرت عائشہؓ سے برداشت نہ ہوسکا اور اس کے جواب میں کہاکہ بلکہ تم کو موت آئے، اللہ کی پھٹکار پڑے اور اس کی غیظ و غضب کا شکار ہوجاؤ۔
یہ سن کر آپﷺ نے فرمایا عائشہؓ خاموش ہوجاؤ، نری اختیار کرو، شدت و سختی اور بدکلامی سے بچو۔ انھوں نے عرض کیایارسول اللہ!انھوں نے جوکچھ کہاکیا آپ نے اسے نہیں سنا، آپ نے فرمایاکہ میں نے سنا بھی اور جواب بھی دے دیا، میں نے ”علیکم“کہہ کر ان کی بات ان پر لوٹادی۔(بخاری)
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے کہاکہ بیٹے! اگر تم سے ہوسکے تو صبح و شام اس حالت میں کرو کہ تمہارے دل میں کسی کی طرف سے کدورت اور کھوٹ نہ ہو اور میں خود بھی ایسا ہی کرتاہوں۔(الترغیب۳/۵۶۰۱، ترمذی/۳۰۶،۸۷۶۲، باب ماجاءفی الاخذبالسنة)
حسن ظن اور مثبت پہلو پر نظر
ایک آدمی شراب کا عادی تھا، شراب پینے پر اسے باربار سزادی جاتی تھی لیکن وہ باز نہیں آتاتھا، اس کی اس حالت کو دیکھ کر ایک صحابی نے کہاکہ لعنہ اللہ ما اکثر ما یوتی بہ اللہ کی پھٹکارپڑے، کتنی مرتبہ اسے یہاں لایاجاتاہے۔
یہ لعنت کسی نمازی اورپرہیزگاراور عابد و زاہد پر نہیں کی جارہی ہے بلکہ ایک عادی شرابی پر بھیجی جارہی ہے لیکن آنحضورﷺ نے اسے گوارا نہیں کیا اور فرمایا "لا تلعنہ لانہ یحب اللہ ورسولہ” اس پر لعنت مت کرو، کیونکہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتاہے۔
ایک مرتبہ آپ مدینہ کے ایک محلے میں تشریف لے گئے، وہاں کے سب لوگ آپ سے ملنے کے لیے آئے، حاضرین میں سے کسی نے کہاکہ مالک بن دخشن نظرآرہے ہیں، ایک صاحب نے کہاکہ وہ منافق ہوگیاہے، آپ ﷺ نے فرمایاایسانہ کہو وہ لاالہٰ اللہ کہتے ہیں۔ (بخاری کتاب الصلاة باب المساجد فی البیوت)
اور آپﷺ نے فرمایاہے کہ بد گمانی سے بچوکیونکہ وہ سب سے جھوٹی بات ہے ، ٹوہ میں مت رہو اور لوگوں کے عیب معلوم کرنے کے درپے نہ رہو، باہم حسد نہ کرو، پیٹھ پیچھے کسی کی برائی نہ کرو۔ (بخاری ، ریاض الصالحین/۹۸۴)
عفو و درگذر
حضرت جابرؓ وغیرہ سے منقول ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے حسن اخلاق کے بارے میں پوچھا تو آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی؛ خذ العفو وامر بالعرف واعرض عن الجاھلین۔(المغنی مع الاحیائ۳/۴۵)
محمدبن جعفرکہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے نبی کو اچھے اخلاق کا حکم دیا ہے اور حسن اخلاق کے سلسلہ میں قرآن کے اندر اس سے زیادہ جامع کوئی آیت نہیں ہے۔ (مدارج السالکین/۸۵)
