You are currently viewing حضرت تھانویؒ کی علماء و طلباء کو کچھ نصیحتیں

حضرت تھانویؒ کی علماء و طلباء کو کچھ نصیحتیں

ملفوظات حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ 

(علماء و طلباء کیلئے مفید اور کار آمد باتیں، کچھ نصیحتیں کچھ مشورے) 

عظمت سلف صالحین

فرمایا ایک بات اہل علم کے کام کی  بتلاتا ہوں کہ دین پر عمل کرنے کا مدار سلف صالحین کی عظمت پر ہے اس لئے حتی الامکان ان پر اعتراض و تنقیص کی آ   نچ   نہ آنے دینا چاہئے ۔

مولوی

مولوی ہونا کوئی خوشی کی بات نہیں دیندار ہونا خوشی کی بات ہے۔

زیادہ کھانا

زیادہ کھانے سے جسم تازہ اور قلب مکدر ہوتا ہے اور کم کھانے سے جسم کمزور ہوجاتا ہے مگر قلب کو تازگی ہوتی ہے۔

صحبت کی ضرورت

علم اور اس کے ساتھ صحبت کی بڑی ضرورت ہے ،صحبت سے واقفیت بھی ہوتی ہے اور عمل کے ساتھ مناسبت بھی ہوتی ہے ۔ بڑی ضرورت ہے شیخ کی ، نری کتابیں کافی نہیں ۔

پڑھنے سے زیادہ سمجھنا

مولانا محمد قاسم صاحب فرمایا کرتے تھے : کہ پڑھنے سے زیادہ گننا(سمجھنا) چاہئے،ایک شخص پڑھا ہوا ہے اور ایک گنا(سمجھا) ہوا دونوں میں بڑا فرق ہے ، گننا صحبت سے آتا ہے ۔

علماء کا وصف

علماء کا ہمیشہ غریب ہی رہنا اچھا ہے ،جس قوم اور جس مذہب کے علماء امیر ہوئے وہ مذہب برباد ہوگیا ۔

قناعت

آدمی قناعت اور اکتفا کرلے اور ضروری سامان کے ساتھ رہے تو تھوڑی آمدنی میں بھی رہ سکتا ہے اور فرض منصبی کو بھی ادا کرسکتا ہے ۔

حرص و کبر

دو چیزیں اہل علم کے واسطے بہت بری معلوم ہوتی ہیں حرص اور کبر ،یہ ان میں نہیں ہونا چاہئے۔

پنسل اور کاغذ

مناسب ہے کہ پنسل اور کاغذ جیب میں پڑا رہے جس وقت جو مضمون ذہن میں آئے اس کا اشارہ لکھ لیا جائے پھر دوسرے وقت ان میں ترتیب دے دی جائے ، چنانچہ میری جیب میں پنسل اور کاغذ پڑا ہے ورنہ بعض مضامین ذہن میں آتے ہیں اور پھر نکل جاتے ہیں ۔

امام مالک

امام مالکؒ کی خدمت میں ایک بزرگ نے لکھا کہ ہم نے سنا ہے کہ آپ عمدہ کپڑے پہنتے ہیں،بزرگوں کی کیا یہی شان ہوتی ہے ؟ حدیثیں موجود تھیں اگر چاہتے تو ثابت کردیتے مگر یہ فرمایا: نعم نفعل ونستغفر یعنی ہم کرتے ہیں اور اپنے کو گنہگار سمجھ کر استغفار کرتے ہیں ،کوئی تاویل نہیں۔

ضروری کام لکھ لو

کثیر الاشغال (بہت زیادہ مصروف) شخص کو زبانی یاد پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے بلکہ ضروری کاموں کو لکھ لینا چاہئے ۔

کام

تحمل سے زیادہ اپنے ذمہ کام نہ لو ۔

بیکار وقت

بیکار وقت کھونا نہایت برا ہے اگر کچھ کام نہ ہوتو انسان گھر کے کام میں لگ جائے گھر کے کام میں لگنے سے دل بہلتا ہے اور عبادت بھی ہے ،مجمعوں میں بیٹھنا خطرہ سے خالی نہیں کسی کی حکایت بعض مرتبہ غیبت کی نوبت آجاتی ہے اس سے اجتناب ضروری ہے ۔

ملنا جلنا

ملنے جلنے میں ہزارہا مفاسد ہیں اختلاط سے سینکڑوں خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں بس اپنے اپنے کام میں مشغول رہنا چاہئے ۔

مخلوق کی فکر نہ کرے

آدمی سب کو خوش رکھے یہ ہو نہیں سکتا ، جب ہر حال میں اس پر برائی آتی ہے تو پھر اپنی مصلحت کو کیوں فوت کرے ، جس کام میں اپنی مصلحت اور راحت دیکھے بشرط اذن شرعی وہی کرے ،کسی کے بھلائی برائی کا خیال نہ کرے ،مخلوق کے برا کہنے کا خیال نہ کرے حق تعالیٰ سے معاملہ صاف رکھنا چاہئے ۔(بحوالہ العلم و العلماءص:۳۴۳،۳۴۲)

[اس ویب سائٹ(علم کی دنیا) پر ہر طرح کے علمی ،فکری ،دینی،ادبی اور سائنسی تازہ ترین مضامین جو مختلف اہل علم قلم کاروں کے تحریر کردہ ہوتے ہیں شائع کئے جاتے ہیں ، جس سے ملک و بیرون ملک کی ایک بڑی تعداد مستفید ہوتی ہے ،

آپ بھی استفادہ کی خاطر اس ویب سائٹ سے جڑے رہیں ، جڑے رہنے کیلئے گھنٹی والے لال بٹن کو کلک کرکے سبسکرائب کرلیں تاکہ جیسے ہی کوئی مضمون اپڈیٹ ہو آپ کو فوراً اطلاع مل سکے۔ منتظمین علم کی دنیا ڈاٹ اِن ]

جواب دیں