قربانی کا پیغام انسانیت کے نام
محمد سلمان قاسمی بلرامپوری
8795492282
نئے فتنے فلک لاتا رہیگا
چمن پہ آگ برساتا رہیگا
مگر اک پھول تاریخِ چمن میں
وجودِ عشق منواتا رہیگا
عقل کو تنقید و تبصرہ، نفع و ضرر، سود و زیاں کے چکر سے فرصت کہاں ہے؟ جب عقل اپنے مِحور و چاک کے ڈھرے پر گھوم رہا ہوتا ہے،تب عشق لامکاں تک سفر کرچکا ہوتا ہے،
سن لو! جب تک عشق پر اعمال کی بنیاد نہیں ہوگی، اور عشق جب تک عقل سے بر سرِپیکار نہیں ہوگی،تو سمجھ لیجئے راہِ شوق کا مسافر غلط دِشا میں صحراء نوردی کررہا ہے
عشق تو اک جست میں قصہ تمام کرکے بارگاہِ محبوب میں سرخ رو ہوجاتا ہے، اور عقل مادہ پرستی کے آوازِ باز گشت کے صدا سے الجھ رہا ہوتا ہے،
بلکہ اقبال مرحوم تو آگے بڑھ کر عقل کو بولہبی سے تعبیر کررہے ہیں، اور صدقِ خلیل و صبرِ حسین، بلکہ انکے یہاں معرکۂ وجود میں ہونے والا بدر و حنین کا نام عشق ہے ___
*صدقِ خلیل بھی ہے عشق صبرِ حسین بھی ہے عشق*
*معرکہء وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق*
*تازہ میرے وجود میں معرکۂ کہن ہوا*
*عشق تمام مصطفی عقل تمام بو لہب*
داستانِ عشق پر مشتمل ایک خلیلی سنت جسے ہم قربانی کے نام سے جانتے ہیں،
یہ وہی خلیل ہے جو وحدانیت کا مرکز ہے، بت شکنی کا برانڈ ایمبیسڈر ہے، جو باذنِ ربی وادی غیر زی زرع میں بیوی بچوں کو چھوڑ دینے والا مہاجر ہے، مقبولیت کے کیا ہی کہنے، سفرِ عشق یعنی واقعۂ معراج میں بیت المعمور پہ ٹیک لگائے پیغمبر آخر الزماں صل اللہ علیہ وسلم کے سلام کا جواب دے رہا ہے___وعلیکم السلام یا ابن الصالح
شریکِ حیات حضرت ھاجرہ سلام اللہ علیھا بھی مرتبہ علیا پر فائز ہیں
خلیل الرحمان (علیہ السلام) بحکمِ ایزدی عظمت والے گھر کے پاس بیوی کو بے یار و مددگار چھوڑے جارہا ہے
قربان جائیے ،،،، بیوی بھی ایسی
سوال کر بیٹھتی ہے ایسی بے اعتنائی کیوں ہمدم؟
جواب ملتا ہے مولی کا حکم ہے
سراپا صبر ورضا شریکِ حیات ٹھنڈی سانسیں بھر کر،،، *اذا لا یضیّعنا*،، کہتی ہے
( تب تو وہ ہمیں ضایع نہ کریگا،)
اب پوٹلی میں رکھے معدودے کھجور کب تک ساتھ دیتے،
اور مشکیزہ کا ٹھنڈا پانی کب تک سیرابی عطا کرتا،
آخر کار پانی ختم..