اللہ کے رسول ﷺ کی پوری زندگی صبروتحمل اور عفو و درگذر سے عبارت ہے ، آپ نے ہر طرح کے ظلم و ستم کو برداشت کیا اور بدلہ لینے پر قدرت کے باوجود معافی کو اپنا شیوہ بنائے رکھا، دوست و دشمن اور اپنے اور پرائے سب کو آپ معاف کردیاکرتے تھے، آپ نے کبھی اپنے ذاتی معاملہ میں کسی سے بدلہ اور انتقام نہیں لیا۔(صحیح مسلم، ریاض الصالحین/۹۴۲)
حضرت عائشہؓ سے آپکے اخلاق کے بارے میں پوچھاگیا تو انھوں نے کہاکہ کبھی کسی سے بدکلامی نہیں کرتے اور نہ بازارمیں شوروہنگامہ مچاتے اور نہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے بلکہ معاف اور درگذرکردیتے۔(جامع ترمذی/۶۵۴
مکہ کے لوگوں نے آپ کو ہرطرح کی تکلیفیں پہنچائیں لیکن فتح مکہ کے بعد آپ نے عام معافی کااعلان فرمایااور بدلہ لیناتو درکنار کسی سے کسی طرح کی بازپرس اور لعن طعن بھی نہیں کی۔ طائف کے لوگوں نے آپ کے ساتھ جس طرح کی بدسلوکی کی تھی کہ آپ خود فرمایا کرتے تھے کہ میری زندگی میں اس سے زیادہ تکلیف دہ کوئی دوسرا واقعہ نہیں ہے ، یہاں تک کہ احد کا حادثہ بھی اس کے سامنے ہیچ ہے جس میں چہرہ انور زخمی ہوگیاتھااور بہت سے صحابہ کرام کی شہادت کی وجہ سے آپ شدید دل گرفتہ تھے لیکن جب طائف کے لوگوں نے مجبوراً ہتھیار ڈال کر ۹ ھ میں مدینہ کا رخ کیاتو آپ نے ان کے ساتھ نہایت اعزازواکرام کا معاملہ فرمایا۔
ایک یہودیہ نے زہر خورانی کے ذریعہ آپ کو مارنے کی کوشش کی ۔ آپ کو اس کی اطلاع مل گئی لیکن آپ نے اس سے درگذرکامعاملہ فرمایا۔ ایک یہودی جادوکے ذریعہ درپے آزار ہوالیکن آپ نے اس سے کوئی بازپرس نہیں کی۔
حضرت انس ؓکہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کہیں جارہاتھا، آپ ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے جس کا کنارہ موٹا اور کھردراتھا، ایک بدودوڑتے ہوئے آیا اور آپ کی چادر کو اتنے زور سے کھینچاکہ گردن پر اس کے نشانات پڑگئے اور کہنے لگاکہ محمد!اللہ کا جو مال تمہارے پاس ہے اس میں سے مجھے دینے کا حکم کرو، آنحضور اس کی طرف رخ کرکے مسکرانے لگے اور اسے نوازنے کا حکم دیا۔(متفق علیہ، ریاض الصالحین/۰۵۲)
غورکامقام ہے کہ ایک معمولی شخص آپ کے ساتھ بدکلامی کرتاہے ، نہایت غلط طریقہ سے پیش آتاہے لیکن آپ کے چہرے پر کوئی شکن نہیں، ڈانٹ اور پھٹکار اور غصہ کے اظہار کے بجائے، خندہ پیشانی کے ساتھ استقبال اور طیش دلانے والے طرزعمل پر مسکراہٹ ، قربان جاؤں اس اخلاق وکردار پر۔
بدلہ اور انتقام تو بہت دور کی بات ہے ، کسی دشمن کے لیے بددعا کرنا بھی آپ کو گوارا نہ تھا، ایک مرتبہ بعض صحابہ کرام نے مشرکین کے لیے بددعا کی درخواست کی تو آپ نے فرمایا کہ میں رحمت بناکر بھیجاگیا ہوں، لعنت کرنے کے لیے نہیں۔(صحیح مسلم، المغنی/۴۹۳)
تواضع اور سادگی
