عام مساجد میں غیر مسلموں کا داخلہ
ذکی الرحمٰن غازی مدنی
جامعۃ الفلاح، اعظم گڑھ
کوئی غیر مسلم مدینہ منورہ کی مسجدِ نبوی یا دیگر عام مساجدالمسلمین میں داخل ہو سکتا ہے یا نہیں، اس مسئلہ میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف ہوا ہے۔ دو قول پائے جاتے ہیں، جواز اور عدم جواز۔
پہلے قول کے مطابق کسی ذمی یا مستامن یا کسی اور کافر کے لیے جائز ہوتا ہے کہ وہ مسجدِ نبوی یا کسی اور مسجد میں داخل ہو سکے۔ فقہاء میں سے یہ رائے احنافؒ، شوافعؒ، حنابلہؒ اور اہلِ ظاہرؒ کی ہے۔ (احکام القرآن، جصاصؒ:۳/۸۸۔ مغنی المحتاج:۴/۲۴۷۔ روضۃ الطالبین:۱۰/۱۳۰۔ المغنی:۸/۵۳۲۔ المبدع:۳/۴۲۵۔ کشاف القناع:۳/۱۳۷۔ احکام اہل الذمۃ:۱/۱۹۰۔ المحلی:۴/۲۴۳)
تاہم شافعیہؒ اور حنابلہؒ نے اس بات کی شرط لگائی ہے کہ غیر مسلموں کو داخل ہونے سے پہلے امام المسلمین کو یا اس کے نائب کو یا کسی اور ذمہ دار مسلمان کو بتادینا چاہیے۔ (مغنی المحتاج:۴/۲۴۷۔ روضۃ الطالبین:۱۰/۳۱۰۔ المغنی:۸/۵۳۲۔ المسائل الفقہیۃ من کتاب الروایتین والوجہین:۲/۳۸۶۔ المبدع:۳/۴۲۵)
اس کے برخلاف دوسرا قول یہ ہے کہ کسی کافر کے لیے اجازت نہیں ہے کہ وہ مسجدِ نبوی یا دیگر مسلم مساجد میں داخل ہو۔ فقہائے مالکیہؒ کا یہی مسلک ہے۔ (المنتقی شرح الموطا:۷/۱۹۲۔ تفسیر القرطبیؒ:۸/۱۰۴-۱۰۵۔ احکام القرآن، ابن العربیؒ:۲/۹۱۳)
نیز حنابلہؒ کی ایک روایت میں ان کا بھی یہی مسلک ہے۔ ’’المبدع‘‘میںں صراحت کی گئی ہے کہ یہی حنبلی مذہب ہے۔‘‘ (المبدع:۳/۴۲۵۔ المسائل الفقہیۃ من کتاب الروایتین والوجہین:۲/۳۸۶۔ کشاف القناع:۳/۱۳۷۔ الاحکام السلطانیۃ، ابویعلیؒ:ص۱۹۵)
ان دونوں مسلکوں یا فقہی رایوں میں سببِ اختلاف سورہ توبہ کی آیت ( نمبر ۲۸) کی تفہیم میں ہواہے۔ جن لوگوں نے اس آیت سے یہ مفہوم لیا ہے کہ اس میں وارد حکم کا تعلق صرف مسجدِ حرام کے ساتھ خاص ہے، مسجدِ نبوی یا دیگر مساجد سے متعلق نہیں ہے، انہوں نے غیر مسلموں کے لیے دیگر مساجد بشمول مسجدِ نبوی میں داخل ہونے کو جائز مانا ہے۔ یہی جمہور فقہاء کا مسلک ہے۔
لیکن جن لوگوں نے اس آیت سے یہ سمجھا ہے کہ اس میں وارد حکم عمومی نوعیت کا ہے اور اس میں مسجدِ حرام کے ساتھ دیگر تمام مساجد بھی داخل ہیں، انہوں نے مسجدِ نبوی وغیرہ مساجد میں بھی غیر مسلموں کے داخلہ کو ناجائز قرار دیا ہے۔ یہ مسلک مالکیہ ؒاور ان کے موافقین کا ہے۔ (تفسیر القرطبیؒ:۸/۱۰۴)
جمہور علمائے کرام نے مسجدِنبوی وغیرہ مساجد میں غیر مسلموں کے داخلہ کو جائز مانتے ہوئے کتاب وسنت کے متعدد دلائل سے استناد کیا ہے۔ انہوں نے سورہ توبہ کی آیت(نمبر۲۸) کو مسجدِ حرام کے ساتھ خاص مانا ہے، جس کا مفہومِ مخالف یہ نکلتا ہے کہ دیگر مساجد میں مشرکین کو آنے سے نہیں روکا جائے گا۔
انہوں نے حضرت ثمامہؓ بن اثال کے متفق علیہ واقعہ سے بھی استدلال کیا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے ایک لشکر کو نجد کے علاقہ کی طرف روانہ فرمایا جو واپسی میں اپنے ساتھ قبیلۂ بنوحنیفہ کے ایک آدمی ثمامہؓ بن اثال کو قیدی بنا کر لائے اور لاکر اسے مسجد ِ نبوی کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا۔ اللہ کے رسولﷺ اس کے پاس تشریف لے گئے توفرمایا:اے ثمامہ! تمہارے پاس کہنے کو کیا ہے؟اس نے کہا:اے محمدؐ!میرے پاس کہنے کو اچھی بات ہے۔ اگر آپ مجھے قتل کرتے ہیں تو ایسے شخص کو قتل کرتے ہیں جو اس سزا کا واقعی مستحق ہے، اور اگر آپ مجھ پر احسان کرتے ہیں تو ایسے شخص پر احسان کریں گے جو محسنوں کا شکرگزار رہتا ہے، اور اگر آپﷺ کو بدلے میں مال چاہیے تو مجھ سے بتائیں تاکہ آپﷺ کا مطالبہ پورا کردیا جائے۔