سیرتِ رسولِ اکرمﷺ کی اجمالی جھلک
٭ولادت:
آنحضرتﷺکی ولادت باسعادت پیر کے روز صبحِ صادق کے وقت ۹ربیع الأول یا ۱۲ ربیع الأول کو عام الفیل کے ایک سال بعد مقام مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ سنہ عیسوی کے لحاظ سے یہ ۲۰ اپریل ۵۷۰ء بنتا ہے۔
٭رضاعت یا شیر خواری:
آپﷺ کو ولادت کے بعد دوتین روز تک والدہ ماجدہ حضرت آمنہ بنت وہب نے دودھ پلایا، اس کے بعدمرحوم والد عبداللہ کی آزاد کردہ کنیز حضرت ثویبہ نے اور بعد ازاں حضرت حلیمہؓ سعدیہ نے آپﷺ کو دودھ پلایا ہے۔ آپﷺ اپنی عمر کے ابتدائی چار پانچ سال تک دائی حلیمہؓ کے یہاں ہی پرورش پاتے رہے تھے۔
٭والدہ کی وفات:
چھ سال کی عمر میں آپﷺ کی والدہ کی وفات مکہ اور مدینہ کے بیچ ایک مقام ’’ابوائ‘‘ میں ہوگئی۔ اس کے دوسال بعد تک آپﷺ اپنے دادا حضرت عبدالمطلب کی کفالت ونگہ داشت میں رہے اور ان کی وفات کے بعد آپﷺ کی کفالت کی ذمہ داری آپ کے سگے چچا حضرت ابوطالب نے اپنے ذمہ لے لی۔
٭سفرِ شام:
آپ نے ملکِ شام کے دوسفر کئے ہیں۔ پہلا سفر بارہ سال کی عمر میں اپنے چچا حضرت ابوطالب کے ہمراہ کیا تھا۔ اسی سفر میں ’’بحیرا‘‘ نامی ایک عیسائی راہب نے آپﷺ کے بارے میں نبوت کی پیشین گوئی کی تھی۔ دوسرا تجارتی سفر آپ نے ۲۲-۲۳ سال کی عمر میں کیا۔ اس سفر میں ایک اور عیسائی راہب ’’نسطورا‘‘ نے آپﷺ کو دیکھ کر نبی ہونے کا یقین کیا تھا۔
٭نکاح:
دوسرے سفرِ شام سے لوٹنے کے دوتین ماہ بعد ہی پچیس سال کی عمر میں آپﷺ کا نکاح حضرت خدیجہؓ الکبری سے ہوگیا۔ اس وقت حضرت خدیجہؓ کی عمر چالیس سال تھی یعنی وہ آپ سے کل پندرہ سال بڑی تھیں۔ آپؓ کے نکاح کی مہر بیس اونٹ طے پائی تھی۔ آپؓ کی ساری اولاد سوائے حضرت ابراہیم کے، حضرت خدیجہؓ کے بطن ہی سے تولد پذیر ہوئی.