آپ ﷺ مقام نبوت و رسالت پر فائز ہیں، پورا جزیرة العرب آ پ کے قدموں میں ہے لیکن آپ کی سادگی اور تواضع کا یہ حال تھا کہ کپڑوں میں پیوند لگاتے، گھرمیں خودہی جھاڑو لگالیتے ، بازار سے سوداسلف لاتے، جوتی پھٹ جاتی تو اسے خود ہی سی لیتے، اکڑوں بیٹھ کر کھانا کھاتے اور فرماتے کہ جس طرح غلام کھانا کھاتاہے میں بھی اسی طرح کھاتاہوں اور بیٹھتاہوں، لوگ آپ کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوتے تو منع کردیتے۔
اگرکوئی نوکرانی بھی سرراہ اپنے کام کے لیے آپ کو روکتی تو رک جاتے، بچے ملتے تو انھیں پہلے خودسلام کرتے، صحابہ کرام کے ساتھ اس طرح سے گھلے ملے رہتے کہ نووارد کو آپ کو پہچاننے میں دشواری ہوتی۔(دیکھئے احیاءالعلوم ۲/۲۱۴)
بستربچھاہوا ملا تو بھی ٹھیک ہے اور بسترنہیں ہے تو زمین پر لیٹنے میں بھی کوئی عار نہیں ہے۔(حوالہ مذکور ۲/۵۹۳)، کھانے پینے، پہننے اوڑھنے میں تکلف کو پسند نہیں فرماتے تھے، بلکہ جوملاکھالیا اور جو میسر ہوا اسے پہن لیا۔
تواضع ہی کا ایک پہلو یہ تھاکہ آپ اپنے لیے جائز تعظیمی الفاظ بھی پسند نہیں کرتے تھے ایک مرتبہ ایک صاحب نے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ ہم میں سب سے بہتر ہیں اور سب سے اچھے شخص کے فرزند ہیں، آپ نے فرمایاکہ لوگو!پرہیزگاری اختیار کرو، کہیں ایسانہ ہوکہ شیطان تمہیں پھسلادے، میں عبداللہ کا بیٹا اور اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، اللہ نے مجھے جو مرتبہ بخشاہے مجھے پسند نہیں ہے کہ تم مجھے اس سے زیادہ بڑھاو۔(مسنداحمد۳/۳۵۱)
ایک مرتبہ آپ نماز کے لیے کھڑے ہوچکے تھے کہ ایک بدو آیا اور آپ کا دامن جھٹک کر بولا کہ میرا ایک کام رہ گیا ہے ، کہیں ایسانہ ہو کہ میں اسے بھول جاوں،پہلے اسے کرکے پھر نماز پڑھو۔آپ فوراً اس کے ساتھ مسجد سے نکل کر آگئے اور اس کا کام پورا کردیا (ابوداود،کتاب الادب)
اورحضرت عبداللہ بن ابی اوفی کہتے ہیں کہ بیوہ اور مسکین کے ساتھ جاکر ان کا کام کردینے میں آپ کو کوئی عار نہ تھا۔(سنن دارمی)
ایثار و قربانی
ایثار و قربانی بھی آنحضورﷺ کی ایک نمایاں خصوصیت ہے کہ خود بھوکے رہتے لیکن دوسروں کو آسودہ رکھنے کی کوشش کردیتے،خودتکلیف اٹھاتے اور دوسروں کو راحت پہنچاتے، ایک مرتبہ ایک صحابی نے شادی کی ، ولیمہ کے لیے گھرمیںکچھ نہ تھا ، اللہ کے رسول کو معلوم ہوا فرمایاکہ جاو عائشہؓ سے آٹامانگ لاو، وہ گئے اور آٹالے آئے۔ راوی کابیان ہے کہ کاشانہ نبوت میں اس دن اس آٹے کے علاوہ شام کے کھانے کے لئے کچھ بھی نہ تھا۔(مسنداحمد۴/۵۵۶،۱۴۱۶۱)