‘‘ آپﷺ نے یہ سن کر اُسے اسی حالت میں چھوڑ دیا۔ اگلے دن آپﷺ نے اس سے یہی سوال کیا اور اس نے وہی جواب دیا، اس کے بعد آپﷺ نے پھر اسے اسی حالت میں چھوڑ دیا۔ پھر تیسرے دن بھی آپﷺ نے اس سے یہی سوال کیا جس پر اس نے وہی جواب دیا۔ آپﷺ نے اس کے بعد حکم فرمایا کہ کہ ثمامہ کو آزاد کردیا جائے۔ ثمامہ وہاں سے نکل کر مسجد ِ نبوی کے قریب ہی ایک نخلستان میں گئے اور غسل کیا، پھر واپس مسجد ِ نبوی لوٹ آئے اور بلند آواز میں کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے اور حضرت محمدﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اے محمدﷺ!روئے زمین میں مجھے سب سے زیادہ آپﷺ کے چہرے سے نفرت تھی لیکن اب یہی چہرا میرا محبوب ترین چہرا ہے۔ روئے زمین میں مجھے سب سے زیادہ نفرت آپﷺ کے دین سے تھی لیکن اب یہی دین میرا محبوب ترین دین ہے۔ روئے زمین میں مجھے سب سے زیادہ نفرت آپﷺ کے شہر سے تھی لیکن اب یہی شہر میرا محبوب ترین شہر ہے۔ آپﷺ کے لشکر نے مجھے اُس وقت گرفتار کیاتھا جب کہ میں عمرہ کی نیت سے جا رہا تھا، اب مجھے بتائیں کہ میں کیا کروں۔‘‘ اللہ کے رسولﷺ نے انہیں بشارتیں دیں اور عمرہ ادا کرنے کا حکم فرمایا۔
جب حضرت ثمامہؓ مکہ پہنچے تو کسی کہنے والے نے طنزاً کہہ دیا کہ تم تو بے دین ہوگئے ہو۔ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں!بلکہ میں محمد رسول اللہﷺکے ساتھ اسلام لے آیا ہوں، اور خدا کی قسم!اب تمہارے پاس علاقۂ یمامہ سے گیہوں کا ایک دانہ بھی نہیں آئے گا تاآنکہ اللہ کے رسولﷺ ہی اس کی اجازت مرحمت نہ فرمادیں۔‘‘ [بعث النبیﷺ خیلا قبل نجد فجائت برجل من بنی حنیفۃ یقال لہ:ثمامۃ بن أثال فربطوہ بساریۃ من سواری المسجد فخرج إلیہ النبیﷺ فقال ماعندک یا ثمامۃ؟فقال عندی خیر یامحمد!ان تقتلنی تقتل ذا دم وإن تنعم تنعم علیٰ شاکر وإن کنت ترید المال فسل منہ ماشئت فترک حتی الغد۔۔۔فقال عندی ماقلت لک، فقال أطلقوا ثمامۃ فانطلق إلی نخل قریب من المسجد فاغتسل ثم دخل المسجد فقال آشھد أن لا إلٰہ إلا اللہ وأشھد أن محمدا رسول اللہ۔۔۔](صحیح بخاریؒ:۴۳۷۲، ۲۴۲۲۔ صحیح مسلمؒ:۱۷۶۴۔ مصنف عبدالرزاقؒ:۹۸۳۴۔ مسند احمدؒ:۹۸۳۳۔ سنن ابوداؤدؒ:۲۶۷۹۔ صحیح ابن حبانؒ:۱۲۳۹، ۱۲۳۸)
اس حدیث سے وجہِ استدلال یہی ہے کہ اس کی رو سے غیر مسلم کفار کا مسجد میں داخل ہونا ثابت ہوتا ہے کیونکہ اللہ کے نبیﷺ نے حضرت ثمامہؓ کو مسجدِ نبوی ہی کے ایک ستون میں بندھوایا تھا حالانکہ اس وقت تک وہ کافر تھے، اور بعد میں اللہ تعالیٰ نے انہیں دولتِ اسلام سے نوازا۔
دوسری حدیث حضرت انسؓ بن مالک سے مروی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ اللہ کے رسولﷺ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک شترسوار آدمی آیا، اس نے مسجدمیں اپنے اونٹ کو بیٹھایا اور باندھ دیا پھر لوگوں سے کہنے لگا کہ تم میں سے محمدﷺکون ہے؟اس وقت اللہ کے رسولﷺوہیں ٹیک لگائے لوگوں کے بیچ بیٹھے تھے۔ ہم نے کہا کہ یہ سفید رنگت والے آدمی جو ٹیک لگائے بیٹھے ہیں۔ اس آدمی نے آپﷺ سے سوال کیا کہ اے ابنِ عبدالمطلب؟اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا، ہاں میں تمہارا جواب دینے کو تیار ہوں۔ تب اس آدمی نے اللہ کے رسولﷺ سے کہا کہ میں آپﷺ سے چند سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔۔۔۔‘‘ [بینما نحن جلوس مع النبی فی المسجد دخل رجل علی جمل فأناخہ فی المسجد ثم عقلہ ثم قال أیکم محمد؟](صحیح بخاریؒ:۶۳، کتاب العلم باب ماجاء فی العلم)
