نکاح سادگی سے کریں
(مولانا صابر حسین ندوی)
یہ مسلم حقیقت ہے کہ نکاح انسان کی فطری، طبعی ضرورت ہے، اور فطرت کو سہل ترین بنانا و آسانی فراہم کرنا انسانیت کا تقاضہ اور شرع اسلامی کا مقصود بھی ہے۔ اسی لئے نکاح میں کوئی بھی ایسی پیچیدگی نہیں رکھی گئی جس کا شکوہ کیا جائے، لڑکا ہو یا لڑکی دونوں کی رضامندی، دو گواہ، متوسط مہر اور عام دعوت ولیمہ کے علاوہ ایسا کچھ بھی نہیں جو قابل ذکر ہو، ظاہر ہے فطرت کے تقاضوں کو اگر شدت کا سامنا کرنا پڑے، مشاکل، مصائب اور تھکان کے روڑے اٹکائے جائیں تو پھر یہ بہتا پانی اپنا راستہ بدل لے گا، ممکن ہے کہ اس بہاؤ پر بے جا بند لگانے کی وجہ سے ایسی شدت پیدا ہوجائے جو خس و خاشاک کو اکھاڑ لے جائے، اپنے راستے میں آنے والی ہر معمولی یا غیر معمولی شئی کو مٹا جائے۔ دنیا میں اب تک ایسی کوئی طاقت پیدا نہیں ہوئی جو فطرت کے تقاضے کو روک سکے، یا اس پر بندش لگا سکے؛ اگر ایسا کیا گیا ہے تو اس کا خمیازہ معاشرے نے یوں بھگتا ہے جو ناقابل بیان ہے۔
آج یورپ اس دہلیز پر کھڑا ہے کہ اس کا معاشرتی نظام نیست و نابود ہوچکا ہے، گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کا رواج ایسے عام ہو چلا ہے کہ اب کوئی اپنا گھر بسانا نہیں چاہتا، سماجی زندگی کے تانے بانے ایسے بکھرتے جارہے ہیں؛ کہ انسانوں کا مجموعہ لگاتار جنگل اور صحرا میں تبدل ہوتا ہوا نظر آتا ہے، اس وقت مغرب میں اکثریت ایسے بچوں اور نسلوں کی ہے جنہیں اپنے والدین کا صحیح نام نہیں معلوم، وہ نہیں جانتے کہ ان کی رگوں میں کس نسب، خاندان اور سماج کا خون ہے، وہ بَس ایک اندھیر زندگی جینا چاہتے ہیں جس میں عیش و عشرت کی باتیں ہو، اقدار، أخلاق اور سماجی بندشیں نہ ہوں، اب ان کے احساسات، جذبات اور فطری محبت و انسیت کے کوئی معانی نہیں رہ گیے ہیں، افسوس کی بات ہے کہ یہ بیماری مغرب سے مشرق میں بھی پھیل چکی ہے، بالخصوص ہندوستان اور اس کے قرب و جوار میں ایسی رسمیں پائی جاتی ہیں جو نوجوانوں کو مغرب کی تقلید کرنے پر ابھارتی ہیں، ایک طرف مغرب کی ترقی اور ٹکنالوجی کا سامان ہے جن کی پاداش میں نوجوان نسل خود بخود ان کی طرف راغب ہوجاتی ہے، اس گلی کی ڈائین بھی انہیں حسین تر معلوم ہوتی ہے، ان کی اجڑی اور برباد ثقافت بھی انہیں حسن کی دیوی لگتی ہے، تو دوسری طرف خود ہمارے سماجی رسوم ایسے ہیں کہ ایک نوجوان بجائے عزت و فطرت کی زندگی کو ترجیح دینے اور اعلی و شریفانہ زندگی جینے کے وہ اس بات کو ترجیح دیتا ہے کہ بے عزتی اور غیر فطری زندگی اپنا لے، شرم و حیا کے چوغے اتار کر ایک عام جانور اور انسانیت سے سرکش ہو کر رہا جائے، سماج و خاندان سے لاتعلق ہو کر تنہائی اورگوشہ نشینی اختیار کر لی جائے، اپنے پرایوں کی بے تکی اور بے سر و پا کی باتوں کو دیوار سے مار کر خود الگ تھلگ کر لے۔
