You are currently viewing قطب مشتری

قطب مشتری

قطب مشتری

گولکنڈہ کی پہلی طبع زاد مثنوی

تحریر: احمد

جنوبی ہند(گولکنڈہ) کی مشہور اور پہلی طبع زاد مثنوی ’’ قطب مشتری‘‘ جسے ملّا اسد اللہ وجہی نے محمد قلی قطب شاہ کی فرمائش پر ۱۰۱۸ھ مطابق ۱۶۰۹ء میں لکھی تھی۔ اس مثنوی میں سلطان محمد قلی قطب شاہ اور مشتری کی عشق کی داستان کو بیان کیا گیا ہے۔ اس مثنوی کو سب سے پہلے مولوی عبدالحق نے مرتب کیا۔

مولوی عبد الحق اس مثنوی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’ اگرچہ وجہی نے بہت کچھ دعوی کیا ہے اور تعلّی کی ہے،لیکن یہ مثنوی کوئی اعلیٰ پایہ کی نہیں ہے۔ ہاں اس اعتبار سے کہ قدیم ہے اور اس زمانے کا ایسا مرتب کلام کم ملتا ہے، قابل قدرہے‘‘۔ لیکن مولوی عبد الحق کو وجہی کی اس مثنوی کی خوبیوں کا اعتراف بھی ہے۔ چنانچہ دوسری جگہ لکھتے ہیں ’’ وجہی کا کلام بہت سلیس، صاف اور ستھرا ہے، البتہ زبان قدیم ہے اور محاوروں کی وجہ سے ہمیں مشکل معلوم ہوتی ہے۔ بعض بعض مقامات پر اس نے بعض خیالات کو بڑی خوبی سے بیان کیا ہے‘‘۔(قطب مشتری،مرتبہ مولوی عبد الحق)

خلاصۂ قطب مشتری

ابراہیم قطب شاہ کی کوئی نرینہ اولاد نہیں رہتی ہے۔ بہت دعاؤ ں اور منّتوں کے بعد ایک بہت ہی خوبصورت لڑکا پیدا ہوتا ہے۔ شاہی گھرانا خوشیوں سے جھوم اٹھتا ہے۔ جب یہ لڑکا (محمد قلی قطب شاہ) جوان ہوتا ہے تو ایک دن خواب میں ایک خوبصورت،مانند حور، پری رو کو دیکھتا ہے اور اپنے عقل و حواس گنوا بیٹھتا ہے۔ جب نیند سے بیدار ہوتا ہے تو اسی پری کے خوابوں میں گم رہتا ہے۔ کھانا پینا سب کچھ چھوڑ دیتا ہے۔ صرف روتا رہتا ہے۔

بادشاہ کو جب اس واقعہ کی اطلاع ہوتی ہے تو بڑا پریشان ہوتا ہے۔ شہزادے کو خوش کرنے اور دل بہلانے کیلئے ہندوستان اور بیرون ملک کی دوشیزاؤں کو اکٹھا کرواتا ہے اور ان سے کہتا ہے کہ جو شہزادے کو خوش کرےگی وہ منہ مانگی قیمت پائے گی۔ لیکن شہزادے پر کسی کا جادو نہیں چلتا۔ بادشاہ کے بہت اصرار پر شہزادہ خواب کا واقعہ بیان کرتا ہے۔ احوال ِخواب سن کر بادشاہ شہزادے کو لیکر فکرمند ہوجاتا ہے۔ اور مسئلہ کا حل ڈھونڈنے کیلئے عطارد(اپنے زمانے کا مشہور مصوّر، سیّاح اور عورتوں کی تصویریں جمع کرنے کا شوقین) کو بلواتا ہے۔

بادشاہ صورت حال عطارد کو بتاتا ہے۔ ساری باتیں سننے کے بعد عطارد کہتا ہے اس وقت دنیا کی سب سے حسین اور خوبصورت دوشیزہ بنگالے کی شہزادی مشتری ہے۔ ا سکی ایک بہن بھی ہے جو خوش الحانی میں مثل حضرت داؤد ہے، پھر وہ مشتری کی ایک تصویر جو اس کے پاس رہتی ہے بادشاہ کو دکھاتا ہے۔ بادشاہ شہزادے کو تصویر دکھاتا ہے، شہزادہ تصویر دیکھ کر پہچان لیتا ہے کہ یہ وہی خوابوں کی شہزادی ہے۔