اس حدیث کے ظاہری مفہوم سے بھی دلیل نکلتی ہے کہ کوئی کافر مسجد میں داخل ہو سکتا ہے۔ یہاں جس آدمی کے مسجد میں داخل ہونے کا تذکرہ آیا ہے ان کا نام ضمامؓ بن ثعلبہ تھا اور یہ اپنی قوم کے نمائندے اور سفیر بن کر حاضر ہوئے تھے۔ اس ملاقات کے بعد یہ اسلام لے آئے تھے۔
امام خطابیؒ لکھتے ہیں کہ اس حدیث میں یہ فقہی رہنمائی ملتی ہے کہ کوئی مشرک کسی ضرورت کے تحت مسجد میں داخل ہو سکتا ہے۔‘‘ (معالم السنن:۱/۳۲۷)
امام سبکیؒ فرماتے ہیں کہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ کوئی کافر مسجد میں داخل ہو سکتا ہے بشرطیکہ ایسا کرنے کی ضرورت پائی جائے۔‘‘ (المنہل العذب المورود:۴/۱۰۹)
تیسری حدیث حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ یقینا یہودی لوگ اللہ کے رسولﷺ کے پاس آئے تھے، اس وقت اللہ کے رسولﷺ اپنے صحابۂ کرام کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے آپﷺ سے کہا تھا کہ اے محمدﷺ!آپ کا اس مرد وعورت کے بارے میں کیا خیال ہے جنہوں نے زنا کیا ہو؟‘‘[إن الیھود أتوا النبیﷺ وھو جالس فی المسجد فی اصحابہ فقالوا یا ابا القاسم فی رجل وامرأۃ زنیا منھم۔۔۔](سنن ابوداؤدؒ:۴۸۸۔ صحیح بخاریؒ:۷۳۳۲۔ صحیح مسلمؒ:۱۶۹۹)
اسی واقعہ کو حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے اس طرح روایت کیا ہے کہ یہودی لوگ اللہ کے رسولﷺ کی خدمت میں ایک زانی مرد وعورت کو لائے، اللہ کے رسولﷺ نے ان کی بابت حکم فرمایا تو انہیں اسی جگہ رجم کر دیا گیا جہاں مسجد کے پاس نمازِ جنازہ کے لیے میت کو رکھا جاتا تھا۔‘‘ [أن الیھود جائوا ِلی النبی برجل وامرأۃ زنیا فأمر بھما فرجماقریباً من حیث توضع الجنائز عند المسجد](صحیح مسلمؒ:۷۳۳۲)
ان حدیثوں سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کوئی کافر مسجد میں داخل ہو سکتا ہے۔ کیونکہ یہود نے اللہ کے رسولﷺکی خدمت میں وہیں حاضری دی تھی اور اللہ کے رسولﷺ نے انہیں مسجد میں داخل ہونے سے نہیں روکا تھا۔ اگر غیرمسلموں کا مسجد میں داخل ہونا حرام یا ناجائز ہی ہوتا تو ناممکن تھا کہ اللہ کے رسول ﷺانہیں ایسا کرنے دیتے۔ دوسری حدیث سے تو یہاں تک ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے ایک یہودی زانی جوڑے کو مسجدِ نبوہیکے پاس ہی سزادلوائی تھی۔
اگلی حدیث حضرت عثمانؓ بن العاص سے مروی حدیث ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنو ثقیف کا وفد جب اللہ کے رسولﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اُس وقت اللہ کے رسولﷺ نے انہیں مسجدِ نبوی میں ٹھیرایا تھا تاکہ اس کے نتیجہ میں ان کے دلوں پر رقت وخشیت طاری ہوسکے۔ ان لوگوں نے اللہ کے رسولﷺ کے سامنے اپنے اسلام لانے کی شرائط رکھی تھیں اور کہا تھا کہ انہیں جہاد وغیرہ کے لیے جمع نہ کیا جائے، نہ ان کے اموال سے عشر لیا جائے گا اور نہ وہ نماز ادا کریں گے۔ یہ سن کر اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا تھا کہ تمہیں اس کی اجازت دی جاسکتی ہے کہ تمہیں جہاد کے لیے نہ بلایا جائے اور نہ تم سے اموال کا عشر لیا جائے، لیکن جس دین میں رکوع(یعنی نماز) نہ ہو اس میں کوئی خیر نہیں ہو سکتی۔‘‘ [أن وفد ثقیف لماقدموا علی رسول اللہ أنزلھم المسجد لیکون أرق لقلوبھم فاشترطوا علیہ ان لا یحشروا ولا یعشروا ولا یجبوا فقال رسول اللہﷺ لکم أن لا یحشروا لا تعشروولا خیر فی دین لیس فیہ رکوع](سنن ابوداؤدؒ:۳۰۲۶۔ مصنف عببدالرزاقؒ:۱/۴۱۴۔ سنن بیہقیؒ:۲/۴۴۴-۴۴۵۔)