یہ سرکشی اور بغاوت اس قدر عام ہوچکی ہے کہ کوئی گھر اس سے محفوظ نہیں، وہ مسلمان جو اپنے دینی اقدار اور خاندانی نظام کیلئے جانے جاتے ہیں ان کے آشیانے بھی اس زد میں ہیں؛ کہ کبھی بھی ان کے نشیمن خاک ہوجائیں، اس میں بھی مسلمانوں کی بے اعتدالی، تعلیمی و تحقیقی میدان میں اپنے آپ کو حاشیہ پر رکھنا، اور سب سے بڑھ کر ہندوانہ رسم و رواج میں خود کو ضم کردینے کا جرم عظیم شامل ہے، یہ بھی اپنی بچیوں کو دَان کرنے لگے ہیں، جہیز اور تلک جیسے رسوم میں پڑ کر سماج کو برباد کرنے لگے ہیں، آج زنا عام ہے، مگر کوئی شخص نکاح کرنا چاہے تو اس کیلئے مشکل ہی مشکل ہے، حد تو یہ ہے کہ کوئی سادہ اور شرعی نکاح کرنے کی تمنا کرے تو یہ گویا ہفت اقلیم سر کرنے کے مثل ہے، اب سماج کا دماغی خلل اس معیار کو پہنچ چکا ہے کہ اگر کوئی جہیز وتلک اور عام رسوم کے بجائے سادگی کے ساتھ گھر بسا رہا ہو تو اسے مجبور سمجھا جاتا ہے، لڑکے میں کمی اور عیب تلاش کیا جاتا ہے، خود اس کے گھر اور دوست و احباب طعنہ دیتے ہیں، ہر کوئی تیکھی آنکھوں سے دیکھتا ہے، گویا اس نے کوئی جرم عظیم کردیا ہے، اس کے بالمقابل جو پیسوں کی ریل پیل کردے، رسوم اور رواجوں کی جھڑیاں لگا دے، خوب تماشے کروائیے اور دعوتیں اڑانے کا موقع دے تو اس کی شادی کے چرچے ہوتے ہیں، اس کی تعریف و توصیف کی جاتی ہے، بلاشبہ اس سلسلہ میں دینی و غیر دینی گھرانوں اور افراد کا کوئی خاص امتیاز باقی نہیں ہے، اگر شاذ و نادر گھرانوں کو چھوڑ دیا جائے تو عموماً یہی حال ہے؛ بلکہ سروے تو یہ بتلاتے ہیں کہ شادی کو مشکل ترین بنانے والے یہی تکلفات جنہیں ناموروں نے ایجاد کیا ہے؛ جس کی پاداش میں دینی تعلیم یافتہ بزرگوں کی فہرست آجاتی ہے، جو اگرچہ تہجد گزار اور صوم و صلاۃ کے پابند ہیں مگر جب شادی بیاہ کی بات آئے تو دبے الفاظ میں وہی سب کچھ کرتے ہیں جو کسی ڈھیٹ دنیادار کے گھر میں ہوتا ہے، واقعی اس دور میں فطرت پر ایسی بندشیں لگادی گئی ہیں کہ عقل حیران ہوجائے، حالانکہ ان کے نتائج ارتداد، سماجی تناؤ اور گھریلو تشدد کی صورت میں موجود ہیں، مگر کسے پرواہ ہے؟ واقعی سادہ نکاح کرنا اولوالعزم افراد کی بات ہے، یہ ایک اڑان ہے جو ہر کسی کے بَس کی بات نہیں، فضاؤں کو سر کرنا اور دنیا کے جھمیلوں اور جھوٹے نگوں کی ریزہ کاریوں سے منہ موڑ کر حقیقت کی طرف کوچ کرنا ہے جو کوئی عام بات نہیں، اس کیلئے ہمیشہ اصحاب عزیمت ہی اٹھے ہیں اور آج بھی انہیں کے بَس کی بات ہے کہ اس راہ پر گامزن ہوں، وقت اور رواج کے بتوں پر کلہاڑا چلاتے ہوئے ایک خدا کی مرضی اور فطرت کے تقاضوں کو پورا کرنا بھلا کسی عام شخص، کم حوصلہ، لالچی، حریص اور ہمت و بلندی سے عاری کے اوقات کی بات ہوسکتی ہے؟!!
