You are currently viewing دین کی تجدید

دین کی تجدید

دین کی تجدید

ذکی الرحمٰن غازی مدنی
جامعۃ الفلاح، اعظم گڑھ

غالب مغربی تہذیب وثقافت کے باجگزار مسلم مکاتبِ فکر کی کوشش رہتی ہے کہ شریعت کے مشہور تصورات ومصطلحات جیسے کہ وسطیت واعتدال، تجدیدِ دین اور مقاصدِ شریعت وغیرہ کو غلط اغراض وغایات کے لیے استعمال کیا جائے۔ انہی تخریبی وتحریفی کوششوں کی ایک کڑی دین میں تجدید کا وہ مفہوم ہے جس پر یہاں گفتگو مدِ نظر ہے۔

علومِ شرعیہ میں تجدید اور علومِ سماجیات میں تجدید،دونوں کے مفہوموں میں جوہری اور بنیادی فرق پایا جاتا ہے۔ ان دونوں مفہوموں کا باہم تقابلی مطالعہ کرنے کے لیے دونوں میدانوں سے ایک ایک نمائندہ مثال لیں اور ان کا موازنہ کریں۔ علومِ شرعیہ کے نمائندے کے طور پر ہم امام شافعی کو لیتے ہیں اور علومِ آلیہ کے نمائندے کے طور پر ہم البرٹ آئنسٹائن کو لیتے ہیں۔ ان دونوں کو اہلِ اختصاص نے اپنے اپنے میدانوں میں اختراع وایجاد کا شعلۂ جوالہ سمجھا ہے اور وسیع تر مفہوم میں اپنے اپنے میدانوں کی صدارت وامامت کا منصب ان کی نسبت سے تسلیم کیا ہے۔

مگر جب ہم ان دونوں حضرات کے علمی منہج اور طریقۂ کار پر غور کرتے ہیں جس پر چل کر انہوں نے اپنے اپنے میدان میں وہ کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں جن پر ایک دنیا انگشت بہ دنداں ہے،تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں کا علمی منہج ایک دوسرے کی عین ضد واقع ہوا ہے۔ اگر ہم دونوں کے علمی منہجوں کو ایک ساتھ سامنے رکھیں تو ہمیں دو سڑکیں نظر آتی ہیں جن میں ایک جس منزل کی طرف جارہی ہے تو دوسری اسی کے مبدأ کی طرف اپنا رخ کیے ہوئے ہے۔سیدھے الفاظ میں کہیں تو آئن سٹائن کے سر پر یہ دھن سوار تھی کہ اپنے زمانے کے رائج تصورات ومفروضات کو لانگھ جائے اور کچھ ایسے نظریات ایجاد کرے جو ابھی تک کسی نے دریافت نہ کیے ہوں۔ اس کے برعکس امام شافعیؒ کے سر پر یہ دھن سوار تھی کہ ماضی کے تمام مفاہیم ونظریات کو دوبارہ زندہ کردیں اور ان پر چڑھے ہوئے غبار کو چھان پھٹک کر صاف کر دیں اور دین کے نام پر پیدا ہونے والے جدید افکار ونظریات کا تتبع کرکے ان کے خاتمے کی کوشش کریں۔

یہ دونوں حضرات کے علمی منہج کا بُعد اور تفاوت ہے۔ اس کے باوجود دونوں شخصیتیں انسانیت کے احترام اور شکریے کی مستحق قرار پاتی ہیں۔ ہم امام شافعیؒ کی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے انسانیت کو شریعت کے اوریجنل تصورات ومفاہیم سے روشناس کرایا تھا،اور آئن سٹائن کا احترام کرتے ہیں کیونکہ اس نے موروثی نظریات ومفروضات کی زنجیروں سے ہمیں آزاد کیا تھا۔یہی وہ جوہری اور بنیادی فرق ہے جو جدید اسلامی افکار کے خودرو جنگل میں کہیں گم ہوگیا ہے۔ فرق یہ ہے کہ تمدنی علوم وفنون میں جدت پسندی اور تفنن اس بات کی دلیل ہے کہ ملت کی تخلیقی صلاحیت مردہ نہیں ہوئی،جب کہ علومِ شرعیہ میں جدت پسندی اور تفنن اس بات کی دلیل ہے کہ مسلم معاشرہ انحطاط اور پستی سے دوچار ہے۔

نبیِ کریمﷺ نے اسی لیے اپنی امت کے سامنے یہ دونوں برعکس مناہج دواور دو چار کی طرح نمایاں فرما دیے ہیں۔تمدنی علوم وفنون کے تعلق سے فرمایا کہ تم اپنی دنیا کے معاملات کو زیادہ سمجھنے والے ہو۔[أنتم اعلم بأمر دنیاکم](صحیح مسلمؒ: ۲۳۶۳ عن عائشہؓ وانسؓ) اور علومِ شرعیہ کے بارے میں فرمادیا ہے کہ جو ہمارے اس معاملے میں کوئی ایسی چیز ایجاد کرے جو پہلے سے اس میں نہ تھی تو وہ مردود ہے۔ [من أحدث فی أمرنا ہذا ما لیس منہ فہو رد](صحیح بخاریؒ:۲۶۹۷۔ صحیح مسلمؒ:۱۷۱۸ عن عائشہؓ)