(اس حدیث میں حشر کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی جہاد کے لیے نکلنے یا اس کی منادی لگانے کے ہوتے ہیں، اسی طرح عشر کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی یہی ہیں کہ ان کے اموال سے عشر نہیں لیا جائے گا۔ شارحینِ حدیث کا کہنا ہے کہ انہوں نے زکات نہ دینے کی بات کہی تھی جسے اللہ کے رسولﷺ نے قبول کر لیا تھا۔ لیکن زکات نہ دینے ہی کا مسئلہ تھا جس پر خلافتِ صدیقی میں مانعین سے جہاد وقتال تک کیا گیا تھا۔ اس سے یہ بات اپنے آپ مترشح ہوجاتی ہے کہ دعوتی مصالح یا حکمتِ دینی کا ثبوت دیتے ہوئے دینی اصول وارکان میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی، یہ کام خود صاحبِ رسالتﷺ کی صواب دید پر ہوسکتا تھا، لیکن وفاتِ رسولﷺ کے بعد اس طرح کی بات کرنا عبث ہے۔ پھر داعیِ اعظمﷺ نے بنو ثقیف کے تعلق سے جو اندازہ لگایا تھا وہ سولہ آنے سچ ثابت ہوا کہ وہ جلد ہی تمام دینی فرائض نبھانے لگے اور فتنۂ ارتداد میں مکہ ومدینہ کے بعد بنو ثقیف کا گڑھ طائف ہی تھا جو اسلام پر قائم وراسخ رہا۔ حدیث میں تیسرا لفظ تجبیہ کا آیا ہے جس کے لغوی معنی یہ ہیں کہ انسان اپنے اوپری حصہ کو جھکا دے اور نچلے حصہ کو بلند کر لے۔ یہاں بنو ثقیف کی مراد نماز نہ پڑھنا تھی، جس پر کوئی سودا اللہ کے رسولﷺ نے نہیں فرمایا۔ تفصیل کے لیے دیکھیں معالم السنن، خطابیؒ:۳/۴۲۱)
یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ غیر مسلموں کو مسجدوں میں نہ صرف آنے دینا جائز ہے، بلکہ دعوتی مصالح اور رقتِ قلبی کی خاطر مسجدوں میں ان کا قیام بھی کروایاجاسکتا ہے جیسا کہ اللہ کے رسولﷺ نے وفدِ بنو ثقیف کے ساتھ کیا تھا۔ امام خطابیؒ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں فقہی رہنمائی یہ ملتی ہے کہ کسی کافر کو اس کی یا کسی مسلمان کی ضرورت کے تحت مسجد میں آنے دیا جاسکتا ہے۔‘‘ (معالم السنن:۳/۴۲۱)
اسی طرح روایات میں آتا ہے کہ حضرت ابوسفیانؓ بن حرب حالتِ شرک پر رہتے ہوئے مسجدِنبوی میں داخل ہوا کرتے تھے۔‘‘ [کان ابوسفیان بن حرب یدخل مسجد النبیﷺ وھو مشرک](المغنی:۸/۵۳۲)
مزید برآں حضرت عمیر بن وہب کا قصہ کہ وہ اللہ کے رسولﷺ پر قاتلانہ حملہ کی نیت سے مدینہ تشریف لائے اور مسجدِ نبوی میں اللہ کے رسولﷺ سے ان کی ملاقات ہوئی، لیکن اللہ کے رسولﷺنے جب سارا ماجرا انہیں بتادیا تو وہ فوراً آپﷺ کو سچا رسول جان کر اسلام لے آئے۔‘‘ (المغنی:۸/۵۳۲۔ الاصابۃ:۶/۶۲۷)
اس مسلکِ جواز کے برخلاف دوسرا مسلک عدمِ جواز کا ہے جس کے قائلین میں نمایاں نام فقہائے مالکیہؒ کا آتا ہے۔ ان لوگوں نے بھی اپنی تائید میں متنوع دلائل سے استشہاد کیا ہے۔ ان کی پہلی دلیل سورہ توبہ کی سابق الذکر آیت ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ آیتِ کریمہ عمومی نوعیت کی ہے، یعنی جس طرح اس میں تمام مشرکین وکفار پر پابندی لگائی ہے اسی طرح یہ پابندی مسجدِ حرام کے ساتھ ساتھ جملہ مساجد کے لیے واجبِ العمل ہے۔
اس آیت نے صراحت کے ساتھ مسجدِ حرام میں غیر مسلموں کے آنے کی ممانعت کی ہے، جبکہ اس حکم کی جوعلت بیان کی گئی ہے یعنی نجاست یا مشرکین کا نجس ہونا، یہ علت تمام مشرکین کے حق میں ثابت مانی جائے گی اوراس کے نتیجے میں تمام مساجد سے انہیں دور رکھا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو نجس کہا ہے۔ مشرک نجس العین ہوگا یا نجس الذات ہوگا، دونوں صورتوں میں اسے مسجدوں سے روکنا واجب ہوجاتا ہے کیونکہ علت یعنی نجس ہونا ہر حال میں موجود ہے اور مسجدوں کی حرمت اور احترام بھی ہر حال میں قائم رکھنا ضروری ہے۔ (تفسیر القرطبیؒ:۸/۱۰۵۔ احکام القرآن، ابن العربیؒ:۲/۹۱۳-۹۱۴)