اب دیدہ و قدوم کی طواف گردی شروع ، کبھی اس پہاڑی پر کبھی اس پہاڑی پر چھوٹے بچے کا بھی خوف و خیال،
اس پاک بی بی کو کیا پتا
کہ اسکی یہ بے تابی و بے قراری
مقبولیت و محبوبیت کے ستارۂ امتیاز کے سکہ میں ڈھل کر شعائر بننے والی ہے
جو تا قیامت حج و عمرہ میں ارکانی وجوب کے طور پر ادا کی جاتی رہیگی ہے
*لکل فجٍ عمیق* کاروانِ دور و دراز سراپا عجز و نیاز ارضِ مقدسہ میں جمع ہوتے رہینگے،
اور *ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ* (بقرہ 158)
کا عملی نمونہ پیش کرتے رہینگے ہیں،
،،، نزدیکاں کا رابیش بود حیرانی،،کے اصول کے تحت
ابھی امتحان ختم نہیں ہوا،
یہی بچہ جب کھیلنے کودنے کی عمر کو پہونچتا ہے،
پھر ابو الانبیاء خلیل الرحمٰن کا ایک اور ٹیسٹ شروع ہوتا ہے
خواب میں سیدنا خلیل دیکھتے ہیں کہ اپنے اکلوتے لختِ جگر کو راہِ خدا میں ذبح کررہے ہیں،
کوئی اور ہوتا تو تاویل و تعبیر کرکے مطلب برآری سے کام لیتا،
چونکہ یہ خلیل ہیں اور نبی ہیں اور نبیوں کا خواب بھی وحیِ الہی ہوتا ہے،
بلا چوں و چرا تعمیلِ حکم پر تیار ہوگئے،
اب بیٹے کے سامنے خواب کا ذکر کیا،، کہ پیارے بیٹے…..
میں نے خواب میں تجھے ذبح کرتے دیکھ رہا ہوں تیری کیا رائے ہے اس بارے میں،
فرمانبردار بیٹا، کہنے لگا ابا جان آپ کو جو حکم ملا ہے کر گزرئیے
انشاءاللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائینگے،
*یہ فیضانِ نظر تھا کہ مکتب کی کرامت تھی*
*سکھائے کس نے اسماعیل ؑ کو آدابِ فرز ندی*
قرآن یوں منظرکشی کرتا ہے،
*فلما بلغ معہ السعی قال یبنی انی اری فی المنام انی اذبحک فانظر ماذا تری قال یابت افعل ما تؤمر ستجدنی ان شاء اللہ من الصابرین،*
(صفت آیت 102)
،،،، واضح رہے خلیل نے خواب میں حکمِ الہی کے بعد بیٹے سے مشورہ اس لیے نہیں کیا کہ انہیں اس حکم کی تعمیل میں تردد تھا
حضرات انبیاء کرام علیہم السلام احکامِ الہیہ میں تردد نہیں کرتے اس مشورے میں حکمتیں تھیں، مفسرین کے بیان کردہ چند حکمتوں کو ملاحظہ کریں،
(1) اگر اسکے بنا پر بیٹے کو پریشانی و گھبراہٹ ہو تو اسے تسلی دی جائے.
(2) اگر بیٹے میں تسلیم و رضا ہو، تو باپ کی آنکھیں ٹھنڈی کی جائیں،
(3) عظیم امتحان کے آغاز سے پہلے ہی بیٹا مانوس ہوجائے تاکہ اس کا برداشت کرنا نسبتاً آسان ہوجائے
(4) رضا ور غبت سے قربان ہوکر بیٹا بھی اجر وثواب میں شریک ہوجائے
(5) اس قسم کے معاملے میں مشورہ کرنا سنتِ ابراہیم علیہ السلام قرار پائے،،،،
(حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قربانی قصہ ص50)
*فلما اسلما وتلہ للجبین*
(صفت آیت 103)
اب آگے دیکھیے،، پیشانی کے بل پورے زور سے اسماعیل کو لٹا دیا، چھری کو کہہ رہے ہیں *اذبح*، ذبح کرو،
چھری کو حکم تھا *لا تذبح*، مت ذبح کر،،
اب ابراہیم نے ذبح کرنے کےتمام حربے کرلئے ، چھری چل ہی نہیں رہی، چھری کند ہوگئی، چھری چلتی بھی کیسے، تقدیر کے مالک کی اجازت ہی نہ تھی
اب غیب سے آواز آئی،
*یا ابراھیم قد صدقت الرویا*