شہزادہ اور عطارد دونوں سفر پر روانہ ہوتے ہیں۔ راستے میں ان کا سامنا کہیں بڑے بڑے اژدہوں سے ہوتا ہے تو کہیں ان کی ملاقات بزرگ عالم و عابد سے۔ درمیان سفر ایک ایسے مقام سے ان کا گزر ہوتا ہے جہاں ایک راکشش رہتا ہے۔ شہزادہ اس کے قلعے کی طرف جیسے ہی قدم بڑھا تا ہے اسے ایک آدم زاد ملتا ہے۔جو شہزادے کو بتاتا ہے کہ یہ قلعہ ایک راکشش کا ہے جو آدم زاد سے سخت نفرت کرتا ہے اور ان کو پکڑ کر قید کر دیتاہے، میں بھی اسی کی قید کی وجہ سے یہاں ہوں۔ آدم زاد اپنا تعارف کرواتا ہے کہ میں حلب کے بادشاہ سرطان خان کے وزیر اَعظم  اسد خان کا بیٹا مریخ خان ہوں۔ خواب میں ایک پری رو کو دیکھ ایسا دیوانہ ہوا کہ اس کی تلاش و جستجو میں نکل پڑا۔ اس پری رو دلربا کا نام زُہرہ ہے جو بنگالے کی شہزادی ہے، میرے ساتھیوں نے میرا ساتھ چھوڑ دیا اب صرف میں ہی تنہا بچا ہوں۔

تمام باتین سن کر شہزادہ محمد قلی قطب شاہ اپنے اور اپنے مقصد  ِسفرسے مریخ خان(آدم زاد) کو متعارف کراتا ہے اور کہتا ہے کہ ہمارے مقاصد اور ہماری منزلیں  دونوں ایک ہے اس لئے ہم دونوں دوست ہیں۔ ابھی ان کی بات ہوہی رہی تھی کہ اچانک راکشش آتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ شہزادہ آیۃ الکرسی کے مدد سے راکشش کو ہلاک کر دیتاہے۔

شہزادہ قطب شاہ، عطارد اور مریخ خان تینوں اپنے مقصد کی تکمیل کیلئے وہاں سے نکل پڑتے ہیں۔ قلعہ گلستاں(جو پریوں کاعلاقہ رہتا ہے) میں قیام کرتے ہیں۔ یہاں شہزادہ کی ملاقات مہتاب پری سے ہوتی ہے، وہ شہزادے پر عاشق ہو جاتی ہے۔ دونوں ملتے ہیں آپس میں گفت و شنید ہوتی ہے۔ دوران گفتگو شہزادہ راکشش کے قتل کا واقعہ بتاتا ہے۔ یہ جان کر مہتاب پری بہت خوش ہوتی ہے اور کہتی ہے کہ آج سے میں بھی آزاد ہوگئی۔

دوسری طرف عطارد شہزادے سے بنگال جانے کی اجازت چاہتاہے اور یہ کہتے ہوئے رخصت ہوتا ہے کہ وہ بہت جلد شہزادے کو وہاں بلوا لے گا۔ عطارد بنگال پہنچ کر شہزادی کے محل کے قریب ہی مصوّری شروع کر دیتا ہے۔ بہت جلد اس کی شہرت پورے ملک میں پھیل جاتی ہے۔ مشتری کو جب اس کے بارے میں پتہ چلتا ہے تو اسے بلوا کر محل کو آراستہ کرنے کا حکم دیتی ہے۔ عطارد دن رات محنت کر کے محل کو آراستہ کرتا ہے۔ دیواروں کو خوبصورت رنگوں سے مزیّن کرتا ہے۔ انہیں نقش و نگار کے درمیان عطارد شہزادے کی تصویر بنا دیتا ہے۔ مشتری جب دیکھتی ہے تو حیران ہو جاتی ہے اور عطارد سے تصویر کے متعلق سوال کرتی ہے کہ یہ کس کی تصویر ہے؟ عطارد شہزادی کو بتاتا ہے کہ یہ قطب شاہ کی تصویر ہے جو دکن کا شہزادہ ہے۔ مشتری قطب سے ملنے کی خواہش ظاہر کرتی ہے۔ عطارد مشتری کو بتلاتا ہے کہ قطب شاہ ابھی مہتاب نام کی ایک پری کے پاس ہے جو اس پر فریفتہ ہو گئی ہے۔ یہ سن کر مشتری پریشان ہو جاتی ہے۔ عطارد شہزادی(مشتری) کو اطمینان دلاتا ہے کہ وہ بہت جلد ہی شہزادے کو بلوا لےگا، اور فوراً شہزادے کو بلوانے کیلئے قاصد روانہ کر دیتا ہے۔