علامہ ابن العربیؒ کہتے ہیں کہ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ کفار ومشرکین کو مسجدِ حرام کے علاوہ بھی کسی مسجد کے قریب نہیں آنے دیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ یہ مخصوص لوگ ہی مسجدِ حرام کے قریب نہ آئیں، تاکہ اس حکم کو انہی مشرکین تک محصور ومقصور مانا جائے، اسی طرح اگر اللہ رب العزت نے فرمایا ہوتا کہ مشرکین اور نجس لوگ مسجدِ حرام کے پاس نہ آئیں تو اس سے تنبیہ ہو سکتی تھی کہ ممانعت کی وجہ شرک یا نجاست یا دونوں ایک ساتھ ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے جو انداز واسلوب اختیار کیا وہ ایسا ہے کہ اس سے علت نمائی بھی ہوجاتی ہے۔ فرمایا گیا کہ مشرکین ناپاک ہیں، لہٰذا اس سال کے بعد یہ مسجد ِ حرام کے قریب پھٹکنے نہ پائیں۔ یقینا یہاں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کانجس ہونا ہی مراد لیا تھا۔ اس طرح ممانعت کی یہ علت پھیل جاتی ہے اور اس کے دائرہ میں جملہ قابلِ احترام مقامات آجاتے ہیں جن کے مجموعہ کو مساجد کا نام دیا جاتا ہے۔‘‘ (احکام القرآن، ابن العربیؒ:۲/۹۱۳)
ان حضرات نے اس کے علاوہ بھی چند قرآنی آیات کو اپنے مسلک کی تائید میں پیش کیا ہے۔ ارشادِ باری کو دیکھئے کہ{فِیْ بُیُوتٍ أَذِنَ اللَّہُ أَن تُرْفَعَ وَیُذْکَرَ فِیْہَا اسْمُہُ یُسَبِّحُ لَہُ فِیْہَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ}(نور، ۳۶) ’’(اس کے نور کی ہدایت پانے والے) ان گھروں میں پائے جاتے ہیں جنہیں بلند کرنے کا اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ نے اِذن دیا ہے۔ ان میں صبح شام اس کی تسبیح کرتے ہیں۔‘‘
ان حضرات کا کہنا ہے کہ اس آیتِ کریمہ سے دلیل ملتی ہے کہ بیوت اللہ میں کافروں کا داخل ہونا ان گھروں کی رفعت وعظمت کے خلاف ہے۔ (تفسیر القرطبیؒ:۸/۱۰۴)
اسی طرح اس آیت کو دیکھئے کہ {یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَقْرَبُواْ الصَّلاَۃَ وَأَنتُمْ سُکَارَی حَتَّیَ تَعْلَمُواْ مَا تَقُولُونَ وَلاَ جُنُباً إِلاَّ عَابِرِیْ سَبِیْلٍ حَتَّیَ تَغْتَسِلُواْ وَإِن کُنتُم مَّرْضَی أَوْ عَلَی سَفَرٍ أَوْ جَاء أَحَدٌ مِّنکُم مِّن الْغَآئِطِ أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَاء فَلَمْ تَجِدُواْ مَاء فَتَیَمَّمُواْ صَعِیْداً طَیِّباً فَامْسَحُواْ بِوُجُوہِکُمْ وَأَیْْدِیْکُمْ إِنَّ اللّہَ کَانَ عَفُوّاً غَفُورا}(نسائ، ۴۳) ’’اے لوگو جوایمان لائے ہو، جب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جائو۔ نماز اس وقت پڑھنی چاہیے جب تم جانو کہ کیا کہہ رہے ہو۔ اور اسی طرح جنابت کی حالت میں بھی نماز کے قریب نہ جائو جب تک کہ غسل نہ کر لو، الا یہ کہ راستہ سے گزرتے ہو۔ اور اگر کبھی ایسا ہو کہ تم بیمار ہو یا سفر پر ہو یا تم میں سے کوئی شخص رفعِ حاجت کرکے آئے، یا تم نے عورتوں سے لمس کیا ہو اور پھر پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے کام لو اور اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کر لو، بے شک اللہ نرمی سے کام لینے والا اور بخشش فرمانے والا ہے۔‘‘
مالکیہؒ وغیرہ حضرات کا کہنا ہے کہ اس آیت میں نشہ میں اور جنابت میں مبتلا مسلمانوں کو بھی نماز کے قریب جانے سے روک دیا گیا ہے، اور نماز سے دور رہنے کا مطلب یہ ہے کہ نماز گاہوں یعنی مساجد سے دور رہا جائے۔ جب ناپاک ونشہ خور مسلمان کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے تو یہی بات غیرمسلموں کے حق میں ماننا بدرجۂ اولیٰ ضروری ہوجاتا ہے۔ (تحفۃ الراکع والساجد فی احکام المساجد:ص۱۹۸)