ایک بار حضرت علیؓ نے درخواست کی کہ حضرت فاطمہ کے ہاتھ میں چکی پیسنے کی وجہ سے چھالے پڑگئے ہیں اور باہر سے پانی لانےکی وجہ سے کندھے پر گھٹے ہوگئے ہیں،مال غنیمت میں کچھ باندیاں ہاتھ آئیں ہیں اگران میں سے دوایک مل جائیں تونوازش ہوگی۔ آپ نے فرمایاکہ اللہ کی قسم میں تمہیں نہیں دے سکتا، میں تمہیں کیسے دوں، حالانکہ صفہ کے لوگ بھوکے بیٹھے ہیں، میرے پاس ان پر خرچ کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے، میں ان غلام اور باندیوں کو فروخت کرکے ان کے خرچ کا بندوبست کروں گا۔ (مسنداحمد۱/۱۷۱،۰۴۸)
آپ نے انعام کے موقع پر خود اور اپنے گھروالوں کوہمیشہ دوررکھا، یہاں تک کہ ان کے لیے صدقہ و خیرات کوحرام قرار دےا،لیکن جب جان دینے اور قربانی کی بات آئی تو خود آگے بڑھتے اور اپنے گھراور خاندان والوں کو آگے بڑھاتے۔
سخاوت و فیاضی
حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں آپ کی فیاضی اور بڑھ جا تی تھی (متفق علیہ)۔ اور حضرت علیؓ کا بیان ہے کہ آپ کا ہاتھ سب سے زیادہ فیاض، آپ کا سینہ سب سے زیادہ کشادہ تھا، زبان کے اعتبار سے سب سے زیادہ سچے اور عہد کے سب سے زیادہ پابندتھے۔(ترمذی، المغنی ۲/۰۱۴)
آپ نے کبھی کسی سائل کو خالی ہاتھ واپس نہیں کیا۔ (متفق علیہ، المغنی۲/۰۱۴) ایک مرتبہ کسی نے آپ سے درخواست کی۔ آپ نے فرمایاکہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے، البتہ میرے نام سے خریدکراپنی ضرورت پوری کرلو، جب ہمارے پاس کہیں سے آجائے گا تو اسے ادا کر دوں گا، حضرت عمرؓ نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا مکلف نہیں بنایاہے جوآپ کے بس میںنہ ہو، ان کی بات آپ کو پسندنہیں آئی،ایک دوسرے صحابی نے عرض کیاکہ یارسول اللہ!خرچ کیجئے اور عرش والے سے تنگ دستی کا اندیشہ نہ کیجئے، یہ سن کر آپ مسکرانے لگے اور آپ کاچہرہ کھل اٹھا۔ (ترمذی فی الشمائل ، المغنی /۱۱۴)
حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایاکہ ابوذر!اگرمیرے لئے ”احد“پہاڑ سونا بن جائے تومیں کبھی یہ گوارانہیں کروںگاکہ تین دن تک میرے گھرمیں ایک دینار بھی بچ جائے۔ (بخاری کتاب الاستقراض باب اداءالدیون)
غزوہ حنین سے واپسی کے موقع پربدؤوں کی بھیڑلگ گئی،جوآپ سے مال غنیمت مانگ رہے تھے، آپ نے ان کی بھیڑسے الگ ہوکرایک درخت کے سائے میں جانے کی کوشش کی، انھوں نے آپ کی چادر پکڑلی،آپ نے فرمایاکہ میری چادر واپس کردو، اللہ کی قسم اگران جنگلی درختوں کے بقدر بھی میرے پاس اونٹ ہوتے تو میں سب تمہیں دے دیتااور تم مجھے بخیل ، جھوٹا اور بزدل نہ پاتے۔(بخاری، باب الشجاعة فی الحرب)
شجاعت
حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول سے زیادہ کسی کونڈر، سخی، بہادر، روشن اور صاف ستھرانہیں دیکھا۔(سنن دارمی۱/۴۴،۹۵)