ابراھیم تو نے واقعی خواب کو سچ کر دکھایا،
واقعی یہ کام بہت مشکل تھا ذرا تصور تو کریں، ایک باپ اپنے لختِ جگر کو کس دل گردے سے تعمیل حکم کے خاطر ذبح کرنے چلا تھا، واقعی یہ بہت بڑی ہی آزمائش تھی، جو سیدنا خلیل ہی کے شایانِ شان تھی،،
*انا کذلک نجزی الحسنین ان ھذا لھو البلا ء المبین وفدیناہ بذبحٍ عظیم*
صفّـت آیت( 105 تا 107)
اب امتحان میں سو فیصد کامیابی پر رب تعالے نے ایک دنبہ اسماعیل کے جان کے عوض بھیج دیا، اور پھر دنبہ کو ذبح کیا گیا، اور یہیں سے قربانی کی ابتداء ہوئی،
صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے ایک بار سرکار صل اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا،،
*ما ھذہ الاضا حی یارسول اللہ؟*
فرمایا
*سنۃ ابیکم ابراھیم*
(الترغیب الترھیب)
یعنی یہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے تو اصل عوض ہمارے جان کا ہماری عوض تھی، مگر حق تعالیٰ کی رحمت سے جانوروں کی جان ہماری جان کی عوض بن گئی، بقول انشاءاللہ خان انشاء___
*یہ عجیب ماجرا ہے کہ بروزِ عید قرباں*
*وہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب الٹا*
قربانی کے تعلق سے مسلمانوں کا ایک سیکولر طبقہ وہ ہے جو کہتا ہے کہ قربانی میں جانوروں کے ساتھ ظلم ہے اور رقم کا اسراف ہے یہی رقم غریبوں میں بانٹا جاسکتا ہے،
ان لبرلوں کا جواب یہ ہے کہ قربانی عینِ فطرت ہے، قوموں کی تاریخ اور فطرت و نیچر کو دیکھ لیجئے، قربانی اکثر مذاہب میں کسی نہ شکل میں موجود ہے،
سمندر کی بڑی مچھلیاں چھوٹی کو کھا جاتی ہیں اسی طرح جنگل میں طاقتور کمزور کا شکار کرتا ہے،
اور اسی طرح ادویات بنانے کے لیے پتا نہیں کتنے جانوروں کو اور کیٹ پتنگوں کو دوا سازی کے لئے قربان ہونا پڑتا ہے، ریشم کا کپڑا تیار ہونے میں پتہ نہیں کتنے ریشم کے کیڑے اپنی جان گنواتے ہیں، انسان پانی پیتا ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں جراثیمی کیڑے ہوتے ہیں
پھر تو کوئی نہیں کہتا کہ یہاں جانداروں پر ظلم ہے،
جبکہ قربانی کرنے سے اولاً خدا کی رضا مطلوب ہوتی ہے،
اگر ہم معاشرتی جائزہ لیں تو اس میں کروڑوں انسانوں کا فائدہ ہے،
جیسے قربانی کا جانور پالنے والے غریب بلا قیدِ مذاھب انکے لیے یہ تہوار مستقل ذریعہ آمدنی ہے، اور قربانی کے موسم میں یہ تو منہ مانگی قیمت پاتے ہیں،
کافی حد تک انکی زندگی سے غریبی ریکھا کم ہوتی ہے،
اور قربانی کے گوشت کی تقسیم دیکھ لیجیے،، یعنی اسکیے تین حصے کئے جاتے ہیں ایک خود صاحبِ قربانی اپنے لئے رکھتا ہے دوسرا دوست احباب و رشتہ دار کو بھیجتا ہے، تیسرا یہ غریبوں کو دیتا ہے،،
مہنگائ کے اس دور میں کتنے گھرانے ایسے ہیں جو گوشت افورڈ نہیں کرسکتے، یہی قربانی ہی واحد ذریعہ ہے جو ان بیچاروں کو بھی تھوڑا بہت گوشت میسر کرادیتا ہے، ورنہ آپ دنیا کی بڑی سی بڑی کمپنی،فرم و سلاٹر ہاؤس دیکھ لیجیے جہاں گوشت کا امپورٹ و ایکسپورٹ کیا جاتا ہے اور ان سے مرغن غذائیں بنتی ہیں *کے ایف، سی* وغیرہ کو دیکھ لیجیے ایک ایک دن میں کروڑوں مرغوں کو ذبح کرکے مہنگی ڈش تیار کرتے ہیں ، مگر یہ پورے سال کماتے ہیں اک دن غریبوں کو مفت نہیں کھلاتے، پھر بھی انہیں کوئی جانوروں کا قاتل نہیں کہتا، عجیب فلسفہ ہے ان لٹیروں اور مادہ پرستوں کا، انکے کام پر کسی کو کوئی احتجاج نہیں کوئی ڈبیٹ نہیں،