انہوں نے حضرت انسؓ کی حدیث سے بھی استدلال کیا ہے۔ حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نے آکر مسجد میں پیشاب کر دیا جس پر اللہ کے رسولﷺ نے اس سے فرمایا تھا کہ یہ مساجد ایسی ہیں کہ ان میں پیشاب اور گندگی کی کوئی شے کرنا مناسب نہیں ہوتا، یہ صرف اللہ کے ذکر اور نماز اور تلاوتِ قرآن کیے لیے ہوتی ہیں۔‘‘ [إن ھذہ المساجد لا تصلح لشیء من ھذا البول ولا القذر إنما ہی لذکر اللہ والصلاۃ وقرائۃ القرآن](صحیح بخاریؒ:۲۱۹۔ صحیح مسلمؒ:۲۸۵)
اس حدیث سے استدلال اس طور پر کیا جاسکتا ہے کہ غیر مسلموں کا وجود بھی قرآنی بیان کے مطابق نجس ہوتا ہے، نیز وہ پاکی وصفائی کا اتنا خیال بھی نہیں رکھتے ہیں اور ہمیشہ ایسی ناپاکیوں اور گندگیوں میں ملوث رہتے ہیں جو بہرحال مساجد کے شایانِ شان نہیں ہوتیں۔ مزید یہ بھی کہ مساجد کا قیام ذکرِ الٰہی، اقامتِ صلات اور تلاوتِ قرآن کے لیے ہوتا ہے، اب جس انسان کو وہاں جاکر یہ سب اعمال نہیں انجام دینے ہیں تو اس کو وہاں جانے دینا کارِ عبث اور لایعنی ہے۔ (تفسیر القرطبیؒ:۸/۱۰۴)
اس کے علاوہ اللہ کے رسولﷺ کا ارشاد یہ بھی ہے کہ کوئی مشرک مسجد کے قریب نہ آئے۔‘‘ [لایقرب المسجد مشرک](مصنف ابن ابی شیبہؒ:۱۴۶۹۸) اس حدیث میں بالکل صراحت کی گئی ہے کہ کوئی مشرک مساجد کے قریب جانے کا اہل نہیں ہوتا۔
اسی طرح ام المومنین حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ یقینا میں اس مسجد کو کسی حائضہ یا ناپاک جنبی کے لیے حلال نہیں کر سکتا ہوں۔‘‘ [إنی لا أحل المسجدلحائض ولا جنب](سنن ابوداؤدؒ:۲۳۲۔ تہذیب الکمال:۳۵/۱۴۳۔ تہذیب التہذیب:۱۲/۴۰۶)
یہ حدیث بھی دلالت کرتی ہے کہ کسی حائضہ خاتون یا کسی ناپاک مرد یا عورت کے لیے مساجد میں داخل ہونا جائز نہیں ہے، حالانکہ حیض وجنابت کے باوجودیہ لوگ مسلمان ہی رہتے ہیں، جبکہ غیرمسلموں کے اندر یہ عارضے تو پائے ہی جاتے ہیں، مزید برآں وہ کفر وشرک کی آلائش میں بھی مبتلا ہوتے ہیں اور پاکی ناپاکی کے اسلامی احکام وتعلیمات سے بے گانے وغافل ہوتے ہیں۔ (تفسیر القرطبیؒ:۸/۱۰۵)
حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمرؓبن خطاب کے پاس گیا تو وہاں انہوں نے ایک کتاب رکھی دیکھی جس میں ان کے کاموں کا حساب لکھا ہوا تھا۔ حضرت عمرؓ نے مجھ سے کہا کہ جس نے یہ حساب کتاب لکھا ہے اسے میرے پاس لائو، میں نے کہا کہ وہ مسجد میں داخل نہیں ہوسکتا۔ حضرت عمرؓ کے پوچھنے پر میں نے انہیں بتایا کہ وہ ایک نصرانی کاتب ہے۔‘‘ (المغنی:۸/۵۳۲)
حضرت علیؓ کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے منبر پر کھڑے ہوئے ایک مجوسی کو دیکھا جو بلا وجہ مسجد میں داخل ہو رہا تھا تو منبر سے اترے اور اسے مارتے ہوئے مسجد سے نکال دیا۔‘‘ [أنہ بصر بمجوسی وھو علی المنبر وقد دخل المسجد فنزل وضربہ وأخرجہ من المسجد](المغنی:۸/۵۳۲)
امام اوزاعیؒ نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمرؒ بن عبدالعزیز نے فرمان لکھا تھا کہ یہود ونصاریٰ کو مسلمانوں کی مساجد میں داخل ہونے سے روک دو۔ اس سلسلے میں انہوں نے فرمانِ الٰہی(سورہ توبہ، ۲۸) کی تعمیل کی تھی۔ (جامع البیان:۱۰/۱۰۵۔ تفسیر القرآن العظیم:۲/۳۴۶)