گویا علومِ شرعیہ میں ابداع واختراع کا مطلب یہ ہے کہ دوبارہ قرنِ اول کے معاشرے کو جیتی جاگتی تصویر بنا دیا جائے، یعنی زندگی کے تمام مسائل ومعاملات کو نبیﷺ اور صحابۂ کرامؓ کے منہج اور طریقے پر ڈال دیا جائے۔جب کہ تمدنی ترقی میں مدد دینے والے علوم وفنون کے اندر ایجاد واختراع یہ ہے کہ ماضی کی جکڑبندیوں سے آزاد ہوا جائے اور نیا کچھ پیدا کیا جائے۔

یہ جوہری فرق علومِ شرعیہ اور علومِ مدنیہ کی ترکیب میں پایا جاتا ہے جس سے ہمارے جدید مفکرین کی خاصی بڑی تعداد چشم پوشی کیے ہوئے ہے۔بلکہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے مفکرین نے اس فرق کو بالکل اُلٹ دیا ہے۔چنانچہ علومِ مدنیہ میں ان کے پاس درآمد کرنے اور نقالی کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ دنیاوی ترقی سے متعلق علوم وفنون میں ان مفکرین اور ان کے ہم نوائوں کی کوئی قابلِ ذکر خدمت ابھی تک دنیا نہیں دیکھ سکی۔ یہ لوگ اس پر ہرگز زور نہیں دیتے کہ فکری ماتھا پچی کرنے کے بجائے ہمیں مادی اور معاشی ترقی پر دھیان دینا چاہیے۔ اس کے برخلاف علومِ شرعیہ میں ان کے پاس اختراع وایجاد اور جدت وتفنن کے علاوہ تقلید اور پیروی نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ یہی چیز ہے جو ان کے طریقۂ کار کو نبیﷺ اور صحابۂ کرامؓ کے منہج سے جدا کرتی ہے۔

باشعور قارئین نے یہ بات نوٹ کر لی ہوگی کہ علومِ شرعیہ میں تجدید کا جو مفہوم ہے وہ علومِ مدنیہ میں تجدید کے مفہوم سے بالکل برعکس ہے۔ علومِ شرعیہ میں تجدید کا مطلب ہے ہر نئی چیز کو نکال باہر کرنا اور دین کو خالص اور بے شائبہ باقی رہنے دینا۔ جب کہ علومِ مدنیہ میں تجدید کا مطلب ہے نئی نئی چیزیں ایجاد کرنا اور انہیں سماجی خوشحالی کے لیے استعمال میں لانا۔

علومِ شرعیہ میں تجدید کی انقلابی تفسیر جو آج کل ہمارے فکری حلقوں میں پیش کی جاتی ہے یہ دراصل علومِ مدنیہ (مثلاً فلسفہ اور علمی نظریات)کی تاریخ کے مطالعے سے غلط تاثر کا نتیجہ ہے۔ جس طرح علومِ مدنیہ کو یوروپ میں کلیسا کے ہاتھوں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا،ٹھیک وہی کہانی ہمارے مفکرین علومِ شرعیہ کے تعلق سے مسلم ممالک میں بھی دہرانا چاہتے ہیں۔ چنانچہ انقلاب، تختہ پلٹ، بنیادی بدلائو اور نظریاتی بغاوت کے تصورات کو یہ علومِ شرعیہ کے تناظر میں رو بہ کار ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بڑی خطرناک غلطی ہے کیونکہ علومِ مدنیہ میں تو یقینا اختراع وایجاد کی قدر کی جاتی ہے کہ یہی اس کا اصل میدانِ عمل ہے، مگر دینی مفاہیم ومعانی کے اندر اختراع وابداع ٹھیک نہیں۔اس میدان میں تو تجدید وابداع یہ ہے کہ امرِ اول یعنی دین کی اوریجنل صورت کی طرف لوٹنے کی ہمارے اندر قدرت اور طاقت پیدا ہوجائے۔ علومِ شرعیہ میں ایجاد وابتکار زیادہ سے زیادہ وسائل وذرائع میں ہو سکتا ہے،اصولی تصورات ومعتقدات میں بالکل نہیں۔بلکہ اگر کوئی دین کے بنیادی تصورات میں اختراع وتجدید کی بات کرتا ہے تو یہ دین میں بدعت پیدا کرنا ہے اور ایک مذموم ومکروہ عمل ہے۔

اسی لیے اللہ کے رسولﷺ نے علومِ شرعیہ میں کشتیِ نوح کو اس طرح بیان فرمادیا ہے کہ ’’نجات پانے والے وہ لوگ ہونگے جو اُس دین پر قائم رہیں جس پرمیں اور میرے اصحاب ہیں۔‘‘ [ہم من کان علی مثل ما أنا علیہ الیوم وأصحابی] (المعجم الاوسط، طبرانیؒ:۴۸۸۶ بہ روایت انسؓ بن مالک)

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

جواب دیں