صرف دقت ہے تو بس قربانی سے،
یہ بازنطینی صیہونی اور سومنات کے پجاری تم سے خوش کبھی خوش نہیں ہوسکتے ____
*سجے ہوئے ہیں دل میں خواہشات کے بت*
*یہ سومنات کبھی غزنوی سے خوش نہ ہوا*
(رؤوف خیر)
کہیں ایسا نہ ہو رواداری و جمہوریت کے بقا و وطن پرستی کے چکر میں دین کے شعائر کا انکار یا ہلکا سمجھنے لگ جاؤ،،
*لا طاعۃ لمخلوقٍ فی معصیۃ الخالق*
اب قربانی کے تعلق سے دل میں بات آسکتی ہے آخر خدا کو یہ ذبیحہ کی کیا ضرورت ہے، جبکہ خدا بے نیاز ہے؟
عملِ قربانی سے خدا یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون تعمیلِ احکام میں لیت و لعل کئے بغیر آگے بڑھتا ہے،و کون تقوی وخشیت اختیار کرتا ہے، اور کون ہے جو عقل پرستی میں مبتلا ہوکر تاویل کرتا ہے،
خدا فرماتا ہے،
*لن ینال اللہ لحومھا ولا دماءھا ولکن ینالہ التقوی منکم* (حج آیت 37)
قربانی کا گوشت و خون خدا تک نہیں پہنچتا،، بلکہ خدا کے یہاں تو تقوی پہونچتا ہے،
اب قربانی کس پر واجب ہے؟
اس سلسلے میں(.فتوی نمبر 144004201282، دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن) ملاحظہ فرمائیں۔
،،،، قربانی واجب ہونے کا نصاب وہی ہے جو صدقہٴ فطر کے واجب ہونے کا نصاب ہے، یعنی جس عاقل، بالغ ، مقیم ، مسلمان مرد یا عورت کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں قرض کی رقم منہا کرنے بعد ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کی قیمت کے برابر رقم ہو، یا تجارت کا سامان، یا ضرورت سے زائد اتنا سامان موجود ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، یا ان میں سے کوئی ایک چیز یا ان پانچ چیزوں میں سے بعض کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہوتو ایسے مرد وعورت پر قربانی واجب ہے قربانی واجب ہونے کے لیے نصاب کے مال ، رقم یا ضرورت سے زائد سامان پر سال گزرنا شرط نہیں ہے، اور تجارتی ہونا بھی شرط نہیں ہے، ذی الحجہ کی بارہویں تاریخ کے سورج غروب ہونے سے پہلے اگر نصاب کا مالک ہوجائے تو ایسے شخص پرقربانی واجب ہے ضرورتِ اصلیہ سے مراد وہ ضرورت ہے جو جان اور آبرو سے متعلق ہو یعنی اس کے پورا نہ ہونے سے جان یا عزت وآبرو جانے کا اندیشہ ہو، مثلاً:کھانا ، پینا،پہننے کے کپڑے، رہنے کا مکان، اہلِ صنعت وحرفت کے لیے ان کے پیشہ کے اوزارضرورتِ اصلیہ میں داخل ہیں اور ضرورت سے زائد سامان سے مراد یہ ہے کہ وہ چیزیں انسان کے استعمال میں نہ ہوں، اور ہر انسان کی ضروریات اور حاجات عموماً دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں اور راجح قول کے مطابق ضروریات کو پوری کرنے کے لیے اشیاء کو جائز طریقہ سے اپنی ملکیت میں رکھنے کی کوئی خاص تعداد شریعت کی طرف سے مقرر نہیں ہے؛ بلکہ جو چیزیں انسان کے استعمال میں ہوں اور انسان کو اس کے استعمال کی حاجت پیش آتی ہو اور وہ اشیاء تجارت کے لیے نہ ہوں تو ضرورت اور حاجت کے سامان میں داخل ہے لہٰذا جو چیزیں ان انسان کے استعمال میں نہ ہوں اور اس کو ان کی حاجت بھی نہ ہوتی ہو تو وہ ضرورت سے زائد سامان میں شامل ہے، قربانی کے نصاب میں اس کی مالیت کو شامل کیا جائے گا،،،،