یہ دونوں فریقوں کی دلائل کا مختصر تجزیہ ہے۔ اس مسئلہ میں فقہائے کرام کے دلائل وآراء میں غور وفکر کرکے جو مسلک راجح نظر آتا ہے وہ جمہور کا مسلک ہے، یعنی غیر مسلموں کو مسجدِحرام کے علاوہ جملہ مساجد، بشمول مسجدِ نبوی، میں داخل ہونا جائز ہے۔ تاہم جمہور نے بھی اس کی صراحت کی ہے کہ انہیں وہاں کچھ خرابی کرنے، کھیل کود مچانے یا گندگی پھیلانے سے بالجبر روک دیا جائے گا۔
جمہور کے مسلکِ جواز کو چند وجوہات کی بنا پر ترجیح دی گئی ہے۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ عہدِ رسالتﷺ میں غیرمسلمین کفار ومشرکین کے مسجدِ نبوی میں داخل ہونے کے دلائل اس قدر زیادہ، مضبوط اور صریح ہیں کہ انہیں کسی طور بھی نکارا نہیں جاسکتا ہے۔ حضرت ثمامہؓ بن اثال، حضرت ضمامؓ بن ثعلبہ، مختلف وفود اور یہودیوں کے مسجدِ نبوی میں داخل ہونے کے واقعات بڑے تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچے ہیں۔ روایات میں تو یہاں تک آتا ہے کہ آپﷺ آنے والے ہر قسم کے وفود کو مسجدِ نبوی ہی میں ٹھیرایا کرتے تھے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ اس جواز کے برخلاف کوئی ایسی صریح وصحیح دینی نص نہیں پائی جاتی جس سے عدمِ جواز کا حکم نکلتا ہو۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ غیر مسلموں کا مسجدوں میں جانا بغرض سماعِ قرآن ہوسکتا ہے، وہ وہاں فرض نمازوں کی ادائیگی کا روح پرور منظر دیکھ سکتے ہیں اور اس کی وجہ سے امید کی جاسکتی ہے کہ ان کے دلوں میں اسلام داخل ہوجائے گا یا کم از کم اسلام کے لیے نرم گوشہ(سافٹ کارنر) پیدا ہوجائے گا جس کی معاصر تکثیری سماجوں میں بہت زیادہ ضرورت ہے۔
بہت سارے مسلم ممالک میں اس مسلک پر اجتماعی طور پر عمل کیا گیا ہے اور اس کے مثبت ومفید نتائج سامنے آئے ہیں۔ یورپین ممالک کا حال یہ ہے کہ وہاں کے غیر مسلمین کامل آزادی کے ساتھ مساجد میں آتے جاتے ہیں اور اسلام اور رسولِ اسلامﷺ کے بارے میں استفسار وغیرہ کرتے ہیں اور دینِ اسلام کے محاسن ودلائل سے آگاہ ہوتے ہیں۔ یورپین ممالک میں مسلمان اقلیتوں کے اس رویہ سے وہاں کی ایک بڑی آبادی کو اسلام لانے کی توفیق نصیب ہوئی ہے اور مسلسل ہورہی ہے۔
چوتھی بات یہ کہ مالکیہؒ نے مساجد میں غیر مسلموں کے داخلہ کی حرمت پر جو استدلال کیا ہے وہ سرتاسر مسجدِ حرام کے بارے میں ہے اور دوسری مساجد پر اسے منطبق کرنا کسی درجہ تکلف اورکھینچا تانی معلوم ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر سورہ توبہ کی آیت میں وارد حکم کے بارے میں ان کی توجیہ وتاویل پر ایک نگاہ ڈال لی جائے تو ازخود ان کے استدلال کی کمزوری منکشف ہوجاتی ہے۔ حضرت جابرؓ کی حدیث میں بھی ایسی کوئی بات نہیں ملتی جس کی بنیاد پر اس حرمت کو دیگر مساجد کے لیے بھی لازم مان لیا جائے۔ اس کے علاوہ اور جتنے بھی دلائل ہیں ان میں کسی سے بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ غیر مسلموں کا عام مسجدوں میں داخل ہونا منع ہے۔
ان تمام باتوںں کو دیکھتے ہوئے دل کو لگتی بات یہی ہے کہ جمہور علمائے کرام کا اختیار کردہ جواز کا موقف درست اور راجح ہے۔ ہمارے زمانے میں فی الحال سرزمینِ حرمین پر سعودی خانوادے کی حکومت پائی جاتی ہے اور حکومت کی طرف سے مدینہ منورہ میں غیر مسلموں کے داخلہ پر پابندی لگی ہوئی ہے۔ اس کی توجیہ میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک مسلم حکمراں کی رائے پر مبنی فیصلہ ہے بایں طور کہ انہیں مسلمانوں کی اجتماعی مصلحت اسی میں نظر آئی کہ وہاں غیر مسلموں کو نہ جانے دیا جائے، مزید برآں وہاں غیر مسلموں کو جانے کی ضرورت بھی کیا ہے؟