خبر پاتے ہیں شہزادہ مہتاب پری سے اجازت لیکر بنگالہ کا رخ کرتا ہے۔ مہتاب پری قطب شاہ کو بطور نشانی ’’ترنگ بادپا‘‘ گھوڑا دیتی ہے۔ شہزادہ بنگال پہنچ کر مشتری سے ملتا ہے۔ دونوں کی دلی مرادیں پوری ہوتی ہیں۔ عیش و عشرت کی محفل گرم ہوتی ہے۔ شہزادہ مشتری سے مریخ خان کا تذکرہ کرتا ہے۔ یہ طے پاتا ہے کہ مریخ خان کی شادی زہرہ (مشتری کی بہن) سے کرکے بنگالے کی حکومت اس کے سپرد کر دی جائے۔ قطب شاہ مشتری کو لیکر دکن روانہ ہوتا ہے۔

دکن پہنچ کر دونوں کی شادی بڑے دھوم دھام سے کر دی جاتی ہے۔ گولکنڈہ کی حکومت ابراہیم قطب شاہ اپنے بیٹے قلی قطب شاہ کے حوالے کر دیتاہے۔اس مثنوی کے کرداروں کے زیادہ تر نام سیاروں کے نام پر ہیں مثلاً: قطب، مشتری، زہرہ، مریخ وغیرہ۔ اس مثنوی کا سب سے جاندار کردار عطارد کا ہے۔

            قطب مشتری کے اہم کردار

قلی قطب شاہ: ابراہیم قطب شاہ کا بیٹا، مشتری کا عاشق اور اس مثنوی کا ہیرو۔

ابراہیم قطب شاہ: گولکنڈہ کا بادشاہ اور قلی قطب شاہ کا باپ۔

مشتری:  بنگالے کی شہزادی، قلی قطب شاہ کی معشوقہ اور اس مثنوی کی ہروئن۔

زہرہ: مشتری کی بہن جس کی شادی مرّیخ  خان سے ہوتی ہے۔

عطارد: اپنے زمانے کا مشہور مصوّر اور سیاح۔(اس مثنوی کا سب سے جاندار کردار)

مریخ خان: اسد خان کا بیٹا،زہرہ کا عاشق۔

اسد خان: حلب کے بادشاہ کا  وزیر اَعظم۔

شاہ سرطان: حلب کا بادشاہ۔

مہتاب پری: جو قطب شاہ پر فریفتہ ہوجاتی ہے، اس سے قطب شاہ کی ملاقات قلعۂ  گلستاں میں ہوتی ہے۔

قلعۂ گلستاں: پریوں کا علاقہ، جہاں مہتاب پری رہتی ہے۔

راکشش: قطب شاہ جسے ہلاک کر دیتا ہے۔

سلکھن پری: مہتاب پری کی کنیز۔

نوٹ:۔ یہ مضمون نیٹ جے آر ایف،سیٹ،ٹیٹ وغیرہ امتحان میں پوچھے جانے والے سوالوں کے پیش نظر تیار کیا گیا ہے۔ اس طرح کے مزید مضامیں حاصل کرنے کیلئے لال رنگ کے گھنٹی والے نشان کو دبا کر ہماری ویب سائٹ ’’علم کی دنیا ‘‘ کو سبسکرائب کر لیں۔ والسلام

جواب دیں