اب ہم کس طرح کے جانور قربان کریں؟
قربانی کے جانور کو موٹا کرنا اسے کھلانا پلانا یہ اللہ کے شعائر کی تعظیم ہے، اور قربانی کے جانور کل قیامت کے دن پل صراط پر سواری کا کام کرینگے،
فرمانِ رسول ہے
*سمنو ضحا یاکم فانھا علی الصراط مطایاکم*
اپنے ذبیحے کو خوب موٹا کرو کیونکہ یہ کل قیامت کے دن تمہاری سواریاں ہو نگی،
اور جب احکم الحاکمین کے سامنے جب ہم کوئی چیز قربان کریں تو بہتر سے بہتر چیز ہونی چاہیے، خبیث و نکمی چیز جب ہم خود لینے سے گریز کرتے ہیں تو چہ جائیکہ ہم خدا کے لیے گھٹیا چیز کا انتخاب کریں،
اسی لیے عیب دار جانوروں کی قربانی درست نہیں ہے،
ترمذی کی روایت ہے
*لایضحی بالعرجاء بین ظلعھا*
*ولا بالعوراء بین عورھا*
*ولا بالمریضۃ بین مرضھا*
*ولا بالعجفاء التی لا تنقی*
چار طرح کے جانور سے پرہیز کرو
(1) وہ لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو
(2) وہ کا نا جانور جس کا کانا پن ظاہر ہو
(3) ایسا بیمار جانور جس کی بیماری ظاہر ہو
(4) ایسا دبلا و مریل جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو
اسی کے علاوہ…..
(5) جسکے کان کا تہائی حصہ کٹا ہویا جسکا کان چرا ہوا ہو، یا جسکے کان میں سوراخ ہو
(6) جو بالکل اندھا ہو
(7) جسکی دم کٹ گئی ہو یا اسکا تہائی حصہ سے زیادہ کٹا ہوا ہو
(8) جو تین پاؤں پر چلتا ہو اور چوتھا پاؤں نہ رکھتا ہو
(9) جس کے دانت ٹوٹ چکے ہوں
(10) جسکے سینگ ٹوٹ چکے ہوں البتہ جسکے پیدائش کے طور پر سینگ نہ ہواور عمر پوری ہو توجائز ہے
(11) گائے کا دو تھن یا بکری کا ایک تھن خراب ہو تو قربانی جائز نہیں،،،
(قربانی کے احکام ص29
مولانا منظور یوسف)
مزید مسائل کے لئے فقہی کتابوں کی طرف رجوع کریں
آج ملکی سطح سے لیکر عالمی سطح تک کفر الملۃ واحدۃ کے تحت جمع ہوکر مسلمان اور اسلامی تشخصات کو مٹانے پر تلی ہے،
ان حالات میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی زندگی ہمارے لیے نمونہ ہے
اسلام کی عظمت و شان اور تبلیغ و اشاعت کے لیے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے،
اپنے اندر براہیمی جذبہ پیدا کریں، اخلاص و للہیت، تقوی عدل و احسان، کو اختیار کریں، منکرات و فواحش اور ظلم و عدوان سے سے رک جائیں، ہوس تو چھپ چھپ کر دل کی مٹی پلید کردیتی ہے، آج ضرورت ہے ابراہیم سا ایماں پیدا کرنے کی، جو آگ کو اندازِ گلستاں پیدا کرسکے، اور براہیمی نظر پیدا کرنے کی، تاکہ ہم اپنی تمام من چاہی کو رب چاہی پر قربان کرسکیں،
خدا یا تو ہمیں ایسے بنا دے جو ہم تجھے پسند آجائیں۔