تاہم یہ ایک بیکار کا عذر ہے کہ حکومتِ وقت نے کوشش کرکے وہاں کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی ہے جس کی خاطر غیرمسلمین کا وہاں جانا درست ومعقول لگتا ہو۔ بس اتنا کہناکافی ہے کہ ایک اسلامی حکومت نے اس میں اجتماعی مصالح کو مدِ نظر رکھا ہے اور یہ پابندی عائد کر دی ہے۔
ویسے بھی عہدِ رسالتﷺ میں غیر مسلموں کو مدینہ منورہ میں جانے کی ضرورت اسی لیے پیش آتی تھی تاکہ اللہ کے رسولﷺ کے ساتھ اپنے معاہدات وغیرہ سے متعلق گفتگو کر سکیں اور اپنے قبائل یا علاقوں کے سربراہوں کے خطوط وپیغامات خدمتِ رسالتﷺ میں پیش کر سکیں۔ انہیں ذاتِ رسالتﷺ ہی سے ان پیغامات کے جوابات بھی لینے ہوتے تھے، اس میں ضمنی طور پر اسلامی دعوت کے سننے اور اسلام سے متعلق سوالات کرنے کا موقعہ بھی نکل آتا تھا۔ یہ اللہ کے رسولﷺ کی عظمت ومرتبہ کے شایانِ شان ہرگز نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ ہر غیرمسلم ایلچی یا سائل سے گفت وشنید کرنے کے لیے مسجد سے باہر تشریف لاتے۔ کہنے کامقصد صرف اتنا ہے کہ اس زمانے میں غیر مسلموں کا مدینہ منورہ میں داخلہ زیادہ بڑے اجتماعی وملّی مصالح کا تقاضا تھا، جبکہ آج مذکورہ بالا جملہ ضروریات دوسرے شہروں میں یا خود اپنے شہر میں تکمیل پاسکتی ہیں۔ (احکام اہل الذمۃ:۱/۱۹۱)
اب اگر کہا جائے کہ مسجدِ نبوی میں بھی غیر مسلموں کو داخل ہونے اور بیٹھنے اور دیکھنے سننے کی اجازت دی جائے تو ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے کوئی ایسی مصلحت روبہ تعمیل ہوتی نظر نہیں آتی جو بہت ضروری ہو۔ تاہم اگر ملی مصالح اور اجتماعی مفادات کا تقاضا ہو تو حکومت کی اجازت لے کر وہاں غیر مسلموں کو داخل ہونے دیا جاسکتا ہے۔
ہم اوپر لکھ آئے ہیں کہ اس مسئلہ میں ہمارے نزدیک جمہور فقہائے کرام کی رائے ہی راجح ومضبوط ہے، لیکن ہمارے زمانے کو دیکھتے ہوئے ہم چاہتے ہیں کہ مدینہ منورہ اور مسجدِ نبوی کے ساتھ جو تعامل چلا آرہا ہے، یعنی کہ وہاں غیر مسلموں کو داخل نہیں ہونے دیا جاتا، اسے جوں کا توں باقی رکھا جائے کیونکہ فی الحال ان کے داخلہ سے اسلام اور مسلمانوں کی کوئی مصلحت روبہ تحقیق نہیں ہوتی، بلکہ الٹا اس بات کا ڈر ہے کہ گلوب لائیزیشن کے زمانے میں جس طرح روپے پیسے کی ارزانی ہوئی ہے اور سائنسی ترقی سے زندگی کی رفتار جس طرح تیز ہوگئی ہے، اسے دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ اگر مسجدِ نبوی کو غیرمسلموں کے لیے کھول دیا جائے تو وہ اچھا خاصہ ’’ٹورسٹ اسپاٹ‘‘بن جائے گا جس سے وہاں کا دینی وروحانی ماحول بھی متاثر ہوگا، مزید یہ کہ حج اور عمرہ پر جانے والے مسلمانوں کو بھی تنگی وپریشانی کی شکایت ہوگی۔
سب سے بڑی بات یہ ہے کہ غیر مسلموں میں سے ہر قوم کا رہن سہن اور لباس وطعام کا الگ انداز ہوتا ہے، مسجدِ نبوی یا مدینہ منورہ میں داخل ہونے کے لیے یا تو غیر مسلموں پر لباس ومعاشرت اور رہن سہن اور کھانے پینے کی پابندیاں عائد کی جائیں گی یا پھرسرے سے ان تمام جھنجھٹ بازیوں کو درکنار کرتے ہوئے انہیں نہیں آنے دیا جائے۔ ہماری سمجھ سے زیادہ آسان راہ دوسری ہے۔
ایک اور بات یہ کہ مسجدِ نبوی کی اپنی کچھ خصوصیات وامتیازات ہیں جو کسی اور مسجد کو حاصل نہیں ہیں، ان خصائص وتفردات کا ادنیٰ سا تقاضا یا حق یہ بھی ہے کہ اسے دوسری مساجد سے کسی درجہ علیحدہ وممتاز رکھا جائے۔ غیر مسلموں کو وہاں داخل نہ ہونے دینے کے رویہ کو کسی درجہ ان خصائص وامتیازات کے حوالے سے جواز بخشا جاسکتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