٭نبوت ورسالت:
چالیس سال اور ایک دن کی عمر ہونے کے بعد آپﷺ کو نبوت ورسالت سے نوازا گیا۔ قمری سال کے مطابق یہ پیر کا دن ۹ ربیع الاول تھا جو ۱۲فروری ۶۱۰ء کے مطابق ہے۔
٭تبلیغِ اسلام:
نبوت کے معاً بعد آپﷺ نے تبلیغِ اسلام شروع فرمادی۔ خفیہ تبلیغ کے نتیجے میں پہلے پہل حضرت خدیجہؓ، حضرت ابوبکرؓ، حضرت علیؓ بن ابی طالب اور حضرت زیدؓ بن حارثہ ایمان کی دولت سے مشرف ہوئے۔ آئندہ تین سال تک خفیہ دعوت وتبلیغ کا سلسلہ چلتا رہا۔ اس دوران اسلامی دعوت کا سینٹر حضرت ابو ارقمؓ کا مکان بنا رہا تھا۔ اس مدت میں کل ۴۰ حضرات ایمان لائے تھے جن میں حضرت عثمانؓ بن عفان اور حضرت زبیرؓ بن العوام کا نام سرِ فہرست آتا ہے۔
٭اعلانِ عام:
نبوت ملنے کے تین سال بعد آپﷺکو علانیہ دعوتِ اسلام کا حکم ہوا۔ اس کے بعد آپﷺ کوہِ صفا پر تشریف لے گئے، وہاں قریش کے ایک ایک خاندان کو نام بہ نام پکارا، خطابِ عام فرمایا اور اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہوئے اسلام میں داخل ہونے کی دعوت دی۔ سننے والوں میں سب سے پہلے آپﷺکے کافر چچا ابولہب نے آپﷺ کی تکذیب کی تھی۔
٭ملکِ حبشہ کی پہلی ہجرت:
نبوت کے چھ سال بعد جب قریش نے مسلمانوں پر جسمانی تشدد کی راہ اختیار کی تو آپﷺ نے مسلمانوں کو قریب ہی واقع عیسائی ملک حبشہ (فی الحال ایتھوپیا) کی طرف ہجرت کرجانے کی ہدایت فرمائی۔ چنانچہ آپﷺ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے کل ۱۵ مہاجرین مرد وعورت حبشہ ہجرت کر گئے۔
٭حضرت حمزہؓ وحضرت عمرؓ کا قبولِ اسلام:
نبوت کے چھ سال گزرجانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی توفیق سے حضرت حمزہؓ اور ان کے تین دن بعد حضرت عمرؓ کو اسلام میں داخل ہونا نصیب ہوا۔ ان دونوں بہادروں کے دائرۂ اسلام میں آجانے سے اسلام اور اہلِ اسلام کو بڑی تقویت ملی تھی۔
٭حبشہ کی دوسری ہجرت:
نبوت کے سات سال گزرجانے کے بعد جب اہلِ مکہ کی طرف سے جسمانی تشدد واذیت کی انتہا کردی گئی تو آپ ﷺنے مسلمانوں کو دوبارہ ملکِ حبشہ ہجرت کرجانے کی اجازت عطا فرمائی۔ اس بار مہاجرین کی کافی تعداد وہاں کے لیے روانہ ہوئی تھی، ان کی رہنمائی کے لیے حضرت جعفرؓ بن ابی طالب کو امیر مقرر کیا گیا تھا اور انہی کے ہاتھ پر شاہِ حبشہ حضرت نجاشیؓ مشرف باسلام ہوئے تھے۔
٭مقاطعہ وسماجی بائیکاٹ:
مسلمانوں کے حبشہ ہجرت کرجانے اور وہاں سکون سے رہنے کی وجہ سے قریش سخت برہم تھے۔ اسی برہمی اور انتقام کا اظہار تھا کہ تمام مسلمانوں اور بنو ہاشم کے جملہ افراد کو شہر بدر کردینے کی تجویز پاس کی گئی اور اسے دینی تقدس فراہم کرانے کے لیے خانۂ کعبہ میں آویزاں کردیا گیا۔ اس طرح عام مسلمان اور خاندانِ بنوہاشم کے جملہ افراد سنہ ۷نبوی سے سنہ ۱۰ نبوی تک حضرت ابوطالب کی وادی میں سب سے الگ تھلگ محصور رہے۔
٭غموں کا سال:
نبوت کے دسویں سال میں شعبِ ابی طالب میں محصوری کا کامل تین سال بعد خاتمہ ہوگیا، لیکن ساتھ ہی آپﷺ کی مشکلات اور آزمائشوں میں اضافہ بھی ہوگیا۔ یہی وہ سال ہے جس میں آپﷺ کا دفاع کرنے والے مشفق چچا ابوطالب اور ہر غم کی شریک بیوی حضرت خدیجہؓ کا انتقال ہوگیا۔ بایں ہمہ اس سے آپﷺ کی عزیمت میں کوئی فرق واقع نہیں ہوا۔
٭طائف کا سفر:
سن دس نبوی ہی میں آپﷺنے بہ غرضِ دعوت وتبلیغ شہرِ طائف کا سفر کیا۔ اسی سال ۲۷ رجب میں شبِ معراج واقع ہوئی اور اسی سال مدینہ منورہ سے دو لوگ آپﷺ کی خدمت میں تشریف لائے اور مشرف بہ اسلام ہوئے۔
٭مدینہ میں اسلام:
نبوت کے گیارہویں سال چھ نفوس پر مشتمل ایک وفد مکہ آیا، مسلمان ہوا اور داعیِ اسلام بن کر واپس ہوا۔ اگلے سال یعنی بارہویں سال میں بارہ آدمیوں کا وفد آیا اور اسلام کی دولت سے بہرہ ور ہوا اور آپﷺ سے بیعت کی۔ یہی بیعت تاریخ میں ’’بیعتِ عقبہ اولیٰ‘‘ کہلاتی ہے۔
٭دعوتِ ہجرت:
سن ۱۳نبوی میں مدینہ سے ۷۳ حضرات آئے اور اسلام کی بیعت آپﷺکے ہاتھوں پر کی۔ یہی ’’بیعتِ عقبہ ثانیہ‘‘ کہلاتی ہے۔ انھوں نے آپﷺ کو مع رفقاء مدینہ منورہ تشریف لانے کی دعوت دی جسے حکمِ الٰہی کے تحت آپﷺنے قبول فرمالیا۔
٭ہجرتِ مدینہ:
رفتہ رفتہ مسلمان مدینہ کو جانے لگے تاآنکہ مکہ میں صرف آپﷺ، حضرت ابوبکرؓ اور حضرت علیؓ ہی رہ گئے۔ بالآخر آپﷺ بھی سن ۱۳نبوی میں ۲۷ صفر کی شب مکہ سے غارِ ثور میں منتقل ہوگئے اور وہاں تین دن رہ کر مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوگئے۔ ۸ ربیع الاول بروز پیر قبا اور ۱۲ ربیع الاول بروز جمعہ مدینہ منورہ میں داخل ہوئے۔
٭ہجرت کے ایک سال کے اندر ہی مسجدِ نبوی کی تاسیس ہوئی، مہاجرین وانصار میں مواخات کرائی گئی، اہلِ مدینہ اور ملحقہ یہودی ومشرک قبائل سے معاہدے کئے گئے اور کچھ دستے بطور طلایہ گردی مدینہ کے اطراف میں بھیجے گئے۔
٭ہجرت کے دوسرے سال میں اذان کا حکم ہوا، روزے فرض ہوئے، غزوۂ بدر ہوا۔ ۳ھ میں زکات فرض ہوئی، شراب حرام ہوئی، غزوۂ احد ہوا اور وراثت کے احکام نازل ہوئے۔
٭۴ھ میں دو زہرہ گداز حادثات یعنی واقعہ ’’رجیع‘‘ اور واقعۂ ’’بئرِ معونہ‘‘ پیش آئے جن میں کفار نے دھوکہ دے کر حفاظ صحابۂ کرام کو شہید کیا تھا۔ ۵ھ میں غزوۂ خندق ہوئی اور ۶ھ میں کفارِ قریش کے ساتھ صلحِ حدیبیہ کا معاہدہ عمل میں آیا۔
٭۷ھ میں شاہانِ عالم کو دعوتی خطوط بھیجے گئے، ۸ھ میں مکہ مکرمہ فتح ہوا۔ ۹ھ میں غزوۂ تبوک پیش آیا۔ ۱۰ھ میں حجۃ الوداع ہوا۔
وفات:
۱۱ھ میں ۲۸ صفر کو مرض الوفات لاحق ہوا اور ۶۳ سال چار دن کی عمر پاکر ۱۲ربیع الاول بروز دوشنبہ چاشت کے وقت آپﷺ اپنے رفیقِ اعلیٰ سے جاملے۔ إنا للہ وإنا إلیہ راجعون۔
یہ اللہ کے رسولﷺ کی زندگی کا اجمالی خاکہ ہے جو بہرحال آپﷺ کی مکمل سیرت کے مطالعہ سے مستغنی نہیں کرسکتا ہے، سوال یہ ہے کہ ہم فالتو سوشل میڈیائی مصروفیات میں لگنے کے بجائے کیا اپنے حبیب ﷺ کی سیرت جاننے کے لیے کچھ وقت نکالنے پر آمادہ ہیں؟
قرآن کی فریاد👇
